زرعی خود کفالت کی منزل….محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا کسان بورڈ نے حکومت کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا ہے جس میں کاشتکاروں کو بلاسود قرضے فراہم کرنے، ٹیکسوں کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔چارٹر آف ڈیمانڈ میں وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ سگریٹ سازی کے تمام کارخانے خیبر پختونخوا میں لگائے جائیں۔تمباکو کی پیداوارسے حاصل ہونے والی 130ارب روپے کی آمدن میں سے 30ارب روپے تمبا کو اگانے والے اضلاع کی ترقی پر خر چ کئے جائیں۔کسانوں کا موقف ہے کہ سوات اور صوبے کے دیگر علاقوں میں باغات سے حاصل شدہ 50فیصد پھل پروسیسنگ پلانٹ نہ ہونے کے باعث ضائع ہو جا تا ہے حکومت پروسیسنگ پلانٹ لگانے کیلئے آساں شرائط پر بلاسود قرضے فراہم کرے تاکہ پھلوں کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔ گڑگھانیوں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دی جائے تاکہ اس اہم گھریلو صنعت کوتباہ ہو نے سے بچایا جاسکے۔ ضم اضلاع میں زراعت کی ترقی کیلئے بلاسود قرضوں اور خصوصی پیکج کی فراہمی بھی چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل ہے۔خیبر پختونخوا کا 60فیصد پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں مخصوص اقسام کی فصلیں اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔وہاں کی زرعی پیدوار مقامی آبادی کی ضروریات کے لئے بھی ناکافی ہے تاہم صوبے کے 40فیصد میدانی علاقوں میں زراعت کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرکے صوبے کی سطح پر زرعی خود کفالت کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے۔صوابی، مردان اور چارسدہ میں دنیا کی بہترین تمباکو کی فصل پیدا ہوتی ہے۔ مانسہرہ کی وادی پکھل کے علاوہ بٹگرام کی زمین اور آب و ہوا چائے کی فصل کے لئے انتہائی موزوں ہے۔ہری پور، صوابی، مردان، چارسدہ، بٹ خیلہ، سوات، دیر، چترال اور جنوبی اضلاع کے میدانی علاقے چاول کی فصل کے لئے نہایت موزوں ہیں لیکن وہاں کے کاشت کار آج بھی سینکڑوں سال پرانے تخم استعمال کرتے ہیں۔کیمیاوی کھاد، فصلوں کو بیماریوں سے بچانے کی ادویات وغیرہ سے ہمارے 95فیصد کاشت کار ناواقف ہیں۔اس وجہ سے فی ایکڑ پیداوار انتہائی کم ہونے کی وجہ سے ہم گندم، دالیں،پھل اور سبزیاں بھی دیگر صوبوں اور بیرون ملک سے منگواتے ہیں۔مانسہرہ کے بالائی علاقے، بٹگرام، کوہستان، شانگلہ، بونیر، سوات، دیر اور چترال کے علاقے خوبانی، ناشپاتی، سیب، انگور، آڑو، مالٹے،توت، لوکاٹ، زیتون،املوک، بیری، اخروٹ، بادام،چلغوزے،امرود اور دیگر پھلوں کے لئے مشہور ہیں۔صوبے کے اکثر دیہی علاقوں سے منڈی تک ہموار راستہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ رسیلے، لذیذ اور اعلیٰ معیار کے پھل ضائع ہوجاتے ہیں۔ اگر حکومتی ادارے زرعی پیداوار، سبزیوں اور پھلوں کی کاشت، نگہداشت اور مارکیٹنگ کے طریقوں سے کاشت کاروں کو آگاہی فراہم کرے، انہیں بہترین اقسام کے تخم، ادویات اور کھادیں بہم پہنچائے تو نہ صرف سال کے بارہ مہینے پھلوں کی دستیابی ممکن بنائی جاسکتی ہے بلکہ ضائع ہونے والے پھلوں کی مارکیٹنگ کے ذریعے دیہی علاقوں کے لوگ اپنا معیار زندگی بھی بہتر بناسکتے ہیں۔پاکستان زرعی ملک ہونے، یہاں زرخیز زمین، وافر آبی وسائل اور موافق موسم ہونے کے باوجود ہم بیشتر زرعی اجناس درآمد کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں زراعت کی ترقی کے لئے درجن بھر ادارے قائم کئے گئے ہیں اور زرعی قرضوں کی فراہمی کے لئے الگ بینک بھی کھولاگیا ہے مگر ہمارے کسان آج بھی صدیوں پرانے طریقوں پر عمل پیرا ہیں انہیں زرعی ٹیکنالوجی کا پتہ ہی نہیں ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ زرعی ترقی کے لئے قائم ادارے اپنی افادیت کھوچکے ہیں۔ اپنے اہداف سے بہت دور اور اپنے ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کے متقاضی ہیں۔اضلاع اور تحصیل کی سطح پر تحقیقی مراکز، پروسیسنگ سینٹرز، پیکنگ کی سہولیات اور جدید سائنسی معلومات کی فراہمی کا اہتمام کیا جائے تو نہ صرف زرعی پیداوار میں کئی گنا اضافہ کیاجاسکتا ہے اور زرعی اجناس میں خود کفالت کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے بلکہ زراعت کے شعبے میں لاکھوں افراد کو روزگار بھی مل سکتا ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت وسیع تر قومی مفاد میں کسانوں کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر سنجیدگی سے غور کرے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔