مضامین

رمضان گائیڈ لائنز…محمد شریف شکیب

نیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سینٹر نے رمضان المبارک کے حوالے سے گائیڈ لائنز جاری کردی ہیں۔گائیڈ لائنز کے مطابق تراویح کا اہتمام مسجدکے اندر نہیں بلکہ مسجد کے احاطے میں کیا جائیگا، شہریوں کوسڑکوں اور فٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے گریزکی ہدایت کی گئی ہے۔ مساجداور امام بارگاہوں میں وضو کرنے پر پابندی ہو گی، نمازی گھر سے وضو کر کے مسجد، امام بارگاہ آئیں گے،عبادت گاہوں میں قالین اور دریاں نہیں بچھائی جائیں گی، نماز فرش پر ادا کی جائے گی اور فرش کو کلورین ملے پانی سے ہر نماز کے بعددھویا جائے گا، گھر سے جائے نماز ساتھ لانے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ 50 سال سے زائد عمرکے افراد اور بچوں کو مساجداور امام بارگاہوں میں آنے سے گریز کرنا چاہئے فلواور کھانسی میں مبتلا افراد کو مساجداور امام بارگاہوں میں نہیں جانا چاہئے۔ نمازیوں کے لئے ماسک پہننا لازمی ہوگا صف بندی کے دوران نمازیوں کے مابین 6 فٹ فاصلہ رکھنا ہوگا۔ نمازیوں کی سہولت کیلئے صفوں میں فاصلہ رکھ کر نشانات لگائے جاسکتے ہیں کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر مساجد کے بجائے گھر وں میں ہی اعتکاف کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مساجداور امام بارگاہوں میں سحر و افطار کا اہتمام کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے ہر عبادت گاہ میں نگران کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل، ملک کے جید علمائے کرام اور مفتیان عظام نے بھی کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کی ہے تاکہ اس موذی مرض کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔طبی ماہرین کے مطابق کوروناکی تیسری لہر پہلی اور دوسری لہر سے زیادہ خطرناک ہے۔ گھر میں ایک شخص کو کورونا ہوجائے تو پورا خاندان متاثر ہوتا ہے گذشتہ ایک ہفتے کے اندر کورونا کے پھیلاؤ اور جانی نقصانات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے صوبے میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ روزانہ ایک ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آرہے ہیں۔ یہ اعدادوشمار سرکاری ہسپتالوں سے حاصل کئے گئے ہیں جو لوگ کورونا کی واضح نشانیاں سامنے آنے کے باوجود ڈر کے مارے ہسپتال نہیں جاتے،اپنا کورونا ٹیسٹ نہیں کرواتے یا دانستہ طور پر اپنے مرض کو چھپاتے ہیں انہیں مجموعی اعدادوشمار کے ساتھ گنا جائے تو تعداد میں دوگنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 10فیصد سے بڑھنا تشویش ناک ہے جبکہ پشاور میں یہ شرح 20فیصد سے بھی زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ صوبے کے سب سے بڑے طبی مرکز ایل آر ایچ کو صرف کورونا مریضوں کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے اب بھی بہت سے لوگ اس مہلک عالمی وباء کو موسمی بخار قرار دیتے ہیں اور احتیاطی تدابیر سے دانستہ روگردانی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پرائیویٹ سکولوں کے مالکان نے بھی تعلیمی اداروں کی بندش کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کررکھی ہے۔ یہ درست ہے کہ کورونا کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی نقصان ہورہا ہے۔ لیکن یہ تعلیمی نقصان بچوں کے جانی نقصان سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ پرائیویٹ ادارے چھٹیوں کے باوجود بچوں سے پوری فیسیں وصول کر رہے ہیں۔عالمی وباء کے تیزی سے پھیلاؤ کے باوجود ان کا سکول کھولنے پر اصرار بچوں کی زندگیوں کو جان بوجھ کرخطرے سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔ جس کا صوبائی حکومت، پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی، عدلیہ اور والدین کو نوٹس لینا چاہئے۔ طبی ماہرین کے مطابق کورونا کی تیسری لہر سے نہ صرف عمر رسیدہ افراد اور نوجوان متاثر ہورہے ہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں بچے بھی اس مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں اور شہر کے ہسپتالوں میں سینکڑوں بچے زیر علاج ہیں اس تشویش ناک صورتحال میں سکول کھولنے کے نتائج انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔ مساجد، مدارس، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں اور مذہبی مقامات پر بھی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہر شہری کا قومی، دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔