حقیقی جمہوریت اورہمارانظام…محمد شریف شکیب

وفاقی حکومت نے سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے اوردوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کے لئے 1973کے آئین میں ترامیم کا پیکج رواں ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے حکومت کا کہنا ہے کہ ان آئینی ترامیم سے سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور ووٹوں کی خریدو فروخت کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے گا۔وفاقی وزیراطلاعات کے مطابق پارلیمنٹ کے اندر موجود تمام پارلیمانی جماعتوں کے لئے یہ ٹیسٹ کیس ہے اگر وہ ملک میں شفاف جمہوریت چاہتے ہیں تو انہیں ترامیم کی منظوری دینی ہوگی۔ ماضی میں سینٹ الیکشن میں ضمیر فروخت اور ووٹیں خریدی جاتی تھیں۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت کے آرٹیکل 23میں بھی سینٹ الیکشن اوپن بیلٹ کرانے کا مطالبہ شامل ہے۔وفاق پاکستان میں ایوان بالا فیڈریشن کی پہچان ہے جس میں تمام صوبوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہے ماضی میں سینٹ کے انتخابات ہمیشہ متنازعہ رہے ہیں انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ اورووٹوں کی خرید و فروخت ہوتی رہی ہے‘ پیسوں کے ذریعے جو بھی منتخب ہو کر آتے ہیں ان کی اخلاقی سپورٹ نہیں ہوتی۔حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لئے انتخابات منصفانہ،آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف ہونے چاہئیں اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے حکومت ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔ سینٹ کے گذشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی نے ووٹ بیچنے کے الزام میں خیبر پختونخوا میں اپنے 20 ایم پی ایز کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔ جس کی نظیر ملک کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ دنیا بھر میں رائج نظام ہائے حکومت میں جمہوریت سب سے بہترین طرز حکومت ہے جس میں حکومت عوام کے لئے اور عوام کے ذریعے ہوتی ہے۔حکومت کی کارکردگی کو جانچنے والے عوام ہوتے ہیں اگر کوئی پارٹی ان کی توقعات پر پورا نہ اترے تو اسے بیلٹ کے ذریعے مسترد کرکے دوسری پارٹی کا چناؤ کیا جاتا ہے۔جمہوری نظام کو کامیاب بنانے کے لئے اس کی تمام شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے۔ہم نے اپنا جمہوری نظام برطانیہ سے مستعار لیا ہے۔ لیکن ہم نے خود کو جمہوریت کے سانچے میں ڈھالنے کے بجائے جمہوریت کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے یہاں جمہوریت جڑیں نہیں پکڑ سکی۔اور غیر جمہوری قوتوں کو ملک بچانے کے لئے بار بار سیاسی معاملات میں مداخلت کرنی پڑی۔جمہوری نظام کی ناکامی کی ذمہ داری قیام پاکستان سے لے کر اب تک برسراقتدار آنے والی تمام سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔جو بھی پارٹی اقتدار میں آتی ہے وہ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کے درپے ہوتی ہے۔اختیارات کے ارتکاز کی وجہ سے ملک میں کرپشن کی راہ ہموار ہوگئی۔ کسی بھی سیاسی حکومت نے جمہوریت کی نرسری کہلانے والے بلدیاتی اداروں کے قیام اور انہیں مضبوط بنانے پر توجہ نہیں دی۔وفاق صوبوں کے اختیارات اور وسائل پر قابض رہا۔ صوبے بلدیاتی اداروں کے وسائل اور اختیارات تقسیم کرنے کے روا دار نہیں ہوئے یہاں جمہوریت کے نام پر جو نظام ہمیں نظر آرہا ہے۔وہ موروثی سیاست ہے جو مطلق العنان بادشاہت سے بھی بدتر نظام ہے۔ہماری سیاسی جماعتوں پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک آدھ جماعت کو چھوڑ کر کسی بھی پارٹی

میں جمہوریت نظر نہیں آتی۔ہر پارٹی ایک مخصوص خاندان سے جڑی ہوئی ہے۔پارٹی کے نام نہاد انتخابات میں تمام اہم عہدے مخصوص خاندان کے پاس ہوتے ہیں۔باپ چیئرمین ہے تو بیٹا پارٹی کا صدر، بیٹی نائب صدر، داماد جنرل سیکرٹری، چچا سرپرست اور چچازاد کنوینئر بن جاتاہے۔ہمارے ہاں انتخابات بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ضرور ہوتے ہیں مگر ووٹ دینے میں ضمیر کی آواز کو کوئی دخل نہیں، یہاں قومیت، مسلک، فرقے، لسانی اور علاقائی گروپ، خاندان اوررنگ و نسل کی بنیاد پر ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔سیاسی پارٹیاں بھی اپنے مخلص اور قربانی دینے والے کارکنوں کے بجائے ”انتخاب جیتنے کی اہلیت کے حامل“(Electables)کو ٹکٹ دیتے ہیں پارٹی کا ٹکٹ خریدنا اور انتخابی اخراجات بھی عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ صرف جاگیر دار، سرمایہ دار، صنعت کار لوگ ہی ووٹ خرید کر انتخاب جیت سکتے ہیں۔جس کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہمارے ایوانوں میں کبھی عام آدمی کے مفاد میں قانون سازی نہیں ہوئی کیونکہ انتخاب جیتنے والوں کو عام آدمی کے مسائل کا علم ہی نہیں ہوتا۔ یہ بات طے ہے کہ جب تک ضمیر کے کاروبار اور ووٹوں کی خریدوفروخت کا دھندہ چلتا رہے گااور سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت نہیں آئے گی اس ملک میں حقیقی جمہوریت کبھی نہیں آسکتی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔