زندگی امکان پہ زندہ ہے..تحریر:ناصرعلی شاہ

مطالعے کی عادت انسان کو سوچ بچارسے ہم آہنگ کرتی ہے اور مطالعے کی طاقت سے دماغ کھل جاتا ہے جس کی بدولت صیح و غلط میں تمیز کیساتھ ساتھ ایک دوسرے کو سہارنے کی قوت اور برداشت کی ساکت باقی رہتی ہے.

آدمی سے انسان ہونے کے لئے کتاب کا مطالعہ نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آدمی ایک مادی وجود جبکہ انسان اخلاقی وجود ہے.
اب ہمارے مطالعے کی عادت مر چکی ہے جان بوجھ کر یا سازش کے تحت علم سے دوری اختیار کر چکے ہیں. نفسا نفسی کا عالم ہے زندہ رہنے کی خاطر ملازمت درکار ہے اسی وجہ سے تعلیم کے بجائے ہنر کے پیچھے بھاگ دوڑ جاری ہے اور ہم علم کو زندگی کے بجائے روزگار پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں حالانکہ زندگی کے لئے علم کی ضرورت ہوتی ہے.
کتاب سے رشتہ توڑ کر ہم بنجر زمیں جیسی ہو چکے ہیں جو بے کار پڑی ہوتی ہے. مطالعے کی عادت ختم ہونے سے شعور میں کمی ہوتی جارہی ہے جبکہ بحث عروج پذیر ہے جو فتنہ و متناعہ کا سبب بنتی جارہی ہے صبروتحمل کوسوں میل دور جاچکا ہے آنا پرستی سرائیت کر چکی ہے حق بات کہنا بھی محال ہے مختصر یہ کہ ہم آواز اور تصویر تک محدود ہوچکے ہیں.
کتاب سوچنا سیکھاتی ہے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر معاشرے کو سوچنے سے الگ کیا جا چکا ہے جس کی بنا پر مادی وجود تو نظر آتا ہے مگر اخلاقی وجود ختم ہوتی جارہی ہے اخلاقیات و روایات کہانیان بنتی جارہی ہیں.
مطالعہ معاشرے کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے مگر افسوس جہان ہم آئینی زمہ داریان پوری کرنے سے قاصر ہیں وہان اخلاقی کہان سے کرینگے.
ہم رٹے کی وجہ سے خود فریبی میں مبتلا ہیں کیونکہ جس قوم کی تعلیم رٹے سے ہوئی ہو وہ اجداد کی تقلید تو کرسکتی ہے مگر تخلیق نہیں جس کی وجہ سے جو نظر انا چاہئے آتا نہیں اور یقین کرے کتاب ہی وہ آئینہ ہے جو صیح و غلط اور حقیقت سے آشنا کراسکتی ہے عقل کا درست استعمال کرکے اخلاقیات و روایات کمطابق زندگی گزارا جائے بہترین معاشرے کی تشکیل نو ہوسکتی ہے..

ہمارے معاشرے میں ایسے دانشور و عالم موجود ہیں جن سے ملنے کے بعد درس کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ان کی گفتگو اور ان کے کام میں اخلاقیات ظاہر ہوتی ہے میری ایسے تمام خواتیں و حضرات سے پرزور گزارش ہے کتاب سے رشتہ جوڑنے میں کردار ادا کرکے نوجوانوں کی رہمنائی کیجئے کتاب سے محبت اور مطالعے کا گر سیکھائیے.

اساتذہ کرام( اپ کی محنت و محبت کو لاکھوں کروڑوں سلام) سکولز, کالیجز, یونیورسٹیز سے صرف ڈاکٹر, کیپٹن, انجینرز ہی نہیں بلکہ دیانتدار, صاف گو, دانشمند, مہذب و شائستہ, اخلاقیات میں بے مثال اور ایماندار شخصیات پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کیجئے تاکہ اپس میں محبت, عزت و احترام کیساتھ معاشرہ پروان چڑھے اگر ایسے کرنے میں ناکام رہے یقین کیجئے کچھ سالوں بعد نفرت, خودعرضی اور دشمنی اس تھوڑے بہت خلوص و اخلاص کو ختم کردیگا.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔