بچوں پر تشدد کے خلاف قانون…محمد شریف شکیب

قومی اسمبلی نے سود کے کاروبار پر پابندی اوربچوں پر تشدد کرنے والے اساتذہ کو نوکری سے برخاست کرنے سمیت 3بل منظور کرلئے جبکہ معذور افراد کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دینے،پانی کو آلودہ کرنے والے شخص کو 3سال تک قید،بلوغت کی عمر18سال مقرر کرنے سمیت 6بل پیش کر دئیے گئے جنہیں مزید غوروخوض کیلئے قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیئے گئے۔سودی کاروبار کرنے والے کو دس سال تک قیداور دس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔پانی کو آلودہ کرنے کی ممانعت سے متعلق بل میں تجویز دی گئی ہے کہ سرکاری چشمے یا آبی ذخائر کو آلودہ کرنے والے شخص کو تین سال تک قید یا ایک کروڑ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔اور پولیس کو اسے بغیر وارنٹ گرفتار کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ امتناع جسمانی سزا بل 2020میں بچوں پر تشدد یا سزا دینے کی ممانعت کی گئی ہے، بچوں پر تشدد کرنے والے اساتذہ کی ترقی یا انکریمنٹ کو مخصوص عرصے تک روکا جا سکے گا۔بچوں پر تشدد کے مرتکب ملازم کو تنخواہ نہیں دی جائے گی اور اسے ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔سکول سے غیر حاضر رہنے، سبق یاد نہ کرنے، ہوم ورک کرنے میں کوتاہی اور کلاس میں شرارت کرنے پر جسمانی سزائیں دینے کا رواج برسوں نہیں بلکہ صدیوں سے رائج ہے۔ پرانے زمانے کے والدین بچے کو سکول میں داخل کراتے وقت اساتذہ کو یہ زبانی گارنٹی بھی دیتے تھے کہ بچے کا گوشت پوست تمہارا اور ہڈیاں ہماری ہیں۔ اسے انسان کا بچہ بنانے کے لئے جو بھی حربہ استعمال کرناچاہو۔ تمہیں اجازت ہوگی۔ اس وجہ سے سکول میں جسمانی تشددکی شکایات گھروں تک نہیں پہنچتی تھیں۔اور غلطی سے ایسی شکایت کرنے والے بچے کو گھر میں بھی سزا ملتی تھی۔ ٹچ موبائل کے موجود دور میں بچوں پر تشدد کے واقعات کو چند لمحوں کے اندر موبائل کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرکے سوشل میڈیا کے حوالے کیا جاتا ہے اور پھر اس پر تبصرے شروع ہوتے ہیں۔تشدد کے ذریعے بچوں کو سدھارنے کا طریقہ بہت فرسودہ ہونے کے ساتھ بے نتیجہ ثابت ہوا ہے۔ گھوڑے، شیر، کتے اوربندر کو بھی سدھارنے کے لئے ان کے ساتھ پیار محبت کا برتاؤ کیاجاتا ہے۔انسان کے بچے کو حیوان سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنانے والے اساتذہ دراصل خود نالائق اور تربیت کے رموز سے عاری ہوتے ہیں۔اور اپنی نااہلی چھپانے کے لئے معصوم بچوں کو تختہ مشق بناتے ہیں۔ ہمارے زمانہ طالب علمی میں جتنے بھی ساتھی اساتذہ کے تشدد کا اکثر نشانہ بنتے تھے ان میں سے کسی ایک نے بھی اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل نہیں کی اور مسلسل تشدد کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ نے پر مجبور ہوگئے۔ ایسے بھی بہت سے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ اساتذہ کے وحشیانہ تشدد کی وجہ سے بچوں کے کان کے پردے پھٹ گئے۔ جبڑے ٹوٹ گئے اور متعدد بچے زندگی بھر کے لئے معذور ہوگئے۔ہاتھ پیر کی ہڈیاں توڑناتو معمول کی بات تھی۔دینی مدارس میں بھی بچوں پر انسانیت سوز تشدد کی وڈیوکلپس اکثر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہتی ہیں۔ گذشتہ دس پندرہ سالوں سے محکمہ تعلیم نے جسمانی سزاؤں پر پابندی لگادی ہے مگر مارنے کے شوقین اساتذہ نے ان زبانی کلامی ہدایات کو نظر اندازکردیا۔ اب قومی اسمبلی سے جسمانی تشدد پر سزائیں مقرر کرنے کے قانون کی منظوری خوش آئند ہے۔ اب اساتذہ کو کارکردگی دکھانے کے لئے تشدد کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے اپنی نوکری بچانے کی فکر کرنی ہوگی۔ چونکہ محکمہ تعلیم صوبائی معاملہ ہے اس لئے خیبر پختونخوا حکومت کو بھی اسمبلی سے بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کا قانون منظور کرانا چاہئے۔ اورتدریس کے جدید اصولوں اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہوگا تاکہ بچے طوطے کی طرح رٹہ لگاکر امتحان پاس کرنے کے لئے سبق یاد کرنے کے بجائے علم کو عملی طریقوں سے سیکھ سکیں۔جو ان کی عملی زندگی میں بھی کام آسکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔