تازہ ترینمحمد شریف شکیب

چکدرہ چترال موٹر وے منصوبہ…محمد شریف شکیب

سیاحت کے فروغ کیلئے حکومت نے ملک میں مشکل ترین موٹروے کی تعمیر کا فیصلہ کرلیا۔دیرچترال موٹروے کو سی پیک منصوبے میں شامل کر لیاگیا، منصوبے کو چکدرہ ٹو چترال، چترال ٹو شندور اور شندور ٹو گلگت توسیع دی جائیگی۔وفاقی وزیر مواصلات نے اعلان کیا ہے کہ چکدرہ ٹو چترال روڈ کو دو رویہ کرنے پر اپریل میں کام شروع کیا جائیگا۔ دیر چترال موٹر وے منصوبہ مستقبل میں ایشیائی ممالک کیلئے گیٹ وے ثابت ہوگا۔ منصوبے کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ دیر اور چترال کا تمام علاقہ دشوار گزار پہاڑی ریجن پر مشتمل ہے، اس لیے یہ ملک میں اب تک تعمیر ہونے والا سب سے زیادہ مشکل منصوبہ ثابت ہوگا۔دیر سوات اور دیر چترال موٹر وے کی تعمیر سے خطے میں سیاحتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا علاقے میں تجارت اور صنعت کو بھی فروغ ملے گا اور لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔موجودہ حکومت نے سیاحت کو صنعت کا درجہ دینے کے لئے سیاحتی مقامات کی تزین و آرائش، وہاں سیاحوں کو انٹرنیٹ سمیت تمام ضروری سہولیات کی فراہمی اور سہل رسائی کے لئے سڑکوں کا جال بچھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے سے خیبر پختونخوا کے شمال مغربی علاقوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ بونیر، شانگلہ، سوات، اپر و لوئر دیر، اپر و لوئر چترال کا پورا علاقہ قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ یہاں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی کا ہرسامان موجود ہے۔ یہاں گھنے جنگل ہیں، انواع و اقسام کی جنگلی حیات یہاں پائی جاتی ہے۔جابجا ٹھنڈے میٹھے چشمے، بہتے جھرنے، آبشاریں، گرم پانی کے چشمے، قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کی کانیں موجود ہیں۔ سردیوں میں یہ علاقے سرمائی کھیلوں کے لئے انتہائی موزوں ہیں۔وادی سوات کو مشرق کا سوئزرلینڈ کہا جاتا ہے۔ شانگلہ ٹاپ سے لے کر کمراٹ، لواری ٹاپ، شندور ٹاپ اور بروغل تک کا پورا علاقہ مسحورکن مناظر سے لبریز ہے۔قدرتی مناظر کے علاوہ یہاں کی تہذیب، زبانیں، ثقافت، ادبی ورثہ، بودوباش اور انواع و اقسام کے کھانے سیاحوں کے لئے غیر معمولی دلچسپی کا باعث ہیں۔چترال ٹاؤن اور بونی میں نجی شعبے میں قدیم اور روایتی کھانوں کے ہوٹل کھلے ہیں جن کی بدولت اس خطے کی قدیم ثقافت پھر سے زندہ ہوگئی ہے۔ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے نجی شعبے میں مختلف ادارے بھی قائم کئے گئے ہیں اگر حکومت ان اداروں کی سرپرستی کرے تو یہ سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں حال ہی میں چترال میں فائیو سٹار ہوٹل تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس سے نہ صرف سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے ادبی، تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں کو بھی ترقی دی جاسکتی ہے۔ صوبائی حکومت نے اپر دیر کے خوبصورت سیاحتی مقام کمراٹ سے چترال کے علاقہ مدک لشٹ تک چیئرلفٹ نصب کرنے کا منصوبہ بھی منظور کیا ہے۔دیر بالا سے لواری ٹاپ کے راستے کلکٹک، چترال ٹاؤن سے برموغ لشٹ، ایون سے وادی کالاش اور لاسپور بالا سے شندور تک چیئرلفٹ نصب کرنے سے سیاحتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے ان منصوبوں سے جہاں ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع ملیں گے بلکہ ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔ان منصوبوں کے لئے وسائل کی فراہمی بھی چنداں مشکل نہیں ہے سیاحت کے شعبے کی ترقی کے لئے جامع پلان تیار کرکے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جاسکتا ہے۔بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی قومی تعمیر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تاہم ماضی میں عوامی اور تعمیری منصوبوں میں مالی گھپلوں کی وجہ سے سرمایہ کار وں کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔اس اعتماد کی بحالی حکومت کے لئے بڑا چیلنج ہے۔چین اور پاکستان نے سی پیک منصوبے میں افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پشاور سے تاجکستان تک شاہراہ کی تعمیر کے حوالے سے مختلف روٹس حکومت کے زیر غور ہیں تاہم سب سے محفوظ راستہ لواری ٹنل، چترال، بونی، بروغل، واخان روٹ ہے۔ یہ پورا علاقہ ہموار ہونے کے ساتھ ہر قسم کے خطرات سے پاک ہے۔ مستوج سے اس شاہراہ کو شندور کے راستے شاہراہ ریشم سے بھی ملایاجاسکتا ہے۔ جو متبادل روٹ کے طور پر بھی نہایت موزوں ہے۔منصوبہ سازوں کوتاجکستان تک شاہراہ کی تعمیر کے لئے سیکورٹی صورتحال کو اولین ترجیح کے طور پر پیش نظر رکھنا ہوگا۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى