تازہ ترینمحمد شریف شکیب

فرض شناسی اورجوابدہی…محمد شریف شکیب

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے پانچ سال سے لاپتہ شہری کی عدم بازیابی کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ شہریوں کے لاپتہ ہونے کی کوئی ذمہ داری نہیں لیتاتو پھر وزیر اعظم اس کے ذمہ دار ہوں گے، پولیس اور خفیہ ایجنسیاں کام نہیں کرتیں تو اس ملک کا کیا بنے گا۔کیا ہم نے اللہ کوجواب نہیں دینا؟ یہ نظام کیسا چلے گا، اگر یہی روش چلتی رہی تو ایک دن لوگ عدالتوں سمیت سارے نظام کو آگ لگا دیں گے، اگر ادارے قانون سے ماورا کام کریں گے تو لوگ بھی ہتھیار اٹھا لیں گے، عدالتوں سمیت سارے جواب دہ ہیں کوئی کام نہیں کرتا تو وہ اس عہدے کا اہل نہیں، پاکستان کی خدمت قانون کے مطابق ہی ہونی ہے اس سے باہر کچھ نہیں، اگر محکمے کے سربراہ اپنے ماتحتوں سے نہیں پوچھ سکتے تو پھرکون پوچھے گا، عدالتوں کو تو برا بھلا کہا جاتا ہے ہم تو کام کرنے والے ججوں کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہیں، کوئی سرکاری افسریا جج کام نہیں کرسکتا تو استعفی دے کر گھر جائے، سیکرٹری بنتے ہوئے دل خوش ہوتا ہے لیکن کام کی باری آتی ہے تو ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں،عدالت کے فیصلوں کے ان اداروں کے سربراہان کے لیے سنگین اثرات ہیں۔ قومی سلامتی کے اداروں کی بڑی جانی و مالی قربانیاں ہیں ہم ان کی قدر کرتے ہیں، یہ لائن آف فائر پر بیٹھے ہیں انہی کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں سکون کی نیند سوتے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج نے ہمارے معاشرے کی جو تصویر کشی کی ہے وہ ایک تلخ حقیقت ہے۔بال بال قرضوں میں جکڑی ہوئی قوم اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر جن سرکاری اداروں کو پال رہی ہے وہ ادارے عوام کے لئے اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ملک و قوم کی خدمت پر مامور سرکاری اداروں کے افسران خود کو حاکم اور عوام کو محکوم تصور کرتے ہیں قومی تعمیر اور خدمات کی فراہمی کے اداروں میں عوام سے غلاموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔موجودہ حکومت نے نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے اداروں میں اصلاحات کا جو پروگرام شروع کیا تھا۔ اس کی راہ میں ہر موڑ پر رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں اپنی تنخواہوں،الاؤنسز اور مراعات میں اضافے کے لئے قلم چھوڑ ہڑتال، احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، دھرنے اور لانگ مارچ کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے تین سال گذرنے کے باوجود اصلاحاتی پروگرام کے دس فیصد اہداف بھی حاصل نہیں ہوسکے۔پی ٹی آئی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے پولیس کو عوام کا خادم اور مددگاربنایاہے، تھانہ کلچر ختم کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پولیس کلچر میں ایک فیصد بھی فرق نہیں آیا۔آج بھی مظلوم داد رسی کے لئے تھانے جانے سے ڈرتا ہے آج بھی سفارش اور رشوت کے بغیر پولیس ایف آئی آر درج نہیں کرتی۔ آج بھی ہر محکمے میں رشوت کا بازار گرم ہے۔پولیس سمیت ہر سرکاری ادارے میں دیانت دار، فرض شناس، ایماندار اور بے داغ لوگ بھی موجود ہیں جن کی دیانت داری کی مثالیں دی جاتی ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور ذاتی طور پر تمام خوبیوں کا حامل ہونے کے باوجود وہ اپنے ادارے پر اثر انداز نہیں ہوسکتے کیونکہ بنیادی خرابی نظام میں موجود ہے جسے ٹھیک کرنے پر آج تک کسی نے توجہ نہیں دی۔جسٹس کیانی کے یہ ریمارکس سوفیصد درست ہیں کہ اگر ہم موت پر یقین رکھیں اور خود کو اللہ کے سامنے جوابدہ تصور کریں تو کوئی شخص رشوت اور کمیشن لینے، کسی کا حق مارنے، ناجائز دولت جمع کرنے، کسی پر ظلم کرنے اوراپنے فرائض سے کوتاہی برتنے سے پہلے سو بار سوچے گا کہ اس نے اپنے ایک ایک عمل کا خالق کے سامنے جواب دینا ہے۔جب دل میں جوابدہی کا خوف پیدا ہوگا تو ساری برائیاں خود بخود ختم ہوجائیں گی اور معاشرے کی اصلاح ہوگی۔ یہ کام صرف حکومت یا عدالتیں نہیں کرسکتیں۔ اس کے لئے والدین، اساتذہ، علمائے کرام، دانشوروں اور سول سوسائٹی کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نصاب تعلیم بدلنا ہوگا۔جزا و سزا کا سخت نظام نافذ کرنا ہوگا۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ملک گیر تحریک شروع کرنی ہوگی۔سماج دشمنوں کو عبرتناک سزائیں دینی ہوں گی۔تاکہ دوسرے لوگ عبرت پکڑیں۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى