تازہ ترینمضامین

۔۔”نوازشریف کا چترال اور خان جی کا چترال”محمد کوثر ایڈوکیٹ صدر مسلم لیگ ن سب ڈویژن چترال/ڈپٹی جنرل سیکٹری مسلم لایر مالاکنڈ ڈویژن۔۔مرکزی چیرمیں کھوار اھل قلم

کہا جارھاھےکہ چترال کےلیے نوازشریف کےاعلانات ھوائی تھے جبکہ خان جی عملی کام کررھاھے۔معترضیں بتائیں کیا یہ حقیقت نہیں کہ 2013تک لواری پر کام روک دیا گیا تھا اور یہ نوازشریف تھا کہ 2013کے نومبر میں ھی نوازشریف نے ھرلحاظ سے لواری ٹنل کو مکمل کرنےکاعندیہ دیا اور یوں 80%رقم اس کےلیےمختص کرکے کام مکمل کروایا۔اگر کسی کا حافظہ کمزور ھے تو 2017میں ٹنل کےافتتاح کےوقت میاں صاحب کی تقریر ملاحظہ کریں۔

چترال اندھیروں میں ڈوب چکا تھا پاور کمیٹی کےنام سے جو پاپڑ ھم نےبیلےتھے اس کی تفص

یل میں نہیں جانا چاھتا مگر جب پاور کمیٹی نے آل پارٹیز جلسہ پولو گراونڈ میں منعقد کیا تو یہ مطالبہ کیا گیا کہ چترال کو تیس میگاواٹ بجلی چترال ھی میں علحیدہ گرڈ اسٹیشن بناکے چترال کو فراھم کیا

جایے۔یہ قرارداد میں نےاپنےھاتوں سے لکھا اور یہ نکتہ مجھے چکدرہ کے RE جناب بخت زمان صاحب جو کہ اب بھی زندہ ھےنےبتایاتھا کہ چترال کی ضرورت فی الوقت تیس میگا

واٹ ھے۔یہی قرارداد میں نےلکھااور اس وقت کےمسلم لیگ ن چترال کےصدر سیداحمد خان کےدستخط کیساتھ وزیراعظم کےمیز پر پہنچ چکا تھا۔

ڈی سی آفس میں میٹنگ میں نوازشریف نےمنظوری دی۔یوں بعد میں اپر چترال کےلیے

کوغذی کےمقام پر علحیدہ سسٹم بنایا گیا۔اپر چترال میں مزید گرڈ اسٹیشنوں کےلیے سروے کیےجانےلگےیوں چترال آج روشنیوں کا شہر بن چکا ھے۔

اسی ڈی سی آفس میں عمایدیں کساتھ ملاقات میں مسلم لیگ ن چترال کےجنرل سیکٹری

چارویلو صفت زرین صاحب اٹھ کے چترال کےلیے گندم کی قیمت گلگت بلتستان کی طرح سبسڈایز ریٹ پر مطالبہ کیا تو نوازشریف صاحب نے پرویزخٹک سے مشاورت کی اور پرویزخٹک نےاس پر یہ اعتراض کیا کہ اگر ایسا کیاگیا تو دیگر ضلعے بھی مطالبہ کرینگے یوں اس معاملےکو تبدیلی والوں نے دبادیا۔

سیلاب اور زلزلے کے دنوں نوازشریف کےاحکامات کےمطابق بیس ھزار متاثرین کو لاکھ دو لاکھ اور فوت شدگان کو پانچ پانچ لاکھ دیے گیے یوں آج چترال میں موٹر سایکلوں کی بھرمار ھوگئی۔

گیس پلانٹ کا آئیڈیا اس وقت کے ایم این اے شہزادہ افتخار کا اپنا تھا نوازشریف نے اس کی بھی منظوری دی اور سنگور میں زمینات خریدے گیے ۔ پلانٹس کا ٹینڈر بھی کیاگیا۔

پرایم منسٹر اسکل پروگرام کےتحت ٹیکنیکل کالج بلچ میں چھ ماہ کا کورس اور ھر فارغ التحصیل اسٹوڈنٹس کےلیے مفت کڈز بمعہ پپچیس سو روپے نقد دیاجاتا رھا۔

پرایم منسٹر

 لون پروگرام جو کہ بلاسود تھا چارسدہ کےبعد سب زیادہ چترال کے نوجوانوں فایدہ اٹھایا۔

لیپ ٹاپ اسکیم چترال سمیت پورے ملک نےاستفادہ کیا۔

جہان تک تین سو بیڈ ھسپتال کی بات ھے تو یہ بھی ھورھاتھا البتہ قانون کےتحت صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی کہ زمیں فراھم کرے اس وقت کے پرویز خٹک نےلیت ولعل سے کام لیا دوسری طرف اس وقت کے ناعاقبت اندیش صوبائی نمایندے یعنی سردار حسین سلیم خان نےاسے متنازعہ بنادیا۔ سردار حسین نے کوشش کی کہ اس ھسپتال کا آدھا حصہ اپر کےلیے ھو اور آدھا لویر کےلیے۔

چکدرہ ٹو شندور روڈ کا اعلان پولو گراونڈ میں میان صاحب نے کیا تھا اسے دنیا کو دیکھانےکےلیے سی پیک لنک روڈ کہا گیا درحقیقت یہ سی پیک کا بنیادی روٹ تھا۔

ان سب کے پراجیکٹ کو موجودہ حکومت نے مکمل رول بیک کردیا۔موجودہ نااھل حکومت ریشن بجلی گھر اور گولین گول واٹر سپلائی کا کام عرصوں تک نہیں کرپایا مگر اس حکومت کےچیلے مسلم لیگ ن پر تنقید کررھےھیں کہ نوازشریف نے ھوائی اعلانات کیے۔جب کہ حال ھی میں ایک اھم ال پارٹیز میٹنگ جو کہ گیس پلانٹس کےحوالےسے منعقد ھواتھا موجودہ ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی نے سب کےسامنے یہ انکشاف کیا کہ ایک حکومتی وزیر نے کہاھےکہ یہ پراجیکٹ مکمل کرنےسے کریڈٹ نوزشریف اور مسلم لیگ ن کو جاتا ھے اس لیے ان پر کام روک دیا گیا ھے۔

سب سے دلچسپ بات یہ ھے کہ جب عمران خان زلزلےکےدوران چترال تشریف لایے تو اس وقت کے ڈی۔سی اسامہ صاحب نےمکمل بریفنگ دےکر وفاق کےکاموں کا ذکر کیا تو اس وقت کے ایم پی اے سلیم خان صاحب نے عمران خان کو مخاطب کرتے ھویے کہا کہ سر نوازشریف نےاپنےوعدوں کےمطابق سارے کام کیےھیں البتہ صوبہ ابھی تک کچھ نہیں کیاھے تو عمران خان نے کہا کہ “میں چترالیوں کو ایک مشورہ دیتا ھوں کہ آیندہ الیکشن میں ووٹ نواشریف ھی کو دیں کیونکہ ھمارے صوبےکےاور بھی بہت مسایل ھیں۔”۔۔اگر میری یہ بات غلط ھے تو سابق ایم پی اے جناب سلیم خان صاحب اس کی تصدیق کرسکتے ھیں۔

چترال کےبھایوں کےبارے نوازشریف یہ رایے رکھتے تھے کہ 2013میں چترال کےعوام پرویزمشرف کےایک کام پہ اسکا ساتھ دے سکتے ھیں تو میں یعنی نوازشریف مشرف خان سے چارگنا زیادہ کام کرکے دیکھاونگا۔مگر افسوس 2018میں چترالیوں نے پاکستانی اقوام کےسامنےاپنے ساکھ کو خود نقصان پہنچا بیٹھے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔