مضامین

دھڑکنوں کی زبان …”مشتری ہوشیار باش”..محمد جاوید حیات.

ہم بحیثیت قوم اپنی ساری صلاحیتیں بھیجنا چاہتے ہیں وہ صلاحیتیں جو ایک قوم کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں ۔اگر کوئی زندہ یہ خریدنا چاہے تو دستیاب ہیں ۔۔ہم اپنی محنت اور جانفشانی بھیجنا چاہتے ہیں ہم صبح سویرے اٹھ نہیں سکتے ہمیں نیند اچھی لگتی ہے ہم آفیسر ہیں صبح گیارہ بجے اٹھتے ہیں اور ایک بجے دفتر جاتے ہیں اس وقت دوسری قومیں اپنی تعمیر میں لگی ہوئ ہوتی ہیں دشمن ہمارے خلاف منصوبے بنا چکے ہوتے ہیں ۔اس سمے زندہ قوموں کے ڈاکٹرز اپنی مسیحائ میں لگے ہوتے ہیں ۔انجنیرز اپنے ملک کی تعمیر میں جتے ہوتے ہیں ۔استاد اپنی کلاس میں ہوتا ہے مزودر اپنی مزدوری پہ ہوتا ہے ۔۔عدالتوں میں انصاف اس انتظار میں نہیں ہوتا کہ کب جج جاگے گا اپنی کرسی عدل پہ آکے بیٹھے گا ۔مگر ہم سونے کی عادی ہوگئ ہیں ہم یہ سب صلاحیتیں فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ جس کو بھایں وہ لے لیں اور اپنے ملک کی تعمیر میں لگیں ۔ہم حق نا حق اور اچھے بری کی تمیز بھی بھیجنا چاہتے ہیں ۔یہ ہمارا کوئ کام نہیں آتا ۔اگر آتا تو اپنے راہنما چننے میں قوم و ملک کی مفاد میں اور اجتماعی فایدے کے لیے استعمال کرتے ۔یہ صلاحیت لیڈر چننے میں کام نہیں آتی ۔اپنے فرایض نبھانے میں کام نہیں آتی ذاتی اور اجتماعی مفاد میں فرق میں کام نہیں آتی ایسی فضول چیز کو بھیجنا ہی بہتر ہے ۔۔اگر یہ کام آتی تو سینٹ کے الیکشن میں کام آتی ۔پوری قوم حسب اقتدار اورحسب اختلاف مل بیھٹتے ملک میں ہر شعبہ زندگی کے ماہرین کی فہرست بناتے ۔یہ لو یہ ساینسدان ہے یہ ٹیکنوکریٹ ہے یہ پروفیسر ہے یہ فوجی ریٹایرڈ افیسر ہے یہ عالم دین ہے ۔یہ معاشیات دان ہے یہ اپنے فیلڈ کے ماہرین ہیں ۔ان کا انتخاب ملک کے مفاد میں پارٹی وابستگی اور اپروچ سے بالا تر ہوتا کیونکہ سینٹ میں قانون سازی ہوتی ہے یہ تھنک ٹینک سر جوڑ کے بھیٹتی اور ملک و قوم کی تقدیر بناتی ۔کہتے ہیں کہ ہم نے ضمیر بھیجے انسانوں کا سودا کیا اور پھر آگے ہر دفتر ہر محکمہ اور زندگی کے ہر میدان میں ایسا کچھ ہوتا ہے ۔ہم مفت میں تمیز کی صلاحیت اپنے پاس رکھ کے کیا کرینگے ۔ہم اپنی آزادی اور خود مختاری بھی بھیجنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم ویسے بھی ڈیکٹیشن لیتے ہیں ۔اپنا ملک کھاکے دوسروں سے قرض پہ گزارا کرتے ہیں ۔ہم مقروض جوابدہ بھیگ مانگے اور سر جھکے ہیں عالمی بینک آئ ایم ایف پھردوست ممالک کی دوستوں پر گزارا کرتے ہیں ۔ہم اپنی تخلیقی صلاحیتیں بھیجنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم اپنے بچوں کے لیےکوئی ایسا ادارہ بنانا نہیں چاہتے جہان تحقیق ہو ہمارے بچے خود کچھ بنا سکیں ۔اور تجربہ کر سکیں ۔ہم نے اپنا نظام تعلیم ایسا رکھا ہے کہ ہمارے بچے ایسے بکھیڑوں میں نہ پڑیں ۔ہم صدق و صداقت بھیجنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم اگر سچ بولیں گے تو ہمارا کاروبار ٹھپ ہوجاےگا دو نمبر کی چیز نہیں بھیج سکینگے ۔عدالت میں سچ بولنے سے کیس ہارینگے اور وکیل کی جیب بھی خالی رہے گی ۔ہم اتحاد و اتفاق کا خیال بھی فروخت کرنا چاہتے ہیں ہمیں فرقوں میں بٹنے میں مزہ آتا ہے ایک دوسرے کو گالی دینے کفر کا فتوی لگانے اور گلے کاٹنے میں مزہ آتا ہے ۔ہم بے لوث خدمت سے بھی گلو خلاصی چاہتے ہیں ہمیں تو دھن دولت کمانا ہے بے لوث خدمت میں دھندا کہاں ہے ۔”ذرایع”کہاں ہیں ۔خالی تنخواہ اور فکسڈ معاوضے سے زندگی کی گاڑی آگے چل نہیں سکتی ۔۔ہم اپنے گریبان میں جھناکنا بھی بھولنا چاہتے ہیں دوسروں پر تنقید کرنے میں مزہ آتا ہے ۔۔وزیراعظم نے غلط کیا فلان حکمران کی پالیسی غلط تھی حالانکہ ہم اپنے فرایض بھول چکے ہوتے ہیں مجھے کیا کرنا ہے اس کے بارے میں کبھی سوچنے کی توفیق نہیں ہوتی ۔نغوذ باللہ ہم شرم حیا تک چھوڑنا چایتے ہیں یہ پابندی یہ اقدار یہ پردہ یہ فکر آخرت یہ سب آزادی کی راہ میں روکاوٹیں لگتی ہیں ۔۔ہم احساس سے محروم ہوتے جا رہے یہ ہم نہیں سوچتے کہ ہماری احیا کس طرح ممکن ہے ۔اس ملک کی ترقی خوشحالی آزادی اور وقار ہم سے وابستہ ہیں یہ نہیں سوچتے ہمارے پاس جو وقت ہے یہ اس ملک کی امانت یہ نہیں سوچتے ۔۔ہمارے پاس اگر عہدہ ذمہ داری صلاحیت ہے یہ اس ملک کی امانت ہے یہ نہیں سوچتے ہمارا دشمن مکار ہوشیار ہے اہستہ اہستہ یہ سب صلاحیتیں ہم سے چھینا چاہتا ہے پاکستان دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے سب اس کو ہڑپ کرنا چاہتے ہیں ۔اس کے محافظ جان باز ہیں سب کو پتہ ہے ۔اگر ان سے بھی یہ سب صلاحتیں چھین لینے کی کوشش کرینگے تو اس ملک کا جعرافیہ ہی بدل جاے مگر وہ شریر ان کی ٹریپ میں نہیں آتے ان کو اپنی بندوق پیاری لگتی ہے وہ جب جہاز کی کاکپٹ میں ہوتے ہیں تو ان کو ہواوں سے عشق ہوتا ہے ۔حالانکہ یہ ملک اللہ کی طرف سے امانت ہے اس کے ہر باشندے کو جانباز ہونا چاہیے تھا ۔لیکن کرپٹ جانباز کب ہوتا یے جس کو تعمیر کی فکر نہ ہو وہ جان کی بازی کیا لگاے ۔جانباز صادق امین بانکا اور بےپرواہ ہوتا ۔۔
آس کی امیدیں قلیل اس کے مقصد جلیل
اس کی ادا دلفریب اس کی نگہ دلنواز
سوال یہ ہے کہ ہم بیدار کیوں نہیں ہوتے ۔۔ہمارے ارد گرد بیداری ہے جو خدا کو مانتے نہیں وہ صداقت کو مانتے ہیں لیکن اس سچے خدا کو ماننے والے سچائ کو نہیں مانتے ۔سلطان بیبرس جب جالوت کے میدان میں منگولوں کے طوفان کا سامنے کرنے جا رہا تھا تو اس کی بیوی نے اس کی تلوار اس کو پیش کرتے ہوئے کہا ۔۔۔بیبرس اس تلوار کی لاج رکھنا ۔اس کو ظلم کے خلاف اٹھا رہے ہو خیال رہے اس کو سچائ کی سان میں تیز کرنا اس کے قبضے پہ ہاتھ مضبوط رکھنا اللہ تمہار مدد کرے گا اللہ اپنے سچے نام لیوا بہادروں کا ساتھ دیتا ہے ۔
ہاتھ ہےاللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار افرین کار کشا کار ساز
ہمارے ہاتھ کوئ کیوں نہیں پکڑ تا ۔۔بحیثیت قوم ہم اپنی صلاحیتیں بھیجنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں ۔۔۔اللہ ہمارے حال پہ رحم کرے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى