تازہ ترین

وزیراعلیٰ محمود خان کے زیر صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ میں اصلاحات کے حوالے سےاجلاس کا انعقاد

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبائی حکومت کی ای گورننس اسٹریٹیجی کے تحت محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کے جملہ امور میں شفافیت کے لئے ای بڈنگ اور ای ٹینڈرنگ کا نظام متعارف کروایا گیا، جبکہ ای ورک آرڈر اور ای بلنگ سسٹم متعارف کروانے پر کام جاری ہے، اس سال جون کے آخر تک ای بلنگ سسٹم متعارف کیا جائیگا۔ اسی طرح محکمے میں جیو گرافک انفارمیشن سسٹم متعارف کرنے کے لئے آلات کی خریداری مکمل کر لی گئی ہے اور درکار سٹاف کی بھرتی کا کام جاری ہے۔ مزید برآں محکمہ کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے محکمے کی ریسٹرکچرنگ کا عمل شروع کیا گیا ہے جس کے تحت دیگر عملے کے علاوہ 53مزید آفیسرز بھر تی کئے گئے ہیں اور ضلع اور تحصیل کی سطح پر محکمے کو توسیع دی گئی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں محکمے کی مجموعی کارکردگی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے علاوہ محکمے کی سالانہ آمدن میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔
یہ بات جمعرات کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ میں اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس میں بتائی گئی ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ آبنوشی میں اصلاحاتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ کی ریسٹرکچر نگ کا عمل تیز رفتاری سے مکمل کرنے جبکہ جنوبی اضلاع میں پینے کے پانی کا مسئلہ دیر پا بنیادوں پر حل کرنے کے لئے حقیقت پسندانہ اور قابل عمل ماسٹر پلان تیار کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے محکمہ کے تحت تمام تر جاری اقدامات کو مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے مسائل کا حل ترجیح ہونی چاہئیے۔ سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ذاکر حسین آفریدی نے اجلاس کو محکمے کے ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت ، اصلاحاتی اقدامات ، مسائل اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ کے تحت صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 154 ترقیاتی سکیموں پر کام جاری ہے ۔ تکمیل کے قریب کل 69 سکیموں میں سے سترہ سکیمیں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ باقی سکیموں پر تیز رفتاری سے پیشرفت جاری ہے۔ رواں مالی سال کے لئے ریونیو جمع کرنے کا ہدف 250 ملین روپے رکھا گیا تھاجس میں سے اپریل 2021تک 206 ملین روپے جمع کئے گئے جو مجموعی ہدف کا 88 فیصد بنتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے بندوبستی علاقوں کے لئے ماسٹر پلان تیار کرلیا گیا ہے جبکہ ضم اضلاع کے لئے ماسٹر پلان کی تیاری پر کام جاری ہے۔ محکمہ کے تحت سولرائزیشن منصوبے کے تحت 1200 سے زائد واٹر سپلائی سکیمیں شمسی نظام پر منتقل کی جاچکی ہےں، جن سے سالانہ ایک ارب روپے کی بچت ہوئی ہے، جبکہ ان سکیموں کیوجہ سے نیشنل گرڈ کو 25 میگاواٹ بجلی کی بچت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پینے کے پانی کی فراہمی کی مزید 250 سکیموں کی سولرائزیشن پر کام جاری ہے۔ شہریوں کی سہولت کے لئے پشاور ، مردان اور ایبٹ آباد میں سیٹیزن فیسیلیٹیشن سنٹر ز قائم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے ہر پی ایچ ای سرکل میں آٹھ واٹر کوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریاں قائم کی جاچکی ہیںجبکہ آٹھ موبائل واٹر کوالٹی لیبارٹریاں بھی قائم کی گئی ہیںاور ضم اضلاع میں تین لیبارٹریوں کے قیام پر کام شروع ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ میں خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لئے سوات میں فوری ریسپانس یونٹ قائم کیا گیا ہے جس کے نتائج و اثرات کو دیکھتے ہوئے اس کو دیگر پی ایچ ای ڈویژن تک توسیع دی جائیگی۔ گجر گڑھی مردان، تنگی (چارسدہ) اور ڈی آئی خان میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلان کے قیام کے لئے فیزیبیلیٹی سٹڈی اور پی سی ون تیار کرلیا گیا ہے ۔ پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر ڈی آئی خان میں مذکورہ پلان کے قیام کا منصوبہ نئی اے ڈی پی میں شامل کیا گیا ہے جس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اسے دیگر ڈویژن تک توسیع دی جائیگی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ کے تحت مختلف پالیسیز اور لیگل فریم ورک کوبھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جارہا ہے۔ پراونشل ڈرنکنگ واٹر پالیسی پر نظر ثانی کی جارہی ہے ، پراونشل سینیٹیشن پالیسی کا مسودہ تیار ہے جبکہ ڈرنکنگ واٹر سپلائی سکیم ایکٹ 1985 میں ترمیم کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ ایک مربوط واٹر ریسورسز منیجمنٹ اسٹریٹیجی کی تیاری پر بھی کام شروع ہے۔ محکمہ کی استعداد کارمیں اضافہ کرنے اور عوام کو خدمات کی بہتر انداز میں فراہمی کے لئے متعدد اصلاحات متعارف کرائی جارہی ہےں۔ صوبہ بھر میں آبنوشی خدما ت کی طلب و ضرورت خصوصی طور پر نئے ضم اضلاع میں محکمہ کی انتظامی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے محکمہ کی ریسٹرکچرنگ کی جارہی ہے، جس سے محکمہ کے تحت گورننس کے مجموعی نظام کو بہتر بنانے ، ترقیاتی منصوبوں کی معیاری تکمیل ، عوام کی خدمات تک آسان رسائی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ آمدن اور ذرائع روزگار میں اضافہ میں مدد ملے گی۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پانی کے چارجز جمع کرنے کے لئے سافٹ وئیر تیار کر لیا گیا ہے، آئندہ مالی سال سے اس سافٹ وئیر کا استعمال عمل میں لایا جائیگا۔ علاوہ ازیں ای کارسپانڈنس کے لئے فریم ورک ڈیزائن مکمل ہے جبکہ سافٹ وئیر کی تیاری پر کام شروع ہے۔ اسی طرح محکمہ میں ویڈیو کانفرنس سسٹم کے لئے آلات کی خریداری اور تنصیب کا عمل شروع ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ واٹر چارجز کی ریکوری کے لئے خصوصی مہم چلائی گئی ہے اور ہر سب ڈویژن میں سپیشل ریکوری ٹیمیں تشکیل دی گئی ہےں۔ غیر قانونی کنکشن کے خاتمے اوران کی ریگولرائزیشن پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔