تازہ ترینناصر علی

نرسنگ ایسوسیشنز کی قربانی, پوسٹ گریجویٹ کالج اف نرسنگ میں داخلے مکمل, چترال سے تعلق رکھنے والے طلباء بھی جگہ بنانے میں کامیاب..تحریر: ناصرعلی شاہ

پوسٹ گریجویٹ کالج اف نرسنگ وہ واحد نرسنگ کالج ہے جس کو کے پی گورنمنٹ نے 1998 میں قائم کیا ہے. پوسٹ گریجویٹ کالج اف نرسنگ میں فراہم کیا جانے والا پروگرام کم فیس کی وجہ سے متوسط طبقے کو آسانی سے میسر ہے پوسٹ گریجویٹ کالج اف نرسنگ چار سالہ ڈگری کورس 92000 میں جبکہ دوسرے نرسنگ کالجز میں 3 لاکھ 30ہزار سے زائد میں کروائے جاتے ہیں.
اس ادارے کی پرائیوٹائزیشن ہوچکی تھی مگر نرسنگ ایسوسیشنز کی انتھک کوشش, بھرپور احتجاج کی بدولت اس ادارے کو واپس گورنمنٹ کی تحویل میں دیا گیا. نرسنگ ایسوسیشنز کی قربانی کی بدولت غریب لوگ کم فیس میں بہتریں ایجوکشن اپنے بچوں کو دلوا رہے ہیں.
اس سال داخلوں کے لئے 1500 سے زائد طلبا نے ٹیسٹ دئیے اور 22 اوپن میریٹ سیٹوں میں کے پی سے تعلق رکھنے والے قابل طالب علموں کی سیلکشن ہوگئی ان 22 طالب علموں میں چترال سے تعلق رکھنے دو طلباء بھی پوزیشن کیساتھ جگہ بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں ان طالب علموں میں ریشن سے تعلق رکھنے والے #شہناز آحمد ولد گل آحمد اور بونی سے تعلق رکھنے والے #شکیلہ حسین ولد حسین علی شاہ شامل ہیں.
اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گورنمنٹ اف کے پی سے گزارش کرینگے کہ پوسٹ گریجویٹ کالج اف نرسنگ کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے تاکہ کے پی سے تعلق رکھنے والے نرسز کو بھی اپنے صوبے میں ماسٹر کرنے کی سہولت میسر ہو اور ساتھ پاکستاں نرسنگ کونسل اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی بھی دل بڑا رکھکر سیٹوں میں اضافے کے لئے ایکدوسرے کیساتھ تعاؤن کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ طالب علم کم فی سٹریکچر میں بہترین تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی خدمت کرسکے…..
نرسنگ پیشے میں قدم رکھنے والے اپنے نئے پروفیشنلز کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہوئے کامیابی پر مبارک باد پیش کرتے ہیں امید ہے یہ پروفیشنلز صیح معنوں میں پروفیشنل تعلیم حاصل کرکے مظلوم مریضوں کی دل سے خدمت کرینگے.

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى