مفاہمت کی تعمیری سیاست…محمد شریف شکیب

سینٹ کی 48خالی نشستوں پر انتخابات کا مرحلہ بخیر و خوبی مکمل ہوگیا۔ مگر اس کی باز گشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔ حکومت اور اس کی اتحادی جماعتیں سینٹ انتخابات میں کامیابی پر جشن منارہی ہیں اور مٹھائیاں تقسیم کی جارہی ہیں تو دوسری طرف گیارہ اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد پی ڈی ایم کے قائدین بھی سینٹ انتخابات کو اپنی اہم کامیابی قرار دے کر ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے ہیں اور دعوتیں اڑائی جارہی ہیں گویا سینٹ کے حالیہ انتخابات میں دونوں فریق کامیاب ہوئے ہیں۔حالانکہ انتخابی سیاست سمیت ہر کھیل میں ایک ٹیم کی جیت ہوتی ہے تو دوسری کی ہار ہوتی ہے۔ ایسا کسی کھیل میں نہیں ہوا کہ دونوں فریق جیت گئے یا دونوں ہی ہار گئے۔اپوزیشن اسلام آباد کی ایک جنرل نشست پر سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کی کامیابی کو لے کر پھولے نہیں سما رہی۔حالانکہ حکمران جماعت پی ٹی آئی26نشستیں حاصل کرکے ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔ اور ایوان میں حکمران اتحاد کی نشستوں کی تعداد بیس پچیس سے بڑھ کر 49ہوگئی ہے۔ اس لئے حزب اقتدار کے جشن منانے کی بات سمجھ میں آرہی ہے۔ اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ چاروں صوبوں میں شکست کے باوجود وفاقی دارالحکومت کی ایک سیٹ جیت کر اپوزیشن والے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سینٹ کی ایک نشست پر ہاریا جیت کا وزارت عظمیٰ سے کیا تعلق بنتا ہے اس بارے میں طویل سوچ بچار کے باوجود کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ابھی سینٹ انتخابات کی گہما گہمی مدھم نہیں ہوئی تھی کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے لئے دوڑ دھوپ شروع ہوگئی ہے۔ ملاقاتوں، یقین دہانیوں اور وعدے وعید کے سلسلے عروج پر ہیں۔ اس بار ہماری سیاست میں ایک نیارجحان پنپنے لگا ہے۔ اسلام آباد کی جنرل نشست پر اپوزیشن اتحاد کے امیدوار نے وزیراعظم سے بھی ووٹ مانگ لیا تو دوسری جانب حکمران جماعت کے وفد نے اپوزیشن اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت سے ملاقات کرکے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لئے ان سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ دوسری جانب پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جے یو آئی نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا عہدہ مانگ لیا ہے اور پیپلز پارٹی نے حکومت کا ساتھ چھوڑنے پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا عہدہ متحدہ قومی موومنٹ کو دینے کی پیش کش کی ہے۔ کہاجاتا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ ملنے کی صورت میں ایم کیو ایم وفاقی حکومت کا ساتھ چھوڑ دے گی اور انہیں سندھ حکومت میں بھی ایڈجسٹ کیا جائیگا۔اے این پی نے حکومتی وفد اور ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کو یہ کہہ کر ٹرخادیا کہ پارٹی میں مشاورت کے بعد جواب دیا جائے گا۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات اور سینٹ الیکشن کی بدولت ملک میں تعمیری قسم کی سیاسی سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے۔ جو ملک میں جمہوریت کے لئے خوش آئند ہے۔ حزب اختلاف کی سنجیدہ قیادت کے بدلے ہوئے طرز عمل سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن نے حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی مہلت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔جو دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ کیونکہ کورونا وباء اور عالمی سطح پر معاشی کساد بازاری کے اثرات ہمارے ہاں بھی صاف نظر آرہے ہیں ایسی صورتحال میں کسی بھی جماعت کے پاس عالمی بحران سے نمٹنے کا حل موجود نہیں۔ بہتر یہی ہوگا کہ سیاسی عمل کو پرسکون انداز میں چلنے دیا جائے اور ملک کی سیاسی قیادت کے چناؤ کا فیصلہ آئندہ عام انتخابات میں عوام کو کرنے دیا جائے۔ یہی موقع ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت عوام کوکئی عشروں سے درپیش مسائل حل کرنے کے لئے مل بیٹھ کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے۔ آئندہ جو بھی حکومت بنے وہ متفقہ لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانے کی پابند ہو۔ اس حوالے سے موجودہ حکومت کو قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے پہل کرنی چاہئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔