تازہ ترینمحمد شریف شکیب

رویت ہلال پر قومی اتفاق رائے…محمد شریف شکیب

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے نئے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے نوید سنائی ہے کہ ایک دن روزہ اور ایک دن عید پر پوری قوم کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی جائے گی سائنس سے بھی مدد لیں گے مگر فیصلہ شریعت اور شہادت کی بنیاد پر کریں گے مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور فواد چوہدری دونوں کو ساتھ لیکر چلیں گے۔ چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا کہنا تھا کہ تمام علما و مسالک کو ساتھ لیکر چلیں گے۔سائنسی معلومات اور شرعی شہادتوں پر انحصار کرکے قوم کو ایک عید اور چاند پر متفق کرنے کی کوشش کریں گے۔سپارکوسے سائنس و ٹیکنالوجی کی فنی مہارت لیں گے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پشاور، کراچی، کوئٹہ، لاہور اور اسلام آباد میں کریں گے۔ہمارے ہاں سال کے بارہ میں سے صرف تین مہینوں کا چاند دیکھنے پر اختلاف پایاجاتا ہے۔ رمضان، شوال اور ذوالحجہ کا چاند پاکستان میں اکثر چھپن چھپائی کا کھیل کھیلتا ہے۔ جہاں یہ اپنا مکھڑا دکھاتا ہے وہاں کی شہادتوں کو بعض حلقوں کے مطابق مرکزی کمیٹی قبول نہیں کرتی۔کمیٹی کے لئے قابل قبول علاقوں میں یہ چنچل شوخ ہلال اکثر بادلوں کی اوٹ میں چھپ کر دیکھنے والوں کو ترساتا رہتا ہے۔خیبر پختونخوا کے لئے چاند دیکھنا طعنہ بن چکا ہے۔ رات آٹھ بجے مرکزی کمیٹی والے ہلال کی عدم رویت کااعلان کرکے چلے جاتی ہے۔ رات گیارہ بجے پشاور سے چاند دیکھنے کی شہادتیں ملنے کے اعلانات اور سحری یا عید منانے کی تیاریاں شروع کی جاتی ہیں۔ کبھی کبھار تین تین دن بھی عید ہوتی ہے۔عید خوشی کا موقع ہوتا ہے اور خوشیاں جتنی زیادہ منائی جائیں اس میں کوئی قباحت نہیں۔ایک سے زائد عید ہونے کی سرکاری ملازمین کو دوہری خوشی ملتی ہے کیونکہ انہیں غیر اعلانیہ طور پر اضافی چھٹیاں ملتی ہیں۔ عید کے موقع پر ہمارے لوگوں کا جذبہ خیرسگالی بھی جاگ اٹھتا ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ تین دنوں تک عید ملتے رہتے ہیں۔سیاسی لوگوں کو اپنے ووٹروں اور سپورٹروں کو زیادہ سے زیادہ وقت دینے کا موقع ملتا ہے۔کیونکہ ہمارے سیاست دان اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ صرف عید پر ہی ان کا دیدار ہوتا ہے۔ حقیقت میں وہی عید کا چاند ہوتے ہیں۔کیونکہ انہیں دیکھنے سے بہت سے لوگوں کے منہ پہ رونق آتی ہے اور وہ بھی یہ جان کر خوش ہوتے ہیں کہ ان کے دیدار کے متمنی بیماروں کا حال اچھا ہے۔ اگر پورے ملک میں ایک ہی دن عید ہوجائے تو بہت سے لوگوں کا دانہ پانی بند ہونے کا خطرہ ہے وہ دعا مانگتے ہوں گے کہ رویت ہلال پر قومی اتفاق رائے نہ ہونے پائے۔ہمارے معاشرے میں لوگ شر میں بھی خیر کا پہلو تلاش کرتے ہیں۔ منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن شروع کیاگیا تو وہ آگ بگولا ہوگئے کہ حکومت اس کاروبار سے منسلک ہزاروں خاندانوں کی روزی چھیننے کے درپے ہے۔ سمگلنگ کی روک تھام کی بات کی جاتی ہے تو اس پیشے سے وابستہ افراد احتجاجی ریلیاں نکالتے اور دھرنے دیتے ہیں کہ انہیں متبادل روزگار فراہم کرنے تک حکومت سمگلنگ پر پابندی نہیں لگاسکتی۔شاید انہی خدشات کے پیش نظر حکومت بھی بہت سے غیر قانونی دھندوں کو دانستہ طور پر نہیں روکتی کہ اس سے بہت سے لوگوں کا رزق وابستہ ہے۔ دھندہ بند ہوگیا تو ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔ مولانا عبدالخبیر آزاد شاہی مسجد لاہور کے خطیب ہونے کے ناطے ہم سب کے لئے بہت ہی قابل احترام ہیں۔ان کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی چیئرمینی ملنے پر لوگوں نے خوشیاں منائی ہیں اور بعض لوگوں نے تو مٹھائیاں بھی بانٹی ہیں یہ عمل حب علی کے زمرے میں آتا ہے یا بعض معاویہ۔یہ الگ موضوع ہے جس پر قلم اٹھاکر دوسروں کی عافیت اور اپنی عاقبت خراب کرنا نہیں چاہتے۔توقع ہے کہ وہ چاند کے متلاشیوں کا روزگار بند نہیں کریں گے۔ اور رویت ہلال کے دیرینہ تنازعے کا کوئی قابل قبول حل نکالیں گے۔قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش اپنا وقت اور توانائیاں ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔تاہم چیئرمین کی یہ بات بڑی معنی خیز ہے کہ اعتماد میں سب کو لیں گے لیکن فیصلہ وہی ہوگا جو اب تک ہوتا آیا ہے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى