پاور پروڈیوسرز کی ستم سامانیاں…محمد شریف شکیب

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی کی قیمتوں میں تین دنوں کے اندر تیسری بار اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ نیپرا کی جانب سے بجلی قیمتوں میں اضافے کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ سہ ماہی بنیادوں پرکیاجارہا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں نیااضافہ ایک سال کے لئے کیا گیا جس سے صارفین پر200 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ابھی اس فیصلے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ اگلے ہی روز بجلی کی قیمت ایک روپے 53پیسے بڑھانے کا اعلامیہ جاری کردیاگیا۔ تیسرے روز بجلی کی قیمت مزید ایک روپے 95پیسے بڑھانے اور ٹیرف ساڑھے چودہ روپے سے سولہ روپے 33پیسے کرنے کا اعلان کیاگیا۔اتنی جلدی کوئی اپنا پاجامہ نہیں بدلتا۔ جتنی تیزی سے بجلی کے نرخ بڑھائے جارہے ہیں۔اگرچہ اپوزیشن جماعتوں اور عوامی حلقوں نے بجلی کی قیمتوں میں تین دنوں کے دوران تین بار اضافے کو مسترد کردیا ہے لیکن نئی قیمتوں کے مطابق بجلی کے بل انہیں دینے ہی پڑیں گے۔فیصلہ مسترد کرنے والی بات تو محض اپنے غصے کے اظہار کے لئے کی جارہی ہے۔ماضی کی حکومتوں نے Independent Power Producers(آئی پی پیز)کے نام سے جو مصیبت قوم پر مسلط کی ہے یہ سارا جنجال انہی کا پیدا کردہ ہے۔ملک میں توانائی کی 60فیصد ضروریات پانی سے پیدا ہونے والی بجلی سے پوری ہوتی ہیں۔باقی ماندہ چالیس فیصد بجلی شمسی توانائی، ایٹمی ری ایکٹر، گیس، کوئلے اور تیل سے تیار کی جاتی ہے۔ پانی سے پیدا ہونے والی بجلی پر ایک روپے پچاس فیصد فی یونٹ لاگت آتی ہے۔جبکہ قوم سے ساڑھے سولہ روپے فی یونٹ قیمت وصول کی جاتی ہے۔ اگر ہم بجلی کے بلوں پر نظر دوڑائیں تو ہوشرباء حقائق سامنے آتے ہیں۔ بل میں بجلی کی اصل قیمت اگر 800روپے ہے تو فیول ایڈجسمنٹ کے نام پر چار پانچ سو اس میں شامل کئے جاتے ہیں سترہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس کے نام پر دو ڈھائی سو روپے مزید اضافہ کیاجاتا ہے نیلم جہلم بجلی گھر 2018میں مکمل ہوا تھا۔ اس مد میں گذشتہ پندرہ سالوں سے عوام سے وصولیاں کی جارہی ہیں۔مساجد، مزارات اور عبادت گاہوں سے بھی ٹیلی وژن فیس بجلی کے بلوں میں وصول کئے جارہے ہیں۔ اضافی سرچارج، دیگر محصولات سمیت بجلی کا بل دو ہزار سے زیادہ بنتا ہے۔کسی مہینے اگر تیل سے زیادہ بجلی پیدا کرنے پر تین چار ارب روپے کے اضافی اخراجات آئیں تو فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر آٹھ دس ارب غریب عوام کی جیبوں سے نکالے جاتے ہیں۔عوام پر آئے روز بجلی کا بم گرائے جانے کا منتخب حکومت نوٹس لیتی ہے نہ ہی کسی جج کو اس پر از خود نوٹس لینے کی توفیق ہوتی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم سمیت کابینہ کے کسی رکن نے بجلی کی قیمت میں ایک مہینے کے دوران پانچ، قدرتی اور مائع پٹرولیم گیس کی قیمت میں مہینے میں دو مرتبہ اضافے کی درخواست پرکوئی اعتراض نہیں کیا۔حالانکہ حکمران بخوبی جانتے ہیں کہ تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے ہر چیز مہنگی ہوتی ہے اور موجودہ حکومت کو سنگین ترین خطرہ صرف اور صرف مہنگائی سے لاحق ہے۔اگر مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کے لئے فوری اقدامات نہ کئے گئے تو پی ٹی آئی پر اقتدار کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہوسکتے ہیں۔حکمران ہر ہفتے اشیائے ضروریہ کی وافر مقدار میں دستیابی کے حوالے سے اجلاس کرتے ہیں گندم، آٹے، چینی، گھی اور آئل کی دستیابی کی تاکید کی جاتی ہے مگر ان کی قیمتوں کا جائزہ لے کر حقائق سے آگاہی حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ابھی بجلی مہنگی ہونے کے جھٹکے سے عوام نہیں سنبھل پائے تھے کہ اوگرا نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں سولہ روپے فی لٹر اضافے کی سمری پٹرولیم ڈویژن کو بھجوادی ہے۔ اگر یہ سمری منظور کی گئی تو مہنگائی کی نئی لہر آئے گی جو غریب عوام کی شکستہ کمر پر ضرب کاری ثابت ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔