مضامین

شوگرمافیا کے خلاف ایکشن…شوگر مافیا کے خلاف ایکشن

xٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے شوگر ملوں کی جانب سے کئے گئے ٹی سی پی معاہدے کی خلاف ورزی پرملک بھر میں 9 شوگر ملوں کو بلیک لسٹ قرار دے دیا ہے۔ بلیک لسٹ قرار دی گئی شوگر ملوں نے ٹریڈنگ کارپوریشن سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ چینی کی سپلائی جاری رکھیں گی۔ لیکن ان ملوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چینی فراہم نہیں کی۔ ٹریڈنگ کارپوریشن نے ان ملوں پر ٹی سی پی ٹینڈر میں شرکت کرنے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ بلیک لسٹ قرار دی جانے والی ملوں میں عبداللہ شوگر ملز، حبیب وقاص شوگر ملز، ٹنڈو محمد خان شوگر ملز، حق باہو شوگر ملز، سیری شوگر ملز، تاندلیانوالہ شوگر ملز، مکہ شوگر ملز، عبداللہ شاہ غازی شوگر ملز شامل ہیں۔ ان شوگر ملوں پر 26 ارب روپے کے غبن میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے چینی سٹہ مافیا کے 40 سرکردہ ارکان کے بینک اکاونٹس منجمد کرتے ہوئے ان کے خفیہ اثاثوں کی چھان بین کا آغاز کردیا ہے۔جبکہ100 سے زائد جعلی اوربے نامی اکانٹس کو بھی منجمد کیا ہے۔ایف آئی اے کے مطابق چینی سٹہ مافیا نے غریب عوام کے ساتھ سنگین مالی فراڈ کیا اور چینی کی قیمت میں رواں ماہ کے دوران بیس روپے فی کلو اضافہ کرکے غریب عوام کی جیبوں سے 110 ارب نکال لیے گئے۔ایف آئی اے کے پاس موجود فہرست میں چینی مافیا کے ان لوگوں کے نام شامل ہیں جو چینی کی قیمت میں اضافے کے ذمہ دار ہیں۔ ان میں دانش، فرقان بابا، کھیم چند دینانی، دیوی داس حیدرآباد، جے کمار، جاوید تھارا، حاجی ضمیر، ہریش کمار، مہیش کمار، ویشال کلارا، روہیت چنی لالہ، ستیاپال کلارا، سنتوش کمار،راجہ چنی لال، جوتی پرکاش، پون سبلانی، دیال داس، پریم کمار، دلیپ دیونانی، دیوداس، روی کوریجانانک رام دینانی، روشن لال، منگارام عرف جگل کشور کا نام بھی شامل ہے۔ فہرست میں جن 23افراد کے نام شامل ہیں ان کا تعلق پاکستان شوگرگروپ، شوگر مرچنٹس اور شوگر ٹریڈرز گروپ سے ہے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ شوگر مافیا سے تعلق رکھنے والے جن لوگوں کے خلاف کاروائی کی گئی ان میں نوے فیصد سے زیادہ ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں یہ لوگ شوگر ملز مالکان نہیں بلکہ ہول سیلر اور پرچون فروش ہیں۔ پاکستان کی شوگر انڈسٹری کی سرکردہ شخصیات میں میاں نواز شریف خاندان، زرداری خاندان، جہانگیر ترین، تالپور خاندان،مرزا خاندان اور سندھ و پنجاب کے بڑے بڑے جاگیر دار، صنعت کار، وڈیرے اور چوہدری شامل ہیں۔ ان میں سے کسی کا نام ایف آئی اے کی فہرست میں شامل ہے نہ ہی کسی پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔یہ کیسے ممکن ہے کہ شوگرملوں سے کنٹرولڈ ریٹ پر چینی مارکیٹ کو فراہم کی جائے اور ڈیلر من مانی قیمتیں مقرر کریں۔ گذشتہ ایک سال کے اندر چینی کی قیمت 70روپے سے 110روپے کلو تک پہنچ گئی چالیس روپے فی کلو اضافے کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی جیبوں سے 200ارب روپے نکالے گئے۔ مرغی کے گوشت کی قیمت گذشتہ ایک سال کے دوران 115روپے کلو سے 250روپے کلو تک پہنچ گئی۔چکن کی قیمت میں 130فیصد اضافے کا فائدہ پرچوں سیلرز کو تو نہیں پہنچ سکتا۔پولیٹری انڈسٹری کو ہی اس کا فائدہ ہوا ہے اور نقصان سراسر عوام کا ہورہا ہے۔ٹماٹر، انڈوں اور جلد خراب ہونے والی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اتاروچڑھاؤ کی وجہ سمجھ میں آجاتی ہے۔ مگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کے من مانے ریٹ مقرر کرکے مہنگائی اور بے روزگاری کے مارے عوام پر عرصہ حیات تنگ کرنے والوں کا کڑا محاسبہ ہونا چاہئے۔ حکومت کو سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر مفاد عامہ کے منافی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف ان کی سیاسی اور سماجی حیثیت سے قطع نظر سخت کاروائی کرنی چاہئے تاکہ آئندہ کسی کو ریاست کے اندر اپنی الگ ریاست قائم کرنے کی جرات نہ ہو۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔