مضامین

میرٹ کی موت۔۔۔محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں کے نواحی گاؤں ہوید سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ نوجوان شہباز خان کی کہانی ہمارے معاشرے کے تاریک رخ کی عکاسی کرتی ہے۔ شہباز نے آٹھ مختلف مضامین میں ایم اے کرنے کے باوجود بھی ساڑھے تین ہزار روپے کی تنخواہ پر غلہ منڈی میں چوکیدار کی نوکری کرنے پر مجبور ہے۔شہباز خان نے عربی، پشتو، انگلش، ہسٹری، اکنامکس اور ایجوکشن کے مضامین میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔دینی مدارس کی سندیں اور مختلف قسم کے کمپیوٹر کورسز بھی کر رکھے ہیں۔ محنت مزدوری کے ساتھ پڑھائی کا سلسلہ بھی جاری رکھا، ہر محکمے میں خالی اسامی کے لئے درخواست دی۔ میرٹ پر بھی آیا مگر سفارش اور رشوت دینے کے لئے پیسے نہ ملنے کی وجہ سے اب تک نوکری نہیں ملی۔شہباز نے بتایا کہ وہ شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ ہے کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔ غلہ منڈی میں چوکیداری کے ساڑھے تین ہزار جبکہ مدرسے میں بچوں کے پڑھانے کے تین ہزار ملتے ہیں جس سے مہنگائی کے اس دور میں گزارہ بہت مشکل ہے۔انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کسی سرکاری محکمے میں کلاس فور کی ملازمت بھی مل جائے تو خوشی ہو گی کہ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کوئی وسیلہ مل جائے گا۔شہباز خان جیسے ہزاروں نوجوان ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جن کومواقع نہ ملنے کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہیں۔ میرٹ کی بالادستی، رشوت اور سفارش کلچر کو دفن کرنا موجودہ حکومت کے انتخابی منشور کا حصہ ہے پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا میں اقتدار میں آئے آٹھ سال ہوگئے مگر اپنے انتخابی منشور پر عمل درآمد نہیں کرسکی۔سابقہ حکومتوں کے دور میں سرکاری نوکریاں کھلے عام بکتی تھیں۔ یہاں تک کہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے جن اسامیوں پر تقرریاں ہوتی تھیں وہ اسامیاں بھی سربازارنیلام ہوتی تھیں۔آج بھی نوکریاں فروخت ہورہی ہیں جو لوگ انہیں خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں ان کے لئے نوکری حاصل کرنا کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن شہباز خان جیسے نوجوانوں میرٹ کی بالادستی قائم ہونے کے انتظار میں اوور ایج ہوکر چوکیداری اور سیکورٹی گارڈ کی نوکری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ سرکاری نوکریوں کے کاروبار میں نہ صرف حکومتی اہلکار بلکہ سرکاری اداروں کے بااثر افسران بھی ملوث ہیں انہوں نے اپنے ٹاؤٹ مقرر کر رکھے ہیں ہرگریڈ کی اسامی کے ریٹ مقرر ہیں جس کی جتنی مالی استعدادہے۔ وہ اسی کے مطابق نوکری حاصل کرتا ہے۔ رشوت اور سیاسی سفارش پر سرکاری اداروں میں بھرتیوں کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ آج تمام سرکاری اداروں میں رشوت کا بازار گرم ہے۔ کیونکہ جن لوگوں نے نوکری بھاری رقم کے عوض خریدی ہے انہوں نے اپنی رقم سود سمیت رشوت کی صورت میں حاصل کرنی ہوتی ہے۔ چند فرض شناس افسروں کی تعیناتی سے سرکاری اداروں میں پھیلا ہوا گند صاف نہیں ہوسکتا۔ صوبائی حکومت نے سرکاری اداروں میں تطہیر کا عمل محکمہ تعلیم سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور موجودہ تدریسی سٹاف کے لئے ایٹا ٹیسٹ پاس کرنے کی شرط عائد کی تھی۔ مگر پھر یہ فیصلہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر منسوخ کردیا گیا۔ سرکاری اداروں کو نااہل اور راشی اہلکاروں سے پاک کئے بغیر ان اداروں میں قابل اور اہل لوگوں کے لئے گنجائش پیدا ہونا مشکل ہے اور شہباز خان جیسے لوگ ڈگریاں بغل میں دبائے سڑکیں ناپتے ناپتے تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے اور پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے یا تو چوکیدار اور سیکورٹی گارڈ کی نوکری شروع کریں گے یا پھرڈکیتی، رہزنی، چوری، اغوابرائے تاوان اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوکر معاشرے کے لئے خطرہ بن جائیں گے۔ جو شخص انگلش، اکنامکس اور ایجوکیشن جیسے اہم مضامین میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے باوجود ملازمت سے محروم رہ جائے۔ ایسے معاشرے میں نوجوان کس امید کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور وہ اپنی صلاحیتوں سے ملک و قوم کو کیا فائدہ پہنچائیں گے؟

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔