تازہ ترینمنتخب کالم

چترال کے نوجوان خودکشیاں کیوں کر رہے ہیں؟ تحقیقی جائزہ

خواب پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتے، اس کے لیے حقیقی دنیا میں لڑنا پڑتا ہے اور ان سب کے لیے جینا اولین شرط ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں گذشتہ دو عشروں سے نوجوان بالخصوص بچیاں خود کو موت کے منہ میں جھونک رہی ہیں۔ 2007 اور 2011 کے درمیان 300 افراد نے خود کو ہلاک کیا جب کہ 2013 اور 2019 کے بیچ 176 کیسیز رپورٹ ہوۓ جو ساڑھے 4 لاکھ کی آبادی میں بڑی تعداد ہے۔ سماجی وجوہات اور ناقص رپورٹنگ کی بدولت خاطرخواہ تعداد میں کیسیز رپورٹ نہیں ہوتے۔

Advertisements

خودکشی کرنے والے افراد میں سے اکثریت %82  کی عمریں 15 سے 30 سال کے درمیان ہیں۔ %58 خواتین نے خود کی جانیں لی جن میں %55 شادی شدہ تھیں۔ مجوعی طور پر %36 وکٹمز دریائے چترال میں ڈوب کر اپنی جانیں لے لیں جن میں اکثریت  %77 خواتین شامل ہیں۔  %28 وکٹمز نے خود کو گولی سے اڑا دیا جن میں اکثریت %85 لڑکوں کی ہے۔ مرنے والوں میں سے باقی نے زہر کھا کر یا پھر گلے میں پھندا ڈال کر خود کو ہلاک کیا۔

چترال میں نوجوانوں کی خودکشیوں کو غربت اور گھویلو جھگڑوں سے جوڑا جاتا ہے۔ اس مسئلے کو فرنچ سوشیالوجسٹ ائمایل ڈرخائم کی تھیوری کے ذریعے واضح کیا جا سکتا ہے۔ اس تھیسِس کے مطابق جب معاشرے کم عرصے میں ڈراسٹک سماجی تبدیلی کا سامنا کرتے ہیں تو کلچر نوجوانوں کو مطلوبہ میننگ اور ریگولیشن مہیا کرنے میں ناکام پڑتا ہے۔ نتیجتاً  زندگی بےمعنی لگتی ہے اور فرسٹریشن میں اضافے سے نوجوانوں میں خودکشیوں کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔

چترال کا پدر سری روایتی معاشرہ بہت کم وقت میں تین بڑی سماجی تبدلیوں سے گزر چکا ہے؛ ۱، جب یہ ریاست سے پاکستان کا حصہ بن گیا، ۲، 1985 سے جب این جی اوز سماجی آگہی پر کام شروع کیے، ۳، سن 2000 کے بعد جب چترال میں تعلیمی اور ٹیلی کمیونیکیشن انقلاب امنڈ آیا۔ 

ان تمام تبدیلیوں سے ایک طرف معاشرہ مستفید ہوا تو دوسری طرف روایتی کلچر ٹرانزیشن مرحلے میں داخل ہوا، جہان فرسودہ روایات نوجوانوں کو پہلے جیسے میننگ اور ریگولیشن دینے میں ناکام پڑنے لگے، جسے سوشیالوجی کی زبان میں egoism- anomie کا نام دیاجاتا ہے ، جہاں نوجوانوں کے جدید خواب اور روایات کے تصادم سے نوجوانوں کی فرسٹریشن بڑھنے سے خودکشیوں کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ %82 وکٹمز کی عمریں 30 سے کم ہونا اس تشریح کو سپورٹ کرتا ہے۔ 

سماجی تبدیلی کے نتیجے میں چترالی نوجوان باہر کی جدید دنیا اور اپنے بنیادی حقوق سے آگاہ ہوئے جنھیں روایتی معاشروں میں دبا کر رکھا جاتا ہے۔ پہلے آگہی نہ ہونے اور جدید طرز زندگی سے ناآشنائیت کے سبب وہ غربت میں بھی نسبتاً پرسکون رہے تھے۔

اب نوجوان جدید طرز زندگی چاہتے ہیں جو روایتی کلچر اور علاقے کی پسماندگی کی وجہ سے اکثر اوقات شرمندہ تعبیر ہونے سے دور رہ جاتی ہے۔ نوجوابوں کے خواب فرسودہ روایات سے کلیش کر رہے ہیں۔ مثلاً کمر عمری کی محبتیں سماج کے لیے  ناقابل قبول ہیں، جو ڈیجیٹل دور میں رہنے والی بیشتر نوجوان کی اسپائریشن ہیں۔ 

جہاں نوجوانوں کے ذہن تبدیل ہوئے وہاں کلچرل اقدار اور بزرگوں کے خیالات وہی پرانے ہی رہے۔ مثال کے طور پر بزرگ چاہتے ہیں کہ بہو بیٹیاں ان کی اسی طرح خدمت کریں جس طرح انھوں نے کی تھیں۔ اب جدید ذہنیت کی تعلیم یافتہ لڑکی کے لیے یہ روایتی فرائض مثلاً آگ جلا کر کھانا پکانا، جانوروں کی دیکھ بھال، پدرسری نظام کے مطابق فرمانبرداری جیسے توقعات اپریشن کے مترادف ہیں۔

 پہلے جن روایات کو نوجوان نیچرل سمجھتے تھے اب اس کا الٹ ہے۔ روایتی توہمات، اقدار اور نارمز نوجوانوں کو ویلیوز دینے اور ریگولیٹ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ پدرسری نظام کی خصوصیات مثلاً  مردوں سے کم حیثیت، بے جوڑ شادیاں، گھریلو جھگڑے، گھریلو تشدد، روایتی ذمہ داریوں کا بوجھ، ذہنی بیماریاں اور سپورٹ کا فقدان وغیرہ خواتین خاص کر تعلیم یافتہ اور حقوق سے آگاہ خواتین کے لیے سفوکیٹنگ بن رہی ہیں۔ ذہن اگرچہ آزاد ہو چکے مگر فرسودہ روایات کی بدولت آزادی کو سیلیبریٹ نہیں کر سکتے۔ 

ان کے علاوہ چترال میں امتحان میں زیادہ نمبرز اور سرکاری نوکریوں کو لوگ اسٹیٹس کی علامت سمجھنے لگے ہیں، سوشل موبیلٹی کا زریعہ سمجھ کر ان کے حصول پر حد سے زیادہ زور دی جاتی ہے۔ جس سے نوجوانوں کے ذہنوں پر بوجھ پڑ جاتی ہے اور جو اسٹریس براداشت نہیں کر سکتے، خودکشی کر لیتے ہیں۔ فلاسفر برٹرنڈ رسل کے الفاظ میں “زندگی ایک مقابلہ جہاں مقام صرف جیتنے والے کو دی جاتی ہے۔”

وکٹمز کوسماج میں ہمدردی ملتی ہے اور بچنے کی صورت میں ڈیمانڈز بھی پوری کی جاتی ہیں۔ جس سے اس مسئلے کا کنٹیجیس نیچر بھی سامنے آجاتی ہے۔ “خودکشی کر لونگا” کثرت سے بولا جانے والا ڈائلاگ بن چکا ہے۔   

خودکشیوں کے پیچھے سماج کا کردار بھی واضح ہے جو روایت پرستی کی شکل میں نہ صرف نوجوانوں کے خواب دباتا ہے بلکہ ریس میں دوڑنے والی گھوڑے کی طرح ٹریٹ  کرکے بالاخر کئی کو زندگی کی دوڑ ہارنے پر لاکھڑا کر دیتا ہے۔ 

خودکشیاں آئسبرگ  کے سرے ہیں جبکہ اس سے سیریس مسئلہ ان کی ہے جو فرسٹریشن اور ڈپریشن کے ساتھ جی رہے ہوتے ہیں جسے پارٹیسپنٹ آبزرویشن اور ان کے دکھ بھرے محبت ناموں کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ غزل کے ایسے فام جس میں دکھ، مایوسی، مرنے کی خواہش اور درد بھرے محبت کے جذبات کا اظہار کیا جاتا ہو، ‘کنفیشنل پوئٹری’ یعنی ‘پوئٹری آف سفرنگ’ کہا جاتا ہے۔ خواتین کے لیے مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ ٹیبو ہونے کی وجہ سے محبت نامے لکھ کر اپنے فرسٹریشن کے اظہار کا آپشن بھی ان کو دستیاب نہیں۔

ایسے میں سماج کو ماننا ہو گا کہ فرسودہ روایات کے ساتھ ہمیشہ کے لیے چمٹا نہیں رہا جا سکتا۔ والدین کو اپنے بچوں کو سمجھنا ہو گا، سب سے بڑھ کر یہ کہ بچوں کی خوشی اور زندگی روایات سے زیادہ اہم چیز ہے اور یہ کہ نوجوان امتحان اور نوکری کی ریس میں دوڑانے کے گھوڑے نہیں ہیں۔ اس طرح نوجوانوں کو بھی “چاند کو پکڑنے کی ضد” چھوڑنی ہو گی۔ خواب پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتے، اس کے لیے حقیقی دنیا میں لڑنا پڑتا ہے اور ان سب کے لیے جینا اولین شرط ہے۔

بشکریہ انڈیپنڈنٹ اردو

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى