تازہ ترین

مدارس کے غریب طلبہ و طالبات کی طرح اسکول، کالج اور یونیورسٹیز کے نادار اسٹوڈنٹس بھی زکوٰۃ اور صدقات کے مستحق ہیں۔مولانا خلیق الزمان

چترال (چترال ایکسپریس) خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان کاکا خیل نے کہا ہے مدارس کے غریب طلبہ و طالبات کی طرح اسکول، کالج اور یونیورسٹیز کے نادار اسٹوڈنٹس بھی زکوٰۃ اور صدقات کے مستحق ہیں، صاحب ثروت مسلمان کالج و یونیورسٹیز کے غریب طلبہ و طالبات کی بھی زکوٰۃ و صدقات اور عطیات سے دل کھول کر مدد کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شاہی مسجد چترال میں نماز جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا خلیق الزمان کاکا خیل نے کہا کہ زکوٰۃ دین اسلام کا ایک اہم ترین رکن ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے نادار اور مفلوک الحال بندوں کی مدد کیلئے مقرر فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں زکوٰاۃ کے تفصیلی احکام ارشاد فرمائے گئے ہیں اور اس کا مقصد سوشل ویلفیئر کے مستحکم نظام کا قیام ہے، تاکہ سوسائٹی میں غربت و امارت میں توازن اور اعتدال قائم رہے اور کوئی شخص تنگدستی اور مفلوک الحالی کے باعث زندگی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہے، انہوں نے کہا کہ تاریخ میں جب بھی یہ نظام کما حقہ لاگو ہوا، سوسائٹی سے غربت کا خاتمہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم غربت کے خاتمے کیلئے دنیا کے انسانی ساختہ فارمولوں کی طرف دیکھ رہے ہیں مگر چودہ صدیاں قبل اللہ نے ہمیں جو فارمولا دیا، اسے اپنانے اور منظم کرتے ہوئے عار محسوس کرتے ہیں، اسی لئے عالم اسلام میں آج غربت ہر طرف پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام صاحب ثروت مسلمان باقاعدگی سے زکوٰۃ، صدقات اور عطیات دیا کریں اور زکوٰۃ، صدقات و خیرات کے صحیح استعمال کا منظم نیٹ ورک قائم کیا جائے تو آج بھی اس نظام کے ثمرات سے سوسائٹی مستفید ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری اپیل ہے کہ تمام اہل خیر حضرات باقاعدگی سے زکوٰۃ ادا کریں اور اپنے مال میں سے نادار افراد اور غریب خاندانوں کے مستحق اسٹوڈنٹس کی بھی بھرپور مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح دینی مدارس کے غریب طلبہ زکوٰۃ کے مستحق ہیں، عین اسی طرح کالجز اور یونیورسٹیز کے وہ طلبہ جن کے والدین اور سرپرست ان کے تعلیمی اخراجات نہیں اٹھا سکتے، وہ بھی زکوٰۃ و صدقات کے مستحق ہیں، انہوں نے کہا کہ جدید علوم و فنون علوم مفیدہ کی حیثیت سے آج کی دنیا میں سربلندی کا اہم ذریعہ ہیں، آج ہم دنیا میں مغلوب و محکوم اسی لئے ہیں کہ ہم نے علوم میں تفریق کی لکیر کھینچ دی ہے اور ان علوم و فنون سے ناتا توڑ دیا ہے جو دنیا میں سر بلندی کیلئے سبب اور معاون کا درجہ رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جدید علوم و فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے سوسائٹی کو زکوٰۃ و صدقات کی مد میں لائق و ذہین نوجوانوں کی مدد کا بار اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ علمائے دین جدید تعلیم کے ہرگز مخالف نہیں ہیں، بلکہ وہ جدید تعلیم کے نام پر ذہنی تخریب، اغیار کی اندھی تقلید، دین بیزاری اور بے محابا اختلاط مرد و زن کی فتنہ انگیزی کے مخالف ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم تہذیب کے دائرے میں بھرپور محنت سے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بھرپور ترقی کر سکتے ہیں، اس کیلئے ہمیں مشنری جذبے سے تمام علوم مفیدہ کی سرپرستی کرنا ہوگی اور اس کیلئے زکوٰۃ و صدقات کے نظام سے استفادہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ الحمد للہ چترال کے علماء جدید علوم کے نہ صرف بھرپور حامی ہیں بلکہ عملاً جدید تعلیم کی مالی سرپرستی بھی کر رہے ہیں، جس کی سب سے بڑی مثال محسن چترال قاری فیض اللہ چترالی کی ہے، جو ہر سال لاکھوں روپے میٹرک کے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کیلئے خرچ کرتے ہیں اور 2003 سے اب تک تقریباً 50 لاکھ روپے اس مد میں خرچ کر چکے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی زکوٰۃ میں کالج و یونیورسٹیز کے نادار و غریب اسٹوڈنٹس کا بھی حصہ کریں تاکہ بہ حیثیت مسلمان ہم دنیا میں سرخرو ہو سکیں۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى