
23 ستمبر بروزِ بدھ صبح سویرے، منہ اندھیرے، خوف کے مارے، دم درود کا ورد کرتے ہوۓ گھر سے نکلا اور نکلتے ہی ایک سینئر دوست کی ہمسفری نصیب ہوئی. دوست سے یہ کہتے ہوئے جانب کالج روانہ ہوا کہ ” مجھے رہزنوں سے گِلہ نہیں تری رہبری کا سوال ہے “۔ پورا راستہ وسوسوں، اندیشوں، خدشوں اور خطرات کو سوچتے ہوئے طے ہوا، لزرتے ہونٹوں اور کپکپاتے لبوں پر دعائیں جاری و ساری رہیں. یہ دعائیں، یہ دم، یہ درود اور وظائف کا ورد سفر کی صعوبتوں کے واسطے نہ تھا بلکہ پہلے دن سینئرز کی شر سے حفاظت کے لیے یہ سارے وظائف ورد لسان تھے. جس کے متعلق بہت کچھ سن رکھا تھا اور بہت سارے دوستوں کی طرف سے ایڈوانس میں دھمکیاں بھی مل چکی تھیں. یوں خدا خدا کر کے اور خوف کے مارے دھبی آواز میں چوکیدار حضرات کو عقیدت کے سلام پیش کرتے ہوئے کالج میں داخل ہوا تو یوں لگا کہ کسی میدان جنگ میں داخل ہو رہا ہوں، جہاں ہر طرف سے حملے کا خطرہ درپیش رہتا ہے ۔ کالج میں داخل ہو کر اپنے جیسے نئے اسٹوڈنٹس کی بھیڑ میں گھس کر چھپ چھپاتا کلاس روم میں داخل ہوا، اور وہاں پر بھی ایسا سہما بیٹھ گیا جیسا شکار شکاری کو دیکھ کر سہم جاتا ہے.
تھوڑی ہی دیر بعد اردو کے ٹیچر آگئے اور introduction کے بعد پڑھائی شروع کی۔ کلاس ختم ہونے کے بعد اگلی کلاس کے لیے دوسری block میں جانا تھا اس لیے پھر سے وہی ڈر دامن گیر رہا اور مارے خوف کے لرزتے ٹانگوں، سہمی آنکھوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ اسٹوڈنٹس کے آغوش میں خود کو چھپاتا دوسری block میں پہنچ گیا اور اسی طرح ہر block میں کلاس کے لیے جاتا رہا اور ragging سے بھی محفوظ رہا ۔
آخری کلاس کے لیے کمرہ جماعت میں بیٹھے سر کا انتظار کر رہے تھے، اتنے میں باہر ragging کرنے اور نئے لڑکوں کو ستانے کی آوازیں آنئے لگیں. مجھے اس منظر کو دیکھنا کبھی نصیب نہ ہوا تھا، اس لیے دل نے انگرائی لی اور میں بے خطر اس آگ میں خود جھونک دیا، اور ” آ بیل مجھے مار “ کے مصداق جا کر تماشہ گاہ میں کھڑا ہوا. سینئرز بھی بڑے ہشیار ثابت ہوئے اور دیکھتے ہی پہچان گئے کہ شکار نیا آیا ہے. مجھے پکڑ کر کلاس روم لے گئے اور نئے اسٹوڈنٹس کے سامنے جوہر خطابت دکھانے کا حکم صادر فرمایا۔ میں نے اس مصیبت سے خود کو آشنا بنانے کے لیے دل کھول کر خطابت کے جوہر دکھانے کی کوشش کی، تقریر کافی اچھی رہی 🤣 اور پورے نمبر بھی مل گئے 🙈 ۔ یوں میرے ساتھ ہونے والا اولین و آخرین ragging اختتام پذیر ہوا. اس کے بعد پھر کبھی میرے ساتھ کچھ اس طرح کا حادثہ پیش نہ آیا.
اس دوران کورونا کی وجہ سے ایک روز چھوڑ کر دوسرے روز کالج جانا ہوتا تھا. رفتہ رفتہ دوست احباب کے ساتھ ایسی دل لگی پیدا ہوگئی کہ چھٹی والا دن گھر پر گزارنا مشکل ہوتا تھا.
ڈگری کالج کے بارے بہت کچھ سن رکھا تھا اور جتنا سنا تھا سب غلط ہی سنا تھا، یہ سنی ہوئی باتیں ذہن میں تازہ تھیں اور میں اسی پیدا شدہ غلط تاثر کے ساتھ کالج پہنچا تھا. مگر چند ہی دنوں میں وہ سارے پروپگنڈے ذہن سے محو ہوگئے۔ سنا رکھا تھا کہ کوئی قاعدہ قانون نہیں، کوئی نظم و ضبط اور ڈسپلن نہیں، جس کی مرضی کلاس لے طبعیت مائل نہیں تو چلتا بنے کوئی پرسان نہیں. کلاس میں موبائل کا استعمال عام ہے اساتذہ دیکھ کر بھی کچھ نہیں کہتے وغیرہ وغیرہ _____ ۔ میں نے کالج کو بالکل اس کے بر عکس پایا. موبائل استعمال کی ممانعت سمیت نظم و ضبط کے تمام اصول بھر پور طریقے سے نافذ ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر جرمانہ بھی کیا جاتا ہے. پرنسپل صاحب خود کالج کے اندر گھوم کر ہر چیز کا خود جائزہ لیتے رہتے ہیں. سب کے سب اساتذہ کرام انتہائی شفیق اور محنت کرنے اور کرانے والے ہیں. نصیحت کرتے ہیں تو زباں سے پھول برستی اور موتی اگلتا ہے. جب پڑھاتے ہیں تو ہر چیز ذہن نشین کرکے رکھ دیتے ہیں.
قصہ مختصر ، گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کا ماحول نہایت پر سکون ، نظم و ضبط مثالی اور اساتذہ اپنے اپنے فن میں یکتائے روزگار ہیں. میں ہر میٹرک پاس کرنے والے قابل اسٹوڈنس کو مشورہ دوں گا کہ ڈگری کالج جیسے دانش گاہ کی موجودگی میں ادھر ادھر کے کالجوں میں اپنا وقت اور پیسہ ضائع نہ کریں ۔ اور نہایت اطمینان کے ساتھ اسی قابل فخر درس گاہ کا انتخاب کریں ۔ اللّٰہ تعالیٰ مجھے اور باقی تمام طالب علموں کو خوب محنت کر کے اپنے ملک کا، قوم کا، والدین کا، اساتذہ کرام اور کالج کا نام روشن کرنے کی توفیق عطا فرمائے ( آمین )🌷۔
بر تر از اندیشہ ، سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی ۔
{علامہ محمد اقبال}
