مضامین

دھڑکنوں کی زبان….”محکمہ تعلیم کے لیے حکومت کے اچھے اقدامات“…محمد جاوید حیات

ہمارے ہاں سیاسی کلچر ہی ایسا ہے کہ ہم بُرے کو بُرا اور اچھے کو اچھا نہیں کہتے۔مخالف کچھ اچھا کرے تو برُا ہے اور موافق برُا بھی کرے تو اچھا ہے۔اگر ملک میں قدرتی آفات بھی آئیں تب بھی قصور حکومت وقت کا ہے اس کلچر نے ہمیں مخالفت براے مخالفت کی سعی سیکھایا ہے ہم مخالفت براے اصلاح سے یا تو نا اشنا ہیں یا ایسا چاہتے نہیں حالانکہ ہمارا مقصد ملک کی ترقی ہوناچاہیے خواہ وہ جس کی کوشش سے جس کی ہمت سے بھی ہو سکے۔۔موجودہ حکومت پر تنقید کرنے والے بے شک کریں مگر کوید 19کی بلا نے جہان ساری انسانیت کا کاروبار زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا۔وہاں بچوں کی تعلیم تربیت کا عمل رک سا گیا اساتذہ اور بچے گھروں میں قید ہوکے رہ گئے ادارے بند ہوئے مگر حکومت خاموش نہیں رہی اس کو قوم کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت کی فکر رہی انہوں نے مختلف طریقوں سے بچوں کو مصروف رکھنے اور ان کے تعلیمی عمل جاری رکھنے کی کوشش کی۔یہ حکومت کا تاریخی اقدام تھا۔ہر صوبے کو ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ بچوں کی تعلیمی عمل کو جاری رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کرے۔انھوں نے بچوں کے نصاب کو سامنے رکھ کر”تعلیمی کلنڈر“ ترتیب دیے اور سکول کھلنے کے بعد اس کلنڈر کے مطابق اساتذہ کو پڑھانے کی ہدایات دی۔۔صوبہ خیبر پختونخواہ کے لیے PITE..provicial Institute of Teacher Education پشاور نے پرایمری سکولوں کے اساتذہ کے لیے CPD.. Continuing professional Development programm کے نام سے کورس ترتیب دی۔۔اس کے لیے Session plan بنایا اس کے لیے مربی اساتذہ کو تربیت دی اور آگے ان سے پرایمری اساتذہ کو تربیت فراہم کیا۔یہ بڑا جامع پروگرام تھا اور کامیاب بھی۔۔تعلیمی سال 2020__2021 کے لیے یہ پروگرام تھا۔اس کو سات مہینوں میں تقسیم کیا گیا تھا ہر مہینے کے آخری تاریخ کو ایک PDD..professional Development day منایا جاتا اس روز سارے پرایمری سکولوں کی چھٹی ہوتی اور اساتذہ PDD سنٹر میں آکر ایک مہینے کے لیے تربیت حاصل کرتے۔تربیت تعلیمی کلنڈر کے مطابق ہر مضمون کے مخصوص اسباق کی ہوتی۔۔مجھے ٹرینر ہونے کا اعزاز حاصل تھا بمبوریت سرکل چترال لویر میرا ٹرینگ سنٹر تھا میرے ساتھ عبد العزیز sst science ہائی سکول بمبوریت ٹرینر تھے عبد العزیز ایک نمایان قابل محنتی اور با صلاحیت نوجوان ہیں محکمہ تعلیم میں ایسے باصلاحیت اساتذہ کی شمولیت نیک شگون یے انشا اللہ سرکاری سکولوں میں تعلیمی عمل ان کے ہاتھوں بے مثال ہو گا البتہ سسٹم مضبوط ہو جاے اور سرکاری سکولوں میں میرٹ آجاے۔۔ہمارے چھ PDDs مکمل ہوچکے ہیں ایک باقی ہے۔Pite کی طرف سے نہ معاوضہ نہ چاے پانی نہ خبر گیری ہے محکمے کی طرف سے ذمہ دار افراد کی ٹیلیفونگ خبرگیری ہے یہ تو ہمارا کلچر ہے۔لیکن سنٹر میں زاتی جو تجربہ رہا وہ بہت امید افزا ہے۔۔نوجوان اساتذہ کو کام کا شوق ہے پڑھانے کا عزم ہے۔البتہ بوڑھے ہمت بندھانے کے بجانے کمر توڑنے کی باتیں کرتے ہیں۔۔ہمارے ہاں ابھی تک professionalism نے جنم نہیں لیا۔۔ہم پڑھانے کو مزدوری سمجھتے ہیں پیشہ نہیں اس لیے استاد تنقید کا بھی نشانہ ہے اور اپنی قدر بھی کھو دیتا ہے۔اگر استاد کی آنکھیں معاوضہ پر اور زمانے کی آنکھیں استاد پر ہوں تو یہ بڑا تضاد ہے۔۔مجھے حکومت کے اس اقدام پہ ناز ہے اور اپنے نوجوان اساتذہ پر فخر ہے۔۔میری گزارش ہے کہ معلمی کو مزدوری نہیں پیشہ بنایا جائے تاکہ یہ قوم اور اس کی آیندہ نسل تم پہ فخر کرے۔۔pite کو اس امر پہ سوچنا چاہیے کہ جہان اتنے پیسے خرچ کیا کلنڈر ترتیب دی ٹرینگ کا بندوبست کیا وہاں اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے معاوضے کا اہتمام بھی کیا جاے۔۔ٹرینرز کو ابھی معاوضہ نہیں ملا اساتذہ دور سکولوں سے سنٹر پہ آتے ہیں ان کو چائے پانی اور معمولی بھی معاوضہ نہیں ملتا وہ بے حوصلہ ہوتے ہیں۔۔سنٹروں میں ٹرینرز کے پاس بھی ایسی سہولیات نہیں کہ وہ ان اساتذہ کو فراہم کریں۔۔اس کے مقابلے میں NGOs کی ٹرنینگ میں ہر قسم کی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں اس لے سسٹم میں دھراڑ پڑ جاتا اور عادتیں خراب ہوتی ہیں حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور دلچسپیاں ختم ہوتی ہیں۔۔بہرحال موجودہ حالات میں محکمہ تعلیم میں یہ اقدام حکومت کا تاریخی اقدام ہے اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى