چنیوٹ میں دوہرے قتل میں ملوث افراد کو عبرتناک سزادی دی جائے۔بونی میں احتجاجی جلسہ

اپرچترال(ذاکر محمد زخمی)چنیوٹ میں چندروز قبل چترال کی بیٹی اور اس کی کم سن بچی کو جس سفاکانہ انداز میں قاتل کیا گیا تھا۔ اپر چترال ہیڈ کوارٹر بونی میں بازار اور عوامی اشتراک سے جمعہ کی نماز کے بعد ایک احتجاج جلسہ منعقد کیاگیا۔ جس میں بازارا کے تجار براداری کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت۔اس سے قبل جمعہ کے خطبہ کے دوران خطیب جامع مسجد بونی نے چنیوٹ واقعہ ہر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ اس طرح کے دلخراش واقعات چترال کی بیٹیوں کے ساتھ ہمیشہ پیش آتے رہتے ہیں۔ یہ کوئی پہلا وقعہ نہیں لیکن پھر کچھ بھی ناعاقبت اندیش حضرات نہ اس سے تجربے حاصل کرتے ہیں اور نہ بعض لوگ مذموم دھندوں سے باز رہتے ہیں اس لیے حکومت کے ساتھ ہم سب کی زمہ داری ہے کہ ایسے لوگوں پر کڑی نظر رکھ کر حالات کو اس نہج تک پہنچنے سے پہلے ہی روکا جائے۔ اپ جملہ حاضرین سے کردار ادا کرنے کے اپیل کرتے ہوئے مقتول شہید بیٹی کی ایصال ثواب کے لیے دعائے مغفرت بھی کی بعد میں جمعہ سے فارغ ہوکر بونی چوک میں تجاریونین کی تعاون سے احتجاجی جلسہ منعقد کیاگیا۔ جس میں تاجر اور عوامی حلقوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھاتے ہوئے قاتل اعجاز سیال کی پھانسی کا مطالبہ کیا اور چترال کی بیٹیوں کاقتل بند کی جائے کے نعرے درج تھے۔ احتجاجی جلسہ سے رحمت سلام لال،صدر تجار یونین محمد شفع،تحریک حقوق کے صدر مختار احمد اور جنرل سکرٹری تجار یونین ذاکر زخمی نے اس دلخراش واقعہ پر غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانیت کے ماتھے پر کالا دھبہ قرار دیتے ہوئے قاتل اعجاز سیال کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا۔تاکہ ائیندہ اس طرح کے واقعات رونما نہ ہو۔اور ساتھ علما کرام،واعظین اور سول سوسائٹی کے رضاکاروں پر زور دیا کہ وہ آج کے بعد اپنے اس پاس کے ماحول سے بے خبر نہ رہے یہ کوئی اخری واقعہ نہیں اس طرح کے واقعات باربار ہوتے رہینگے لیکن ان کو روکنا ہماری زمہ داری ہے۔ جلسہ میں چیف جسٹس اف پاکستان سے چنیوٹ کے دہری قتل کیس کا از خود نوٹس لینے کی درخواست کی گئی۔اس سے قبل بازار کے جنرل سکرٹری ذاکر زخمی کی درخواست پر ڈسٹرکٹ بار اپر چترال ایک قرارداد بھیج چکے ہیں ساتھ چنیوٹ میں کیس کی پیروی کے لیے چینوٹ بار کے صدر سے رابطہ کرکے وکیل کا بندوبست کرنے کے بھی یقین دہانی کی ہیں۔ جو رضاکارانہ طور پر کیس کی پیروی کرینگے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔