تازہ ترینمضامین

قانون کی پاسداری…محمد شریف شکیب

جاپانی حکومت کے اہم ترجمان نے وزیراعظم یوشی ہیڈے سوگاکے بیٹے کی طرف سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت پر عوامی دباؤکے تحت اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزیراعظم کی خاتون ترجمان مکیکو یمادا نے اس وقت استعفی دیا ہے جب ان کی ایک پْرتعیش اور نہایت مہنگے ڈنر میں شرکت کرنے پر سرزنش کرنے کا فیصلہ کیاگیا ۔جاپان کی حکومت نے مکیکو یمادا کے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یمادا کی طبیعت ناساز ہے اور وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے ذاتی وجوہ کی بناء پر استعفیٰ دیا ہے حالانکہ وزیراعظم چاہتے تھے کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں۔جاپان کے نیشنل سول سروس کے ضابطہ اخلاق کے رولز کے تحت سرکاری ملازمین کو کمپنیوں یا افراد سے تحائف یا تفریحی دورے قبول کرنے اور بڑے کھانوں میں شرکت پر پابندی عائد ہے اور خلاف ورزی پر ملازمت سے برخاست کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم سوگا کے بیٹے کے ساتھ یمادا سمیت 11 بیوروکریٹس رات کا کھاناکھایاتھا اور کھانے کا فی کس بل 74 ہزار 203 جاپانی ین بنا تھا۔یمادا کی ڈنر میں شرکت کرنے پرپارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن ارکان نے ان سے پوچھ گچھ کرنا تھی تاہم وہ علالت کے باعث اس میٹنگ میں شرکت نہ کرسکی۔یمادا کے استعفیٰ دینے کے بعد صورت حال بھی تبدیل ہوگئی ہے اب ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔فی الحال یہ واضح نہیں کہ پرتعیش دعوت اڑانے کے بعد یمادا کو فوڈ پوائزن ہوگیا ہے یا انکوائری شروع ہونے پر ہمارے سیاست دانوں والی بیماری انہیں لاحق ہوگئی ہے۔جاپانی حکومت کے سرکاری ترجمان کا عہدہ ہمارے ہاں گریڈ 22کے افسر کے برابر ہوتا ہے۔انہیں بخوبی علم ہوگا کہ دعوت قبول کرنے سے ان کی نوکری داؤ پر لگ سکتی ہے نجانے کس مجبوری کے تحت بیچاری نے اپنے روزگار کو داؤ پر لگادیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ وہ لوگ جھوٹ نہیں بولتے، دھوکہ دہی سے کام نہیں لیتے، قانون کی مکمل پاسداری کرتے ہیں خواہ انہیں کتنا ہی نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ جس معاشرے میں قانون کی بالادستی ہو۔ اس معاشرے کو ترقی کرنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ وہاں قانون کی نظر میں بادشاہ، وزیراعظم، وفاقی سیکرٹری، کسی دفتر کا چپڑاسی اور عام شہری برابر حیثیت کے حامل ہیں کسی کے ساتھ اس کی سماجی،معاشی یا سیاسی حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیاجاتا۔نادانستہ طور پر بھی ان سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اس کا برملا اعتراف کرتے ہیں اور اس کی سزا کے لئے بھی خود کو پیش کرتے ہیں اور اس عمل کو وہ اپنا قومی اور اخلاقی فرض سمجھتے ہیں۔جبکہ ہمارے ہاں قانون کی پاسداری نہ صرف قومی اور اخلاقی فریضہ ہے بلکہ ہمارا مذہب اسلام بھی ہمیں قانون کی سختی سے پاسداری کا درس دیتا ہے۔ مگر ہمارے حکمران، افسر شاہی اور بااثر لوگ دینی فرائض کی بجاآوری،اپنے آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو اپنی شان و شوکت کے منافی سمجھتے ہیں۔قومی امانت میں خیانت کے الزام میں پکڑے جائیں تو بیماری کا بہانہ کرکے ہسپتال میں داخل یابیرون ملک فرار ہوجاتے ہیں۔اگر چوری کا الزام عدالت میں ثابت نہ ہوجائے تو جشن مناتے ہیں۔دوسری طرف کسی عام آدمی پر مرغی چوری کا الزام لگ جائے تو اس پر برسوں مقدمات چلتے ہیں کئی سالوں تک اسے جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ سول کورٹ سے معاملہ سیشن کورٹ، وہاں سے ہائی کورٹ اور پھرسپریم کورٹ تک جاتا ہے اس ملک کے 90فیصد لوگوں کے لئے فوری اور سستے انصاف کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ انصاف کے اس دوہرے نظام کی وجہ سے ہم مسلسل تنزلی کا شکار ہیں۔جب کوئی قانون بنتا ہے تو قانون بنانے والوں سمیت اس ملک میں رہنے والے تمام لوگوں پر اس کی پابندی لازمی ہوتی ہے۔جب تک حکمران اور بیوروکریسی خود پر قانون کا اطلاق نہیں کریں گے۔حکومت کی رٹ، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی والے مفروضات دیوانوں کی باتیں ہیں۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔