مضامین

(آ واز درویش)*مسجد وزیر خان ، رنجیت سنگھ اور ہماری ریاست مدینہ۔* ۔…طارق وحید خان

 اگرچہ میرا تعلق پٹھانوں کے مشہور go قبیلے یوسفزئی سے ہے مگر لاہور میں گزشتہ ایک دہائی سے رہتے ہوئے لاہور شہر کی قدیم تاریخ و تمدن دیکھنے کا شوق اور سیاحت سے متعلق کیء ایک عمارتیں اور مزارات دیکھنے کو ملے جو شاید لاہوریوں کی نظر سے بھی ابھی تک اوجھل ہوں۔

 لاہور کی بڑی قدیم اور شاندار عمارتوں میں سے ایک مسجد وزیر خان بھی ہے جو سولہ سو اکتالیس (1641) سے اب تک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ دہلی دروازے لاہور کے بازار کے عین وسط میں کھڑی ہے خوبصورت سرخ پتھر کا کانسی کاری بہترین ڈیزائن کی نسبت سے اگر اس مسجد کو لاہور کی تمام مساجد کے ماتھے کا جھومر کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے عہد حکومت میں ایک مشہور زمانہ طبیب جو کہ چنیوٹ کے رہنے والے شیخ علم الدین انصاری کے نام سے مشہور تھے ان کا دواخانہ چنیوٹ میں زیادہ نہ چلا تو وہ لاہور آگئے اور اس کے بعد دھلی کو اپنا مسکن بنایا اور پھر طب کی دنیا میں برصغیر میں اپنا خوب نام کمایا -ایک اچھا طبیب ہونے کی وجہ سے ان کا نام شاہ جہاں تک پہنچا تو بادشاہ نے اپنی والدہ کے معالجے کے سلسلے میں لاہور بلوا لیا اور اس قابل طبیب کی وجہ سے وہ جلد اچھی ہوگی-

اس خدمت کی وجہ سے اچھا انعام و اکرام ملا اور شاہی دربار میں آنا جانا شروع ہوگیا اسی دوران ملکہ نورجہاں کے پاؤں میں ایک پھوڑا نکل آیا اس دور کے طبیب چاہتے تھے کہ اس پھوڑے کو نشتر لگا کر چیر دیا جائے تا کہ تمام مواد صاف ہوجائے مگر ملکہ نور جہاں کو بوجہ نزاکت طبیعت پہ گوارا نہ تھا کہ وہ نشتر لگنے کی تکلیف اٹھائے اسی دوران علم الدین انصاری کو بلایا گیا حکیم صاحب نے یہ تجویز دی کہ شاہی صحن میں ریت بچھا دی جائے اور ملکہ کو ننگے پاؤں اس پر ایک سیدھی لائن میں چلایا جائے جب میں ریت پر ملکہ کے پاؤں کے نشانات دیکھ لوں گا تو کوئی دوائی تجویز کروں گا ملکہ کے ریت پر سے گزر جانے کے بعد طبیب صاحب نے دیکھ لیا کہ کس پاؤں میں کس جگہ پھوڑا ہے لہذا عین اس جگہ پر ریت کے نیچے چھوٹا سا نشتر چھپا دیا گیااور ملکہ کو دوبارہ انہیں نقش پر سے گزرنے کو کہا گیاملکہ نے جیسے ہی انہی قدموں پر چلنا شروع کیا تو نشتر پاؤں میں لگا اور تمام مواد باہر نکل آیا اسی خوشی میں ملکہ نے اپنا سارا زیور اور بادشاہ نے تقریبا 22 لاکھ روپے دیے اور اس سلسلے میں “نواب وزیر خان” کا خطاب پایا کیونکہ نواب وزیر خان کو عمارتوں کا بہت شوق تھا اس کے پیش نظر آپ نے لاہور میں اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر کروای جو کہ آج تک شاہجہانی دور کے عظیم مسلمانوں کی یاد دلا رہی ہے۔

 یاد رہے کہ اس مسجد کے اندر ایک مشہور زمانہ بزرگ سید اسحاق گاذرونی المشہور میراں بادشاہ کا مزار بھی ہے جو کہ مسجد بنوانے سے پہلے ہی اپنی اسی جگہ پر تھا جب نواب وزیر خان نے مسجد تعمیر کروائی تو اس کو بدستور اپنی جگہ پر قائم رکھا بلکہ اس مزار کو مسجد کی زینت تصور کیا ۔ رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں ھر جمعرات کے دن خوب میلہ لگتا تھا اور لوگ یہاں آکر ناچتے تھے اس وقت لاہور کے مسلمانوں کے بازووں میں اتنی طاقت نہیں تھی کھ ان خرافات کو اپنے زور بازو سے روک سکیں اسی دوران رنجیت سنگھ لاہور کی ایک مشہور زمانہ ،”طوائف” جو کہ “موراں” کے نام سے پورے پنجاب میں مشہور تھی لایا اور مسجد کے مینار کے اوپر چڑھ کر سارا دن اپنا منہ کالا کرتا رہا لیکن اسی رات کو سخت بیمار ہو گیا تو لوگوں نے کہا یہ بیماری اس “سید زادے” کے غضب کی وجہ سے آئی ہے جس کی قبر مسجد کے اندر ہے دوسرے دن رنجیت سنگھ مزار پر گیا معافی مانگی اور 500 روپے بطور وظیفہ مقرر کرکے اپنی پیشانی زمین پر رگڑی۔

 یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ سکھ دور میں لاہور کے مسلمانوں کی طاقت آٹے میں نمک کے برابر تھی اور کسی شخص میں اتنی جرات نہیں تھی کہ رنجیت سنگھ جیسے منہ زور حکمران کو اس بات پر نکیل ڈال سکتا ہو اس کے باوجود بھی اس سکھ سردار نے ایک غیر مسلم ہونے کے باوجود ایک سید زادے کی لاج رکھتے ہوئے نہ صرف معافی مانگی بلکہ اپنی پوری زندگی بھر اس کا احترام بھی کیا

قارئین! آب پاکستان میں مکمل طور پر مسلمانوں کی حکومت ہے اور ہمیں اب اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا پورا حق بھی حاصل ہے لیکن گزشتہ سال کے وسط میں کچھ لوگوں نے حکومت وقت سے اجازت لے کر اس متبرک مسجد میں ایک گانے کی عکس بندی کی تو لاہور کے تمام لوگوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی جو سوشل میڈیا پر بڑی بڑی باتیں کرنے اور انڈیا کو اپنے پاوں تلے روندنے کی باتیں کرتے ہیں مسجد میں غیر شرعی اور بے ہودہ حرکت کرنے پر کان دبا کر پڑے رہے حتہ کے لاہور ہی کا ایک مرد درویش اپنی دونوں ٹانگوں سے معذور ہونے کے باوجود ویل چیئر پر جمعہ کے دن اس مسجد میں جا پہنچا اور اس واقعے کے خلاف اپنی پوری قوت سے آواز بلند کی ۔

جی ہاں! نیزے کی نوک پر حق بات کہنے اور حضرت امام احمد بن حنبل کی یاد تازہ کرنے والے اس مرد قلندر کا نام علامہ خادم حسین رضوی (مرحوم) تھا۔

 جنہوں نے اپنے خلاف تمام دنیا کے زہر الود تیر اور تنقید برداشت کرتے ہوئے اس بے ہودہ کام پر سختی سے لوگوں کو باور کرایا جبکہ گزشتہ چند دنوں پہلے اسی طرح کا پھر ایک اور واقعہ اسی مسجد میں رونما ہوا جس میں حکومت کے کچھ “بڑے” اور ایک وزیر سمیت شوبز سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ڈھول کی تھاپ پر دھمال بھی ڈالا ۔ حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی اس موسیقی کے پروگرام کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے میں دیر نہ لگی لیکن افسوس ہے لاہور کی اس زمین پر جہاں پر ایک ہندو لڑکے حقیقت رائےکی صحابیات کی شان میں گستاخی کرنے پر مسلمان گورنر لاہور خان زکریا خان نے سترہ سو تیس ۱۷۳۰میں گردن مار دی تھی ۔ کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوا اور اسی جگہ لوگ آج بھی اندرون شہر کی حلوہ پوری پٹھورے اور پآے کھانے میں مگن ہیں ۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس شاندار سرزمین پر جہاں پر ایشیا کے سب سے بڑے بزرگ ولی اللہ حضرت علی بن عثمان ہجویری کا مزار اقدس بھی ہےکلچر کے نام پر آئے دن کوئی نہ کوئی خرافات دیکھنے کو ملتی ہیں۔

 یاد رکھیں سلطان محمود غزنوی کے لاہور کو فتح کرنے سے پہلے یہاں ایک ہندو راجا جے پال کی حکومت تھی اور ایک بھی کلمہ گو نہ تھا اور ہر طرف بت پرستی تھی اور آج اسی مرد درویش یعنی علی بن عثمان ہجویری کی وجہ سے پورے پنجاب میں ہر طرف اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں دن اور رات گونجتی ہیں۔ حضرت علامہ اقبال نے اسی عظیم ہستی کے بارے میں کہا تھا

 خاک پنجاب از دم او زندہ گشت

 صبح ما از مہر او تابندہ گشت

ترجمہ

اے داتا صاحب آپ کے وجود سعید کے سبب سرزمین پنجاب یعنی اس پورے خطے کو نئی زندگی عطا ہوئی اور آپ ہی کے آفتاب وجود سے ہماری ملت کے افق روشن ہوئے

 قارئین! اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حق بات کہنے میں کوئی جھجک اور شرم یا ڈر نہیں ہونا چاہیے، چاہےنیزے کی انی پر ھی کیوں نہ کہنی پڑے۔ کیا ریاست مدینہ کے تمام علمبرداروں کو یہ سب نظر نہیں آتا، یا پھر پورے لاہور کی مانیٹرنگ کرنے والے سیف سٹی کے تمام کیمرے کام نہیں کر رہے جہاں اڑتی چڑیا کے پر بھی گنے جا سکتے ہیں ۔ الحمداللہ ہم اور ہمارے حکمران جیسے بھی ہیں لیکن سب کے سب مسلمان اور ایک خدا کو ماننے والے ہیں اور اس پاکستان کی باگ دوڑ ان کے ہاتھ میں ہے جسے صرف اللہ کا نظام نافذ کرنے کے لیے ہی حاصل کیا گیا تھا۔

یاد رکھیں! اس طرح کی نازیبا حرکات اور مساجد کے تقدس کو پامال کرنے پر ذرا ہوش کے ناخن لیں کہیں ایسا نہ ہو کٓ پروردگار کا قہر جوش میں آجائے اور ہم سب پھر ایک دفعہ راجہ جے پال کی سرپرستی میں کفر کے زمانے میں چلے جائیں یاد رکھیں اللہ اس پر بھی قادر ہے کہ وہ نعمت دے کر چھین بھی سکتا ہے

مولانا روم کہتے ہیں

تو مشو مغرور بر حلم خدا

دیر گیرد سخت گیرد مرد را

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔