تازہ ترین

خیبر پختونخواحکومت کالیویز اورخاصہ داروں کے ورثاءکو شہداءپیکج دینے اورملاکنڈ لیویز اہلکاروں کو گریڈ 5 سے 7 میں اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ

پشاور(چترال ایکسپریس)خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے سابقہ قبائلی علاقوں کے لیویز اور خاصہ داروں کے ورثاءکو شہداءپیکج دینے جبکہ ملاکنڈ لیویز اہلکاروںکو گریڈ 5 سے 7 میں اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعرات کے روز وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت سابقہ قبائلی علاقوں کے لیویز اور خاصہ دار فورس کے مسائل سے متعلق ایک اجلاس میں کیا گیا۔ شہداءپیکیج کے تحت لیویز اور خاصہ دار فورس شہداءکے ورثاءکو پولیس میں بھرتی کئے جانے کے علاوہ دیگر مراعات بھی دی جائیں گے۔ وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو اس سلسلے تمام پیشگی لوازمات جلد سے جلد مکمل کرکے سمری منظوری کے لئے ارسال کرنے کی ہدایت کی۔ صوبائی وزیر انور زیب، رکن صوبائی اسمبلی محمد شفیق آفریدی ،انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی، سیکرٹری داخلہ اکرام اللہ کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں وزیر اعلی نے مہمند اسپیشل خاصہ دار فورس کے باقی ماندہ 511 اہلکاروں کو مستقل کرنے کی بھی اصولی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو معاملہ صوبائی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کرنے اور ان اہلکاروں کے دیگر مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کے شراکاءسے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا چونکہ سابقہ قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کے بعد خاصہ دار اور لیویز فورس خیبر پختونخوا پولیس میں ضم ہوچکے ہیں اس لئے اصولی طور پر سابقہ خاصہ دار اور لیویز فورس کے شہداء کو بھی پولیس شہداءپیکیج میں ضم ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دیگر فورسز کی طرح لیویز اور خاصہ فورس نے بڑی قربانیاں دی ہیں، وہ قوم کے شہداءہیں جنہوں نے ملک و قوم کی خاطر اپنی جانیں قربان کی ہیں، صوبائی حکومت ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، ان کے ورثاءکو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان شہداء کے ورثاءکو بھی وہی مراعات ملیں گی جو پولیس شہداءکو ملتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا سابقہ لیویز و خاصہ دار فورس کے تقریباً تمام مسائل ہوچکے ہیں اور باقی ماندہ چھوٹے موٹے مسائل کے حل کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور بہت جلد یہ مسائل بھی حل کئے جائیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔