
سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گلسمبر بیگم آج بونی میں اسودہ خاک ہوئے۔
اپرچترال(ذاکر محمد زخمی)گلسمبربیگم کا شمار ایسی خواتین میں ہوتا تھا
جو علاقے میں علم کی روشنی پھیلانے کے ساتھ ساتھ روایات،تہذیب،شرافت،اخلاق اور تمدن کا ہر لحاظ سے پاسداری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جس زمانے میں عورت کی تعلیم کا تصور چترال میں بہت کم پائی جاتی تھی اُس وقت آپ نے حصولَ علم کے خاطر ریشن سے ہوتے ہوئے کراچی تک کا سفر کیا جہاں شعبہ صحت میں ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد چترال آکر شعبہء صحت میں اپنی خدمات شروع کی۔1981 میں بحیثیت ایس۔ای۔ٹی محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوئی۔1992 میں پبلک سروس کمیشن پاس کرنے کے بعد بحیثیت ہیڈ مسٹریس آپ کی تعیناتی ہوئی۔محنت،لگن اور خدمت کے جذبہ سے سرشار گلسمبر بیگم نے بعد میں ترقی کرکے گریڈ 19تک پہنچنے والے چترال کی پہلی خاتون کی اعزاز حاصل کی اور بحیثیت ۔ڈی۔ای ،او2011 تک خدمات انجام دینے کے بعد عزت اور عظمت کے ساتھ ریٹائرڈ ہوئے۔آپ نے علاقے میں اور خصوصاً خواتین میں علم کی روشنی پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کی۔آپ کی خدمات کو علاقے کے لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔علم اور شرافت کی دولت سے مالا مال گلسمبر بیگم مختصر علالت کے بعد جمعرات25فروری کو پشاور میں اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔آپ کی جسد خاکی کو 26فروری کو بونی پہنچاکر
بعد ازنماز جمعہ ان کے ابائی قبرستان بونی میں اشکبار انکھوں کے سامنے سپرد خاک کر دیا گیا۔جنازہ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد چترال بھر سے شرکت کی۔
