تازہ ترینخالد محمود ساحر

ٹھنڈی لاشیں….خالد محمود ساحر

جنوری کی جما دینے والی سردی میں خون آلود لاشیں کسی آبی پرندے کے گرم جسم کی طرح جو شکاری کی گولی کا نشانہ بنا ہو خون کے سمندر میں تیر رہی تھیں.جب رضا کار سٹریچر لے کر کمرے میں داخل ہوئے کئی افراد خون میں لت پت ادھر ادھر ایسے پڑے تھے جیسے ہولی کھیلنے کے بعد تھک کر لیٹے ہوئے ہو۔
”جسم سے اتنا خون تب نکلتا ہے جب کوئی خوشی خوشی اللہ کی رضا پر راضی ہوجاتا ہے”
سب کے ہاتھ پیچھے باندھ کر ان کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئی تھیں اور ان کی گردنیں تیز دھار آلے سے ایسی کاٹی گئی تھی جیسے ان کے ساتھ کسی کی کوئی ذاتی دشمنی ہو
”ذاتی دشمنی”
ہاں ذاتی دشمنی
”مگر ان معصوم کان کنوں کی کس سے ذاتی دشمنی ہوسکتی ہے؟ ”
رزق حلال کی تلاش میں گھر سے دور کوئلے کے کان پر کام کرنے والے یہ دس لوگ ”سبیل اللہ” کے مسافر تھے۔مسافروں کا کسی سے کیا غرض۔سر راہ ملنے والوں سے یہ نہ دوستی کرپاتے ہیں نہ دشمنی بس اپنے منزل کی طرف بڑھتے رہتے ہیں ” تو کیا ان کو ان کی منزلیں مل گئیں؟ ”
نہیں!
”تو پھر کیا تھی ان کی منزلیں؟ ”
ان دس آدمیوں میں ایک کریم بخش تھے جو کوئلے کے کان میں کام کرکے اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے تھے۔کریم بخش اپنی بڑی بیٹی ریحانہ کو جو چھٹی جماعت میں پڑھتی ہے ڈاکٹر کے روپ میں لوگوں کی خدمت کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا یہی اسکا خواب تھا یہی اسکی منزل تھی۔
وہ سب اپنی اپنی منزلوں کے متلاشی تھے۔
”کیا منزل کے ان متلاشیوں کا سفر رائیگان چلا گیا؟ ”
نہیں بالکل نہیں! مظلوم کا خون کبھی رائیگان نہیں جاتا۔
”تو کیا ریحانہ کے والد مظلوم تھے؟ ”
ہاں ریحانہ کا والد مظلوم تھا۔کوئلے کے کان میں کام کرنے والے وہ سارے آدمی مظلوم تھے جنہیں ظالموں نے درمیانی شب ان کے کمرے میں گھس کر قتل کردیا ان میں سے چند کے سر قلم کئے۔وہ سب مظلوم تھے۔
روزگار کی تلاش میں نکلے ہوئے وہ بے ضرر مسافر ظالم کی تیز دھار چھری کے مستحق نہیں تھے ان کا انجام یہ نہیں تھا۔”اللہ نے ظالموں کے خلاف لڑنے کا حکم دیا ہے کیا ہم ظالموں کے خلاف حکم الہی کے مطابق نہیں لڑیں گے؟ ”
نہیں!
”کیوں؟”
کیونکہ ہم ظالم کے کردار سے ناواقف ہیں ہم نہیں جانتے کہ ظالم کون ہے کس شکل میں ہے ہماری صفوں میں موجود ہے یا صفوں سے باہر ہے ہم اسکے خلاف برسر پیکار ہونا چاہتے ہیں لیکن اسکا چہرہ کئی نقابوں میں چھپا ہوا ہے۔ہم سے ظالم اور مظلوم میں فرق کرنے کی صلاحیت چھین لی گئی ہے۔
”کس نے چھینا ہے اسکا ذمہ دار کون ہے؟ ”
اسکا ذمہ دار وہ مورخ ہے جس نے جابر کو جابر اور ظالم کو ظالم نہیں لکھا یا وہ حاکم ہے جس نے مورخ کو حقیقت گوئی سے روکا۔جس نے ظالم و جابر کے حقیقی کردار کو پس پردہ رکھا وہ قصور وار ہے۔
حضرت سعید بن جبیر نے جو ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن ممبر پر بیٹھے ہوئے حجاج بن یوسف کے بارے میں یہ الفاظ ادا کئے,” حجاج بن یوسف ایک ظالم شخص ہے”
جب حجاج کو معلوم ہوا کہ آپ ان کے بارے میں ایسا گمان رکھتے ہیں تو آپ کو دربار میں طلب کرکے پوچھا, ” کیا تم نے میرے متعلق ایسی باتیں کی ہیں؟ ” آپ نے جواب دیا کہ اس میں کوئی شک نہیں۔حجاج نے آپ کے قتل کا حکم دے دیا۔جب آپ کو قتل کرنے کے لئے دربار سے باہر لے جانے لگے تو آپ مسکرانے لگے۔حجاج نے واپس بلا کر مسکرانے کی وجہ پوچھی تو آپ نے جواب دیا کہ تمہاری بے وقوفی پر مسکرا رہا ہوں اللہ تمہیں ڈھیل دے رہا ہے اور تم غفلت میں مبتلا ہو۔
حجاج نے آپ کو دربار میں ہی زبح کرنے کا حکم صادر کیا۔جب آپ کے گلے پر خنجر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلے کی طرف کرکے دعا مانگی,”اے اللہ میرا چہرہ تیری طرف ہے تیری رضا پر راضی ہوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ہے نہ زندگی کا”
جب حجاج نے یہ سب سنا تو اسکا رخ قبلے کی طرف سے پھیرنے کا حکم دیا رخ پھیرا گیا تو آپ نے فرمایا ”،اے اللہ رخ جدھر بھی ہو تو ہر جگہ موجود ہے مشرق مغرب ہر طرف تیری حکمرانی ہے میری دعا ہے کہ میرا قتل اسکا آخری قتل ہو میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرما”
زبان سے یہ جملہ ادا ہوتے ہی آپ کو قتل کردیا گیا۔آپ کے خون سے سارا دربار تر ہوگیا خون کے اس سمندر کو دیکھ کر ایک آدمی نے کہا،
”اتنا خون تب نکلتا ہے جب کوئی خوشی خوشی اللہ کی رضا پر راضی ہوجاتا ہے”
حضرت سعید بن جبیر کی قتل کے بعد حجاج نفسیاتی پریشانی کا شکار ہوگئے اور اسی عارضے میں فوت ہوگئے اور سعید کا قتل ان کی زندگی کا آخری قتل ثابت ہوا۔
”کیا ہم بھی ظالم کا انجام خدا کے فیصلے پر چھوڑ دیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے کیا ہمارا کوئی فریضہ نہیں کیا ہم کچھ نہیں کرسکتے؟ ”
ہم ”نہی عن المنکر” سے کام لیں گے ہم چپ چھاپ دل ہی دل میں ایسے واقعات کی مذمت کریں گے اپنے آنسوؤں پی جائیں گے ہم ضبط سے کام لیں گے ہم ٹھنڈی لاشوں کو دفنا کر سر جھکائے گھر لوٹیں گے اور گھر پہنچتے ہی ہماری نظر ٹی وی پر چلنے والی ایک اور حادثے کی خبر پر پڑے گی,
” نامعلوم افراد نے اتنے لوگوں کو نشانہ بنایا”
ہم ٹھنڈی لاشیں اُٹھاتے رہیں گے حتی کہ ریحانہ کے والد کی طرح ہماری لاش کو کاندھا دینے کے لیے کوئی گھر والا نہیں ہوگا”

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى