قومی ایوان اور عوامی توقعات…محمد شریف شکیب

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے دوران حکومت نے سی پیک اتھارٹی کے قیام سمیت3 بل کثرت رائے سے منظور کر وا لئے۔ اس دوران اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھا مگر اسپیکر نے کسی کو بولنے کی اجازت نہ دی اور ایجنڈے میں موجود بل پیش کرنے کیلئے متعلقہ وزیروں کو ہدایت کردی۔ مشیرپارلیمانی امورنے پاکستان قومی ادارہ برائے نظام اوزان پیمائش بل اورپاکستان آرڈیننس بورڈ ترمیمی بل پیش کیا جن کو اسپیکر نے مزید غوروخوص کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بجھوادیا۔ اپوزیشن کے احتجاج کے دوران حکومت نے سی پیک اتھارٹی بل،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ترمیمی بل اور پاکستان سنگل ونڈو بل منظوری کیلئے پیش کیا جنہیں ایوان نے کثرت رائے سے منظوری دیدی۔سی پیک بل کے تحت سی پیک اتھارٹی کے چیئرپرسن اور اراکین کا تقرر چار سال کیلئے ہوگا جبکہ چیئرمین اور اراکین کی مدت ملازمت میں ایک بار چار سال کیلئے توسیع ہوسکے گی۔کسی بھی ایسے شخص کو بطور چیئرپرسن،رکن یا اور کوئی عہدہ نہیں دیا جائے گا جس سے بلواسطہ یا بلاواسطہ کوئی مفادات کا ٹکراؤ ہو،ایڈیٹر جنرل آف پاکستان اتھارٹی کے سالانہ حسابات کی جانچ پڑتال کرے گا۔اتھارٹی اپنی سالانہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کی پابند ہوگی۔قانون سازی کے دوران اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کی ڈائس کا گھیراؤ کیا اور نعرے بازی شروع کردی۔اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور انہیں اسپیکر ڈائس پر اچھالا۔پوری کاروائی کے دوران ایوان اپوزیشن ارکان کی شدید نعرے بازی سے گونجتا رہا۔قومی ایوانوں میں ہنگامہ آرائی کے واقعات دنیا کے مختلف ملکوں میں ہوتے رہتے ہیں بعض ایوانوں میں دھینگامشتی اور مارکٹائی کے واقعات بھی ہوتے ہیں جوتے اور کرسیوں سے منتخب ارکان ایک دوسرے کی تواضع کرتے ہیں۔کچھ لوگ قومی ایوانوں میں ہنگامہ آرائی، گالم گلوچ اور ہاتھا پائی کے واقعات کو بھی جمہوریت کا حسن قرار دیتے ہیں اگر حسن کا یہ عالم ہے تو بدصورتی نجانے کیا ہوگی۔ بیشک اختلاف رائے کی گنجائش ہرجگہ موجود ہوتی ہے۔ افلاطون نے اختلاف رائے کو حقائق تک رسائی کا بہترین ذریعہ قرار دیا ہے لیکن قومی ایوانوں میں اختلاف تعمیری ہونا چاہئے کسی بل کے ممکنہ منفی پہلوؤں کو اجاگر کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے دلائل کے ساتھ ثابت کرنا چاہئے کہ بل کے فوائد اس کے نقصانات سے کم ہیں۔ لیکن اختلاف برائے اختلاف قومی مفاد کے منافی ہے۔قومی اسمبلی کے لئے عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب ملک و قوم کے مفاد میں قانون سازی کے لئے کرتے ہیں جب منتخب نمائندے قانون سازی میں رکاوٹ بن جائیں تو یہ عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔قوم کو آج کورونا وباء، بیرونی خطرات، دہشت گردی، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ماضی میں سال کے دوران ایک دفعہ معمولی اضافہ ہوتا تھا۔ آج ہر مہینے تین چار مرتبہ قیمتوں میں ردوبدل کی وجہ سے مہنگائی میں روزانہ کے حساب سے اضافہ ہورہا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، کوکنگ آئل، دال، چاول، مصالحہ جات، دودھ، چکن، گوشت اور سبزیاں ہر گھر کی ضرورت ہیں ان کے نرخوں میں آئے روز اضافے کی وجہ سے ملک کی پچاس فیصد آبادی کے لئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا دوبھر ہوگیا ہے۔ یہی موقع ہے کہ قومی ایوانوں میں بیٹھے منتخب عوامی نمائندے عوام کو مہنگائی کے منحوس چکر سے نکالنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں اور کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کریں۔یہی ان کا اولین فرض منصبی اور جمہوریت کا تقاضا ہے۔مروجہ نظام نے اس قوم کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اسٹیٹس کو سے اس ملک کی اشرافیہ کو تو بہت فائدہ پہنچ رہا ہے مگر 95فیصد آبادی کا مسلسل نقصان ہورہا ہے۔آئین اور قانون عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی ترقی کے لئے بنائے جاتے ہیں انسان کے بنائے ہوئے قوانین میں وقت گذرنے کے ساتھ ترمیم اور اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے قومی مفاد اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی ہرملک میں ہوتی ہے۔تبدیلی کا یہ عمل عین جمہوری تقاضا ہے۔ آج حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی جماعتوں کو اپنے سیاسی اختلافات پس پشت ڈال کر قوم کے مفاد کا سوچنا ہوگا۔قوم ان کی نورا کشتی دیکھ کر دلبرداشتہ ہوچکی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔