تازہ ترینمضامین

آواز درویش۔۔”نرسیان کھجور اور ہماری ریاست مدینہ”طارق وحید خان

امیر المومنین حضرت عمر فاروق کے دور میں فتح ایران و عراق کے علاقے کےجاگیرداروں اور رئیسوں کو جب یقین ہو گیا کہ ان کے علاقے سلطنتِ فارس سے نکل کر مسلمانوں کے قبضے میں آگئے ہیں اور انہوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ مسلمان خوشامد پسند نہیں اور یہ بادشاہ بھی نہیں اور یہ عزتیں لوٹنے کے بجائے عزتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ لوگ اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے ابو عبید اور ا ن کے سالاروں کو اپنے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔ اس دوران ان کیلئے نہایت مرغن اور پر تکلف کھانا لائے جس میں انواع اقسام کے کھانے تھے ۔یہ ان کی عقیدت مندی کااظہار تھا۔ ابو عبید نے یہ شاہانہ کھانا دیکھا ۔پھر اپنے سالاروں کی طرف دیکھا۔
’’کیا یہ کھانا میرے پورے لشکر کیلئے کافی ہو گا؟‘‘ ابو عبید نے پوچھا۔
’’نہیں!‘‘ایک جاگیر دار نے کہا۔’’ یہ صرف آپ کیلئے ہے……سالاروں کے لیے……‘‘اس نے ہنس کر کہا۔’’ سپاہیوں کو ایسا کھانا کون دیتا ہے؟‘‘
’’پھر یہ کھانا واپس لے جاؤ۔‘‘ ابو عبید نے کہا۔’’ ہمارے لشکروں میں سالار بھی وہی کھانا کھاتے ہیں جو سپاہی کھایا کرتے ہیں ۔ یہ ہمارے سپاہی نہیں ﷲ کے سپاہی ہیں۔ اگر تم پورے لشکر کو ایسا کھانا دے سکتے ہو تو ہم بھی کھا لیں گے ورنہ نہیں۔‘‘
اس اثناء میں جاگیرداروں نے بڑی عجلت میں مجاہدین کے پورے لشکر کیلئے ایساہی کھانا تیار کرایا جو سالاروں نے مجاہدین کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھایا۔
انہی تاریخ نویسوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کیلئے مدینہ بھیجا گیا تو اس کے ساتھ اس علاقے کی ایک خاص قسم کی کھجور بھی حضرت عمرؓ کے لیے بھیجی گئی۔ اس کھجور کا نام نرسیان تھا۔ یہ فارس کے صرف شاہی خاندان اور جرنیل کھاتے تھے ۔عام لوگوں کے نصیب میں یہ کھجور نہیں تھی۔ ابو عبید نے یہ کھجور اپنے لشکر میں تقسیم کرنے کے علاوہ اس علاقے کے غریب کسانوں میں تقسیم کی اور حکم جاری کیا کہ آئندہ یہ کھجور ہر خاص و عام کھا سکتا ہے ۔
مندرجہ بالا سطور پڑھتے وقت میرا زہن اس نام نہاد ” ریاست مدینہ” میں رہنے والے ان غریب اور مفلس لوگوں کے بارے میں سوچتا رہا کہ جن کو دو نہیں بلکہ ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں وہ جو سارا سارا دھوپ اور سردی میں دکانوں کے باہر ایک رسی لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ گاہک کا سامان اٹھا کر مزدوری کریں۔۔ ملک کے بڑے بڑے شہرون میں ہوٹلوں کے باہر کھڑی بیش قیمت گاڑیوں میں آ ے ہوئے امرء جو کھانا تناول فرماتے ہیں پاکستان میں رہنے والے ایک عام آدمی کی زبان نے ساری زندگی وہ کھانا کبھی چکھا بھی نہیں ہوتا۔۔
یاد رکھیں یہ سب کچھ ایک ایسے CCTV کیمرے میں ریکارڈ ہو رہا ہے جس کا DVR پروردگار کے پاس ہے اور جلد ہی ریلیز بھی ہو جائے گا۔۔ “ریاست مدینہ” کے علم بردارو ابھی وقت ہے اپنی پیشانی پروردگار کے آ گے اتنی رگڑو کہ خون نکل آ ے اور اللّٰہ آ پ کو سیدھا راستہ دکھا کر رہنمائی کر دے۔۔۔
عوام کو صرف اتنا کہوں گا کہ ” بہترین جہاد جابر سلطان کے آ گے کلمہ حق کہنا ہے۔(زرا نہیں زیادہ سوچیے اب وقت کم رہ ۔۔۔۔گیاہے۔)

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔