وزیراعلیٰ محمود خان کے زیر صدارت محکمہ زکوٰة، عشر اور سماجی بہبودسے متعلق اجلاس

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے زکوٰة فنڈ سے مستحق افراد کے علاج معالجے کے معاملات محکمہ زکوٰة سے محکمہ صحت کو منتقل کرنے اورمستحقین کے علاج معالجے کی مد میں محکمہ زکوٰة کو ملنے والی رقم جہیز فنڈ میں ضم کرنے کا اُصولی فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو اس سلسلے میں مل بیٹھ کر لائحہ عمل طے کرنے اور جامع پلان منظوری کیلئے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے محکمہ زکوٰة کے حکام کو جہیز فنڈز کے تحت مستحق بچیوں کو ملنے والی تیس ہزار روپے کی رقم کو بڑھا کر کم سے کم ایک لاکھ روپے مقرر کرنے جبکہ محکمہ صحت کو مستحقین کے مفت علاج معالجے کے لئے الگ فنڈ قائم کرنے یا صحت کارڈ اسکیم کے تحت مستحقین کے مفت علاج معالجے کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے محکمہ زکوٰة کے حکام کو زکوٰة کے لیے مستحق افراد کی نشاندہی ، زکوٰة کی تقسیم کے عمل میں سو فیصد شفافیت کو یقینی بنانے اوراس میں سیاسی و انسانی مداخلت کو ختم کرنے کے لئے احساس پروگرام کے طرز پر ایک شفاف طریقہ کار وضع کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ، تاکہ حقداروں کو ان کی حق بغیر کسی تکلیف اور سفارش کے مل سکے۔ وہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ زکوٰة، عشر اور سماجی بہبودسے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر انور زیب کے علاوہ سیکرٹری سماجی بہبود منظور احمد اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو محکمہ میں متعارف کرائی گئی اصلاحات اور جملہ امور کی ڈیجیٹائزیش پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ محکمہ کے تحت خدمات کی آسان اور شفاف انداز میں فراہمی اور زکوٰة سے متعلق تمام امور میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے زکوٰة منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم پر عملدرآمد شروع کر دیا گیاہے جس کے ذریعے یتیموں، معذوروں، بیواو¿ں اور بے گھر افراد کا ڈیٹا بیس قائم کیا جائے گا جبکہ جہیز فنڈ کے لئے مستحق بچیوں کا ڈیٹا بھی نئے سرے سے اکھٹا کیا جارہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ محکمہ کے ذریعے مستحق افراد کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی سے متعلق معلومات، فنڈز کی یوٹیلائزیشن و منیجمنٹ اور مریضوں کی ٹریکنگ کے لیے زکوٰة ہاسپٹل مینجمنٹ اینڈانفارمیشن سسٹم بھی تیار کر لیاگیا ہے جس پربہت جلد عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔ زکوٰة اورفن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے صوبہ بھر سے 35000 یتیموں کا ڈیٹا مرتب کر لیا گیا ہے جسے منظوری کے لیے زکوٰة اینڈ عشر کونسل کو پیش کیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو فلاحی اداروں سے بھی یتیموں کا ڈیٹا لینے کی ہدایت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ عوامی آگہی کے لیے مستحق کے نام سے موبائل ایپ بھی تیار کر لی گئی ہے جو باقاعدہ افتتاح کے بعد گوگل پلے سٹور پر دستیاب ہوگی۔ مزید بتایا گیا کہ محکمہ کی مجموعی استعداد کار کو بہتر بنانے کیلئے محکمے کی تجدید کاری اور تشکیل نو کیلئے بھی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ گزارہ الاو¿نس کے بارے میں شرکاءکو بتایا گیا کہ گزارہ الاو¿نس مستحقین کا انتخاب زکوٰة منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے کیا جاتا ہے جبکہ گزارہ الاو¿نس کے تحت مستحقین کو دیا جانے والا ماہانہ وظیفہ ایک ہزار سے بڑھاکردوہزار کر دیا گیا ہے۔ دینی مدارس اور سرکاری سکولوں کے مستحق طلبہ کو ماہانہ دیا جانے والا وظیفہ بھی دو ہزار سے بڑھا کر تین ہزار کر دیا گیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔