مضامین

بالاخر جمائمہ بھی بول پڑی..محمد شریف شکیب

وزیراعظم عمران خان نے ٹیلی فون پرجنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے شہریوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ فحاشی پھیلے گی تو جنسی زیادتی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوگا۔وزیراعظم کے ان ریمارکس پر سوشل میڈیا میں کافی شور مچایاگیا۔ علماء کونسل کے سربراہ نے وزیراعظم کے قول کی وضاحت کرتے ہوئے اسے درست قرار دیا مگر ناقدین کو پھر بھی تسلی نہیں ہوئی۔ وزیراعظم کی سابقہ اہلیہ جمائمہ اپنے بچوں کے باپ کی حمایت میں میدان میں کود پڑیں۔ اپنے ٹوئٹ میں جمائمہ کا کہنا تھا کہ جس عمران خان کو میں جانتی تھی وہ کہتے تھے کہ عورت پر نہیں بلکہ مرد وں کی آنکھوں پر پردہ ڈالنا چاہئے۔جمائمہ نے وزیراعظم کے بیان سے متعلق خبر شیئر کرتے ہوئے قرآن پاک کی آیت کا حوالہ دیا جس میں مردوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔جمائمہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بیان کا غلط ترجمہ کیا گیا یاپھر ان کی بات کودانستہ طور پر غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاتھاکہ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لئے سخت آرڈننس لائے ہیں، فیملی سسٹم کو بچانے کے لئے دین نے ہمیں پردے کا درس دیاہے، اسلام کے پردے کے نظریے کے پیچھے فیملی سسٹم بچانا اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جب آپ معاشرے میں فحاشی پھیلائیں گے تو جنسی زیادتی کے واقعات میں لامحالہ اضافہ ہوگا، یورپ میں فیملی سسٹم تباہ ہونے کی بنیادی وجہ فحاشی کا پھیلاؤ ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور شہری حقوق کے علم برداروں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی پیشہ اور فیشن اختیار کرنا شہریوں کا بنیادی آئینی حق ہے۔جس پر قدعن نہیں لگایاجاسکتا۔ہر ملک اپنی روایات، اقدار، ثقافت، عقیدے کی حدود کے اندر قوانین بناتا ہے۔ جن پر عمل کرنا اس ریاست میں رہنے والوں پر فرض ہوتا ہے اور ان کی خلاف ورزی پر گرفتاری، قیدو جرمانے اور پھانسی تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ بے شک ہر شہری کو قانونی طور پر کوئی بھی پیشہ، مسلک اور بودوباش اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ دین، معاشرتی اقدار اور مفاد عامہ کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے۔ فحاشی کے اڈے کھول کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے یہ پیشہ اختیار کرنے کا آئین اور قانون کے تحت حق حاصل ہے۔ بھیک مانگنا جرم ہے۔ جوئے کے اڈے چلانا غیر قانونی ہے، کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کرنا قانون کے منافی ہے۔ سمگلنگ کرنا ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اس کے غیر قانونی کاروبار سے بہت سے لوگوں کا رزق وابستہ ہے۔ اسے بند کرنے کی صورت میں سینکڑوں لوگ بے روزگار ہوں گے توکیا حکومت غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث چند سوافراد کے روزگار کو بچانے کے لئے فحاشی اور جوئے کے اڈے کھولنے، سمگلنگ کرنے، بردہ فروشی، گداگری اور دیگر غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر مذہبی کاموں کو جاری رکھنے کی اجازت دے گی؟یہ بات درست ہے کہ جنسی زیادتی کے تمام واقعات کے پس پردہ فحاشی کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ننھی زینب سے حریم فاطمہ تک درجنوں معصوم بچیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ چھ سے دس سال کی عمر کی ننھی بچیوں نے کوئی فحاشی نہیں پھیلائی تھی، جنسی درندوں نے انہیں اپنی شیطانی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد مار ڈالا۔کوئی پالتو یا جنگلی جانور اور درندہ بھی اپنی جنس کے معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کرتا کیونکہ یہ فطرت کے منافی ہے۔ جنسی زیادتی کی غیر فطری، غیر اسلامی، غیر قانونی، غیر اخلاقی اورمذموم کاروائیوں میں ملوث عناصر کو پکڑ کر سرعام لٹکانا چاہئے۔تاکہ درندگی کے واقعات کی موثر روک تھام ہوسکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى