آواز درویش …..پاکستان میں ناپ تول کا نظام اورلاہور کا “حسو تیلی”…(طارق وحید خان)

قارئین! عام انسان کے لیے اب زندگی گزارنا دن بدن نہایت کٹھن ہوتا جا رہا ہے بےروزگاری، کاروبار کا نہ ہونا اور ملکی قرضے ایک ٹک ٹک کرتا بمب بنتےجا رہے ہیں اس پر سونے پر سہاگہ ہمارے شاہانہ طور طریقے جن میں سے سرفہرست صبح دیر تک سونا اور کاروبار کا آغاز 11، 12 بجے کرنا اپنے رزق میں خود ساختہ برکت اٹھانے کا نام ہے یاد رکھیں اللہ کے رسول نے فرمایا برکت صبح کے وقت میں ہے اس طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ “صبح اٹھنے میں پرندوں کا سبقت لے جانا تمہارے لئے باعث شرم ہے”
انسان چاہے کتنی ہی ترقی کر لے جتنی مرضی ٹیکنالوجی آجائے اور جتنا مرضی تیز بھاگ لے لیکن ہدایت کا واحد راستہ دین محمدی میں ہی پنہاں ہے قرون اولیٰ کے دور میں نہ تو ڈیجیٹل سکیل تھے اور نہ ہی ناپ تول کا اعشاری نظام لیکن اس کے باوجود لوگ پورا تولتے تھے۔ اناج کے لیے ایک مخصوص برتن ہوتا تھا اور گاہک کے سامنے ہی اناج تولا جاتا تھا جبکہ قاضی اس دوران گاہےبگاہے شہر کے بازار کا خود چکر لگاتے اور موقع پر ہی سزا دی جاتی تاکہ باقی کے دکاندار عبرت پکڑیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا- ترجمہ: “جب بھی وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں تو ان کو قحط سالی، روزگار کی تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعے سزا دی جاتی ہے”
آجکل جو چیز بھی خرید لیں گھر آ کر دیکھیں تو کم ہوگی اس میں ملاوٹ بھی ہوگی اور معیار بھی درجہ چہارم کا ہوگا-
قارئین! شہر کے بڑے بڑے اسٹور کا رخ کرنے والے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں جہاں پر ڈیجیٹل سکیل رکھے گئے ہیں لیکن شہر کی 95 فیصد آبادی پرچون کی دکان یا ٹھیلے سے ہی اپنی روزانہ کی اشیاء اور سوداسلف لیتی ہے کئی لوگوں کے گھر شام کو مزدوری ملنے کے بعد ہی کچھ خرید کر لایا جاتا ہے جیسے سڑک کے کنارے بیٹھے مزدور وغیرہ دیہاڑی دار طبقے کے لوگ مہینے کی گراسری نہیں لا سکتے ان کا گزارا صبح کے ناشتے میں چائے اور بغیر گھی کی روٹی سے ہوتا ہے جب کہ شام کو پیسے ملنے پر رات کو کچھ کھانا بنتا ہے اس وقت تک گھر کی تمام خواتین اور بچے سارا دن آس لگائے بیٹھے رہتے ہیں کہ شاید آج دہاڑی کچھ زیادہ بن جائے-
قارئین! پندرہ سو ترانوے ١۵٩٣ میں لاہور میں واقع لوہاری دروازے کے قریب ایک شخص “حسو تیلی” کے نام سے مشہور تھا یہ شخص اپنے روحانی معجزہ کے حوالے سےلاہور میں بہت مقبول ہوا اس کا اصلی نام “شیخ حسو” تھا جو کہ ذات کا تیلی اور ایک مسلمان تھا اسے اپنے والد سے وراثت میں ایک دکان منڈی کی کھلی جگہ پر ملی تھی جو کہ اب جھنڈا چوک کہلاتی ہے یہاں اب بھی اندرون شہر میں ایک بڑی غلہ منڈی واقع ہے یہ غلے اور اناج کا کام کیا کرتا تھا اور باوضو ہو کر ہمیشہ اپنی دکان پر بیٹھا خاموشی سے آنکھیں بند کر کے تسبیح پڑھتا رہتا اور چپ چاپ لوگوں کا مشاہدہ کرتا رہتا تھا جب بھی کوئی گاہک اس کی دکان پر آتا تو خود ہی اسے اناج تولنے کے لئے کہہ دیتا اور اگر کوئی شخص ایسا کرنے سے انکار کردیتا تو اسے کوئی شے فروخت نہ کرتا بہت جلد لوگوں کو پتہ چل گیا کہ اگر ادا شدہ رقم سے زیادہ مالیت کا اناج تول کر لے جاتے تھے تو گھر پہنچنے تک فالتو اناج غائب ہو جاتا تھا اور اسی قدر جاتا تھا جتنی ادائیگی کی ہوتی تھی البتہ اگر انہوں نے ادائیگی کے عین مطابق یا تھوڑا کم ہوتا تو گھر پہنچنے پر آناج وزن سے زیادہ ملتا لہذا بہت جلد لوگوں کو پتہ چل گیا کہ حسوتیلی کو دھوکا دینا بے سود ہے لہذا جلد ہی لوگوں نے اپنے باقی مسائل کے حل کے لیے بھی حسوتیلی کے پاس آنا جانا شروع کر دیا جب کہ وہ ایسے تمام لوگوں سے یہی کہتا کہ انہیں اس کے بجائے اللہ تعالی سے مدد مانگنی چاہیے حسو تیلی کی شہرت جلد ہی لاہور کے دور دراز علاقے تک پھیل گئی تو اس نے نشانی کے طور پر اپنی دکان کے سامنے ایک جھنڈا گاڑ دیا جھنڈے کا کھمبا آج بھی وہاں موجود ہے غلہ منڈی کے نزدیک ہی ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں حسوتیلی آرام کیا کرتا اور نماز پڑھا کرتا تھا 1642 کو شیخ حسو وفات پا گیا اور اسے بابا شاہ جمال کے مزار کے پاس واقع چھوٹے سے قبرستان میں دفن کیا گیا اپنے گھر سے اتنی دور دفن کرنے کی وجہ اس کا حضرت بابا شاہ جمال کا مرید ہونا تھا ۔
قارئین ہر سال صفر کے مہینے میں حضرت علی بن عثمان ہجویری المشہور داتا گنج بخش کا عرس عظیم الشان طریقے سے لاہور میں منایا جاتا ہے جس میں لاکھوں ٹن دودھ بغیر کسی معاوضے کے لاکھوں لوگوں کوپلایا جاتا ہے۔
کیا علی بن عثمان ہجویری نے پنجاب کے لوگوں کو یہ تعلیمات دی تھیں کہ وہ صرف میرے عرس پر ہی خالص دودھ میرے مزار پر لایا کریں یا پھر ساری زندگی ہی خالص دودھ بیچنے کی تلقین کی تھی ؟
یہ پنجاب کے نہیں بلکہ تمام پاکستان کے گوالوں کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے-
آخر ہمیں کیا ہو گیا ہے پنجاب جو کہ دودھ دینے والے جانوروں کا گڑھ اور زراعت کا گھر ہے کسی جگہ کوئی بھی چیز اپنی اصلی حالت میں نہیں ملتی ہر طرف اور ہر چیز کو کاروبار کی طرز پر دیکھنا اور اپنی من مرضی سے معاوضہ طے کر لینے کا رجحان تیزی سے اپنے عروج پر جا رہا ہے تقریبا پورے شہر کے گوالوں نے دودھ ناپنے کا برتن 1000 گرام سے گھٹا کر 800 گرام کر دیا اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی-
یاد رکھیں تمام لوگ دوسروں کی نہیں بلکہ اپنی ہی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں آپ یقین کر لیجئے اور دیکھتے رہیے کہ کس طرح اس قسم کے لوگوں کو پھر پریشانیاں گھیر لیتی ہیں۔
ایک لاہوری ہونے کے ناطے میں لاہوریوں سے التماس کروں گا کہ کم ازکم “حسو تیلی” کی طرح بے شک دوسروں کو تولنے کی اجازت تو نہ دیں مگر اس نیک انسان کے “شہر لاہور” میں رہتے ہوئے پورا وزن دیں ورنہ یاد رکھیں آپ کے سر پر ایک کیمرہ ہر وقت ریکارڈنگ کرتا ہے جو کہ جلد آپ کے سامنے ساری فلم چلا دے گا جیسا کہ قرآن میں لکھا ہے ترجمہ “تو جو ایک ذرا بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا— ۔۔۔ذرا نہیں زیادہ سوچئے ۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔