مضامین

پس وپیش۔۔۔ تعلیمی طرزنو۔۔۔ اے۔ایم۔خان

اگر ہم 60 کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والے ، اورجو سن 80 کے بعد ، اور اب 21وین صدی کے بچوں اور والدین سے ایک فریم ورک میں رہنے ، کام کرنے ، بات کرنے اور دیکھنے کو کہا جائے تو  ایک دوسرے کو حسرت کی نگاہ سے تکنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا۔
 اُس دور کی بات ہی کیا کریں جسمیں کچھ نہیں تھی۔  ایک وہ زمانہ جس میں کتاب بمشکل مل جاتا تھا تو وہی غنیمت ہوا کرتی تھی۔ اور اب اُنکا موازنہ موجودہ دور سے کریں  تو ہم سادہ الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ وہ جو کچھ پہلے موجود نہ تھی  اب سب کچھ باہم میسر ہے۔ سرکاری اور نجی سکولز، کتابین ، بہترین اساتذہ اور تعلیم سے متعلق ضروری وسائل سب موجود ہیں۔ اور سب سے بڑی بات معاشرے میں وہ شعور جو تعلیم کیلئے ضروری ہے مزید پننپ رہی ہے۔
 وہ زمانہ جسمیں پڑھنے کیلئے کتاب یا مواد مل نہیں رہا تھا اب پڑھنے کیلئے مواد اور ذرائع مواد کو چُننا ایک مشکل کام بن چُکی ہے۔  ایک  بچے کو ٹی۔وی، انٹرنیٹ ، ویڈیو گیمز، اور بڑھتے ہوئے موبائل اسکرین ٹائم کو محدود کرنا سب سے بڑا چیلنج بن چُکی ہے۔ موجودہ تحقیق کے مطابق ان وسائل کا کثرت سے استعمال نہ صرف بچے کی نفسیاتی اور ذہنی صلاحیت اور کردار سازی پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ آنکھوں میں سوزش اور کارکردگی متاثر ہونے کے قوی خطرات موجود  ہیں۔
ورلڈ بینک کے ایک رپورٹ کے مطابق سن   2016 ء سے پاکستان میں انٹرنیٹ کا استعمال سال کے شروع سے،  جوکہ دُنیا میں 10 فیصد تناسب پر ہے ، 20 فیصد  ہو چُکی ہے۔ گزشتہ سال سے تعلیمی سرگرمیاں جب ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے لگے تو بچوں میں انٹرنیٹ استعمال کرنے کا رجحان مزید بڑھ چُکی ہے ۔ موجودہ وقت میں ٹیکنالوجی تک رسائی سے زیادہ اُس کا مناسب استعمال سب سے بڑا چیلنج ہے تاکہ ٹیکنالوجی زیادہ سے زیادہ تعلیمی سرگرمیوں کیلئے استعمال ہو۔ دُنیا میں  انٹرنیٹ اور اسمیں موجود  دوسرے تعلیمی وسائل و رسائل کو استعمال کرنے سے بچوں کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوچُکی ہے، اور اسے مزید قوی بنانے پر محققین کام کر رہے ہیں۔
بچوں میں سیکھنے کے رجحانات اور کارکردگی کے حوالے سے وہ دوقیانوسی سوچ اور نظریات بھی تبدیل ہوگئے ہیں ۔ موجودہ تحقیق اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ  ایک بچہ جو ڈیزائن بنانے میں اچھا ہو اُس سے ایک بہترین مقرر ہونے کی توقع کرنا ، ملٹپل انٹیلجنس کے نظریے کے مطابق،  تعلیم کے برعکس ہے۔ درحقیقت بچوں کو اُن کے رجحانات اور دلچسپی کے مطابق مہارت ، ہُنر اور تعلیم دینے پر توجہ دینے کی ضرورت  ہے تاکہ  ایک خاص مضمون اور فیلڈ  میں ایک بچہ مہارت حاصل کرسکے جسمیں اسکی ذہنی رجحان، دلچسپی اور توجہ ہو۔
جو مسائل ایکس اور وائی جنریشن کو درپیش تھیں آج کا بچہ ان سے بالکل مختلیف اور پیچیدہ مسائل سامنا کررہا ہے۔ گوکہ وسائل اگر اُس کے پاس بھی ہیں اُنہیں بہتر  استعمال کرنا ،اور وقت اور عمر کے مطابق جاننا بہت مشکل ہو چُکی ہے۔ ساتھ والدیں کیلئے سہولیات کو باہم پہنچانے، استعمال پر نظر رکھنے ، اور بچوں کو وقت اور حالات کے مطابق راہنمائی روز بروز بڑھنے کے ساتھ  اور پیچیدہ ہو رہی ہے۔ موجودہ دور میں  روایتی طریقوں کو ترقی پسندانہ ، طرز نو، اور تخلیق سے بدلنے کی ضرورت ہے جوکہ دور کی ضرورتین ہیں۔ درپیش مسائل کو صرف ایک پروگرام یا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور انحراف کی حد لگانا دوسرے مسائل کے اثرات کو کم قرار دینا ہے۔
یہ بھی ہم نہیں بھول سکتے کہ ملک میں، بلکہ چترال کے دور افتادہ وادیوں میں،  ایسے بچے بھی ہیں جو اکیسیوین صدی کے ہیں لیکں وسائل و رسائل کی بنیاد پر  ایکس اور وائی جنریشن کے ساتھ ہیں۔
ہمارے معاشرے میں سکول اور معاشرے کے درمیاں جو فاصلہ ہے اسے خم کرنےکی ضرورت ہے۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ سکول معاشرے کا ایک اہم ادارہ ہے جسے بہتر بنانا معاشرے کی ذمہ داری ہے جس میں ہر فرد کا اپنا کردار موجود ہے۔ بچوں کو سکول کے بعد گھر میں سکرین ٹائم کو کم کرنے اور اُن مواد پر رسائی کو یقینی بنانے کی کوشش کرنا ہوگی جو اُن کے تعلیمی کارکردگی اور صلاحیتوں کو بہتر کرنے میں معاون ہوں ۔  معاشرے میں تعلیمی کلچر کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔  سکول میں اُستاد ، گھر میں والدین اور معاشرے میں ہر باشعور فرد بچوں میں اکیسیوین صدی کے کسب ہُنر میں طاق ہونے پر امادہ کرنا ہوگا تاکہ وہ دور میں مقابلہ کر سکیں۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔