تازہ ترین

پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل میگا ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ونز جلد از جلد تیار کر کے منظوری کیلئے متعلقہ فورم کو بھیجے جائیں ۔ وزیر اعلی محمود خان

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل میگا ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ونز جلد از جلد تیار کر کے منظوری کیلئے متعلقہ فورم کو بھیجے جائیں تاکہ ان منصوبوں میں کسی تاخیر کے بغیر ان منصوبوں پر کام کا آغاز کیا جاسکے ۔ انہوں نے پشاور ڈی آئی خان موٹر وے اور چشمہ رائٹ لفٹ بنک کنال منصوبوں پر بھی پیشرفت کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی محکموں کے حکام کو متعلقہ وفاقی وزارتوں کے ساتھ مربوط روابط رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ ان منصوبوں پر مقررہ ٹائم لائن کے مطابق پیشرفت کو یقینی بنایا جاسکے۔ وہ پیر کے روز پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر، سیکرٹری مواصلات اعجاز انصاری، سیکرٹری، انڈسٹریز جاوید مروت، سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کے جنرل منیجر، پیسکو کے اعلیٰ افسران سمیت دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو پی ایس ڈی پی کے منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں پی ایس ڈی پی میں خیبر پختونخوا کے کل 138 مختلف ترقیاتی منصوبے شامل ہیں جن کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں 149 ارب روپے رواں مختص کیے گئے ہیں جن میں سے 62 ارب روپے سے زائد رقم دسمبر 2020 تک جاری ہو چکی ہے جبکہ جاری شدہ رقم کا 55 فیصد خرچ ہو چکا ہے۔ منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے بتایا کہ پشاور تا ڈی آئی خان موٹر وے منصوبے کا پی سی ون صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے منظور کر لیا ہے جسے حتمی منظوری کے لیے سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال کے بارے میں بتایا کہ اس منصوبے پر 85 فیصد سول ورک مکمل ہو چکا ہے وزیر اعلیٰ نے مذکورہ منصوبے کو اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اسے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ پشاور نادرن بائی پاس روڈ کے تعمیر کے منصوبے پر پیشرفت کے بارے میں بتایا گیا کہ منصوبے کا پیکج1 مکمل ہے جبکہ پیکج 2 کے لیے زمین کی خریداری کا عمل جاری ہے جو آئندہ 15 دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ مزید بتایا گیا کہ مختلف شعبوں میں کل 41 منصوبے وفاقی حکومت کو تجویز کیے گئے ہیں جن میں دیر موٹر وے، صوابی بائی پاس روڈ، مستوج بروغل روڈ کی تعمیر، ہری پور میں برواسا ڈیم کی تعمیر، ضلع ہنگو میں سدوزئی ڈیم کی تعمیر، 300 واٹر اسکیمز کی سولرائزیشن سمیت دیگر اہم منصوبے شامل ہیں

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى