مضامین

رمضان ریلیف پیکج…محمد شریف شکیب

ملک بھر میں سرکاری سٹورز میں رمضان ریلیف پیکج کے تحت 1500 سے زائد مصنوعات پر خصوصی رعایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ رمضان ریلیف پیکج پرعمل درآمد 10اپریل سے ہوگیا ہے۔یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ عوام الناس کو روزمرہ استعمال کی 19ضروری اشیا رعایتی نرخوں پر فراہم کی جائیں گی، یہ ریلیف پیکج ملک بھر میں قائم 4,881اسٹورزپر دستیاب ہوگا۔ سرکاری سٹورز پررمضان پیکج کے تحت 20 کلو آٹے کا تھیلا 800 روپے، چینی 68 روپے کلو اور گھی 170 روپے فی کلو کی رعایتی قیمت پر دستیاب ہوگا، چائے کی پتی پر 50 روپے فی کلو،سفید چنے پر فی کلو 15 روپے، دالوں پر 15 سے 30 روپے فی کلو، کھجوریں فی کلو 20 روپے، چاول پر 10 سے 12 روپے، بیسن پر 20 روپے فی کلو اور مصالحہ جات پر 10 فیصد رعایت دی جائے گی۔عوام کو رمضان المبارک میں اشیائے ضروریہ پر رعایت دینے کے لئے حکومت نے اربوں روپے مختص کئے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں رمضان پیکج عوام کے لئے بلاشبہ ایک بڑا ریلیف ہے تاہم رعایتی اشیاء کی سرکاری سٹورزکو وافر مقدار میں ترسیل اور عوام کے لئے دستیابی وہ سوال ہے جس کا جواب سرکار اور سرکاری سٹور والوں کے پاس بھی نہیں ہے۔ عام شکایت یہ ہے کہ سرکاری سٹورز کے اہلکار دکانداروں سے ملی بھگت کرکے رعایتی مال سٹور پہنچنے سے قبل ہی مارکیٹ میں پہنچا دیتے ہیں یوٹیلٹی سٹور کی مخصوص پیکنگ میں چینی، چاول، چنے اور دیگر اشیائے ضروریہ کی مخصوص دکانوں پر دستیابی کے شواہد بھی ملے ہیں۔پشاور کے پوش علاقہ گل بہار میں ایک یوٹیلٹی سٹور سے مقامی دکاندار کو آٹے کے تھیلے رکشے میں ڈال کر لے جانے کی وڈیو بھی حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔مہنگائی کے مارے عوام کو ماہ صیام میں ریلیف پہنچانے کے لئے حکومت نے سرکاری سٹور پر جو رعایتی اشیاء فراہم کی ہیں انہیں اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنا سنگین جرم ہے۔ اور اس جرم میں سرکاری سٹور کے اہلکار اور وہاں سے سستی اشیاء خرید کر مہنگے داموں اوپن مارکیٹ میں بیچنے والے دکاندار برابر کے شریک ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ رعایتی اشیاء کی خریداری کے لئے سرکاری سٹور پر صبح سویرے سے لوگوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں چالیس پچاس گاہکوں کو نمٹانے کے بعد رعایتی اشیاء کا سٹاک ختم ہوجاتا ہے۔محدود سٹاک جلد ختم ہونے پر بھی سٹور انتظامیہ پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ رعایتی اشیاء کی وافر مقدار میں ترسیل کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ سستے بازاروں میں بھی سرکاری سٹورز کے سٹال لگائے جائیں تاکہ لوگوں کو رعایتی اشیائے ضروریہ کی خریداری میں آسانی ہو۔ساتھ ہی رعایتی اشیاء کی بلیک مارکیٹنگ روکنے کے لئے نگرانی کے نظام کو فعال بنایا جائے تاکہ سبسڈی کی مد میں حکومت کی طرف سے مختص کی گئی رقم کی پائی پائی عوام پر خرچ ہوسکے۔اگر ہول سیل اور پرچون کا کاروبار کرنے والے بھی رمضان المبارک کے دوران اپنے منافع میں پچاس فیصد کمی کردیں تو ان کے رزق میں برکت ہوگی غریب لوگوں کو ریلیف ملے گا اور اللہ تعالیٰ بھی راضی ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے صرف روزہ رکھنا اور نماز پڑھنا ہی کافی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی کا برتاؤ کرنا بھی ضروری ہے۔ مخلوق خدا راضی ہوگی تو ان کے دلوں سے نکلی ہوئی دعائیں ماہ صیام میں ضرور بارگاہ الٰہی میں قبول ہوں گی۔غیر مسلم ممالک میں رمضان المبارک کے دوران مسلمانوں کے لئے تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔ اگر اہل ایمان بھی غیر مسلموں کے اس نیک عمل کی تقلید کریں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی ضرور آئے گی۔افطار دسترخوان،مفت سحری کے انتظامات، نادار افراد کے گھروں میں راشن پہنچانا، یتیموں، بیواؤں، معذوروں اور ناداروں کی مدد کرنا مسلمانوں کی زریں روایات رہی ہیں ان سنہری روایات کو زندہ کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے، شاید کبھی ماضی میں اتنی ضرورت نہ رہی ہو۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى