تازہ ترینمضامین

(آ واز درویش)…*”جنگ بدر اور آج کا مسلمان”* ..طارق وحید خان.

قارئین آج کا دن 17 رمضان المبارک کا وہ مقدس دن ہے جس کو نہ صرف مسلمان بلکہ پوری دنیا کے لوگ” یوم الفرقان” کے نام سے جانتے ہیں مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑی جانے والی یہ پہلی فیصلہ کن جنگ جسے “جنگ بدر” کہا جاتا ہے اس کو فرقان کے نام سے اس لیے جانا جاتا ہے کہ اس دن حق اور باطل کے درمیان پروردگار نے حق و باطل کو صاف صاف ظاہر کردیا اور حق کو باطل پر فتح نصیب ہوئی رمضان المبارک کے مہینے کی 17 تاریخ کو لڑی جانے والی یہ جنگ جمعۃ المبارک کو شروع ہوئی جب کہ آپ رسول اللہﷺ شب جمعہ عشاء کے وقت وادی بدر میں پہنچے ۔

خوش قسمتی سے آج بھی جمعہ کا ہی دن ہے ۔
قارئین اس جنگ کی فتح اور پس منظر اور حالات کے بارے میں دنیا کے سینکڑوں تاریخ نویسوں اور محققوں نے بہت کچھ لکھا اور ہزاروں کی تعداد میں پوری دنیا میں کتابیں اور مقالے لکھے گئے ۔ ایک ایک نقطے اور ایک ایک لمحے کو قلم بند کیا گیا ۔ مسلمانوں کے ایثار اور قربانی نبی الملاحمﷺ اور سرور کائناتﷺ کے ساتھ وفاداری اور بہادری کی عظیم داستانوں کو پوری پوری تفصیل سے لکھا گیا اور رہتی دنیا تک لکھا جاتا رہے گا۔ انشاءاللہ
لیکن افسوس کہ یہ سب کچھ لکھنے کی حد تک اور پڑھنے کی حد تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ھے ۔ آج کے مسلمانوں کو صرف یہ یاد ہے کہ یہ جنگ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان ہوئی تھی ۔ جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور بس کھیل ختم۔
لکھنے کو تو میں بھی بہت کچھ لکھ سکتا ہوں اور صفے پر صفے رنگین کیے جا سکتے ہیں ۔مگر اس کا کیا نتیجہ ہے سوائے مایوسی کے جب کہ اس لکھے پر عمل ہی نہ ہو ۔
پچھلے دنوں مسجد وزیر خان کی بے حرمتی پر ایک مفصل کالم لکھا تو کئی اخبار والوں نے چھپانے سے انکار کردیا کہ یہ کافی سخت کالم ہے اس میں ذرا ترمیم کرکے ذرا نرم کریں ۔ ہماری پالیسی اس کی اجازت نہیں دیتی ۔ میں نے وہ کالم واپس لے لیا اور ایک چھوٹے اخبار “چترال ایکسپریس” میں چھپنے کو دیا تو وہ فورا چھپ گیا۔
اس کے پیش نظر کافی مایوسی ہوتی ہے کہ اگر ایک تحریر دل سے لکھی جائے اور معاشرے کی خرابیوں ناانصافیوں اور دین کے مطابق صحیح تصویر کشی کی جائے تو سیکولر طبقے کو ہضم نہیں ہوتا جبکہ تمام کالم بغیر پیسوں کے لکھے جاتے ہیں ۔ اپنی کالج کی زندگی میں ہی کالم لکھنا شروع کیا تھا مگر آج تک ایک روپیہ بھی نہیں لیا ۔ آج اگر ہم دیکھیں تو مسلمانوں کی ہر طرف درگت بن رہی ہے وہ ہر طرف ذلیل ہو رہے ہیں۔ شام میں مسلمانوں کی حالت دیکھ لیں فلسطین کے ظلم دیکھ لیں چیچنیا’ بوسنیا میں دیکھ لیں اور خاص کر افغانستان میں جو کچھ نیٹو کی افواج نے کیا اس پر تو میں لکھ ہی نہیں سکتا ۔ کیونکہ اس کو لکھنے کے لیے سیاھی کی جگہ خون درکار ہوگا جہاں کے مسلمانوں نے 42 ملکوں کی مشترکہ فوج کو نکیل ڈالنے کے لیے چودہ سو سال پرانی صحابہ کی تاریخ دہرا دی ۔
اور ابھی تک مشرکین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تگنی کا ناچ نچا رہے ہیں اور باقی کچھ مسلمان ملک اس سلسلے میں کفار کے ہاتھ مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ خیر اس پر پھر کبھی لکھوں گا ۔
قارئین مقبوضہ کشمیر ھندوستان میں ظلم و ستم کی جو داستان رقم کی ہیں ان کی پوری دنیا میں کہیں نظیر نہیں ملتی ۔ جب سے پاکستان بنا کشمیری اس وقت سے صرف بربریت کا شکار ہیں ۔ اور دنیا کی ۵۴ مسلم ملکوں کے مسلمان ان کی بے بسی اور بے چارگی کا تماشا نہایت ڈھٹائی سے دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ یہ تمام ملک اپنی اپنی فوج بھی رکھتے ہیں۔ اور بڑے بڑے ہتھیار جن میں پاکستان سرفہرست ہے۔ . اس سلسلے میں اللہ تعالی نے سورہ بقرہ کی تفسیر میں منافقین کے لیے مثال بیان فرمائی ہے کہ “جو حق کو دیکھتے تو ہیں لیکن اس کو بیان کرنے سے ان کی زبانیں گنگ ہیں۔حتی کہ جب وہ کفر کی ظلمت سے نکلتے ہیں تو اللہ تعالی ان کے کفر اور نفاق کی وجہ سے ان کے نور کو بجھا دیتا ہے ۔ اور پھر انہیں کفر کی تاریکیوں میں چھوڑ دیتا ہے جہاں سے نہ انہیں ہدایت کا نور نظر آتا ہے اور نہ وہ حق کے راستے پر قائم رہ سکتے ہیں ۔ وہ خیر اور نیکی کا پیغام سننے ،حق کی بات کہنے اور حقیقت کا آفتاب دیکھنے سے بہرے گونگے اور اندھے ہیں ۔وہ شاہراہ ہدایت اور خیر کے چشمہ شیریں کی طرف کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے” ۔
اس موقع پر مجھے سرور کائنات کی وہ حدیث یاد آتی ہے کہ آپ نے فرمایا میری امت پر مشرکین ایسے پڑیں گے جیسے کھانے پر پڑتے ہیں ۔ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے ۔ فرمایا نہیں اس وقت تم لاکھوں میں ہو گے ۔ صحابہ نے عرض کی تو پھر کیا ہمارے پاس اس وقت ہتھیار نہیں ہوں گے ۔نبی الملاحمﷺ نے فرمایا نہیں اس دور کے جدید ہتھیار ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کی یارسول اللہﷺ ہم اس وقت تعداد میں بھی بکثرت ہوں گے اور ہمارے ہتھیار بھی جدید ہو گے تو پھر ہم بے بس مسلمانوں کی مدد کو کیوں نہ جائیں گے ۔ تو رسول اللہ نے فرمایا تمہارے دلوں میں “وہن” جگہ لے لے گا ۔اور مزید فرمایا
” حب الدنیا وکراہیۃ الموت ۔یعنی دنیا سے محبت اور موت سے نفرت۔”
آج ہمیں دنیا سے اتنی محبت ہو گئی ہے کہ آج جہاں مرضی کفار دندناتے پھریں مسلمانوں کی گردنیں کاٹیں، سرور کائناتﷺ اور فخر موجوداتﷺ کے کارٹون بنائیں اور سرکاری طور پر فرانس کی سڑکوں پر اور چوراہوں پر آویزاں کریں مگر ہم اپنی معیشت کا رونا روتے رہے ۔ جب کہ ہم نیوکلیئر پاور بھی ہوں اور دنیا کی بہترین فوج بھی
ہم نے کس دن کے لیے یہ ہتھیار اکٹھے کر رکھے ہیں کیا ان میں بارود بھی ہے یا پھر یہ کھوکھلے ہیں۔ یہ کس دن کام آئیں گے ۔ یہ بیکار ہیں اگر یہ مشرکین اور یہود و نصارا کے سروں پر نہ چلائے جائیں۔
چنانچہ اللہ تعالی قرآن میں دو جگہ واضح الفاظ میں فرماتا ہے ۔ ایک جگہ سورہ بقرہ آیت نمبر 193 اور دوسری جگہ سورہ انفال میں آیت نمبر 39 ۔میں
“کہ ان مشرکین سے قتال یعنی جنگ کرو اور کرتے رہو حتیٰ کے فتنہ باقی نہ رہے ۔ اور تمام دین سارے کا سارا اللہ کا ہو جائے ۔ مزید سورہ انفال آیت نمبر 60 میں اللہ تعالی فرماتا ہے اور ان سے لڑائی کے لئے جس قدر طاقت ہو تیاری کر رکھو ۔ اور پلے ہوئے گھوڑوں سے یعنی گھوڑے باندھ کر رکھو ۔ جو ھنھناتے رہیں اور مشرکین کو دکھائی دیں تاکہ ان پر تمہارا دبدبہ اور روعب طاری ہو۔”
یاد رکھیں کفار نے ہمیں آسانیوں میں ڈال دیا ،ہمیں ہر طرح کی سہولت مہیا کی، ہمیں قرضے دیے ،کریڈٹ کارڈ کی شکل میں یہود نے پیسہ دیا تاکہ ہم اپنی آسائشیں بڑھاتے چلے جائیں ۔ اور بزدل سے بزدل ہوتے چلے جائیں ۔ کاش ہم نے رسول اللہ کی زندگی کا مطالعہ کیا ہوتا ہے جنہوں نے اپنی 63 سالہ زندگی میں کبھی پیٹ بھر کر کھانا بھی نہیں کھایا ۔ “شمائل ترمذی” میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور کی زندگی میں ہمارے گھر ایک ایک مہینہ چولہا نہیں جلتا تھا ۔ اور کوئی بھی چیز کھانے کے لئے نہیں میسر ہوتی تھی ۔ حتی کے ہم کئی کئی دن فاقہ کرتے ۔ ابھی مسلمانوں نے بڑے بڑے گھر میں بڑے بڑے اے سی ،چار چار گاڑیاں، پرتعیش کھانے ، آرام دہ بستر، بہترین نرم کپڑے اور تمام آسائشیوں پر اتنی زیادہ توجہ دی کہ اپنا ماضی ہی بھول گئے اور جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کر دیا
کیا ہم وھی مسلمان ہیں جن کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے کفار کے دل دہل جایا کرتے تھے اور کلیجہ پھٹ جاتا تھا ۔ خدارا اپنی آسائشوں کو کم کیجئے، اپنی زندگی میں سختی لائے۔ کم کھائیے تا کہ ہم آنے والے دنوں میں اپنے دشمن کا مقابلہ کر سکیں ۔
میرے استاد محترم ڈاکٹر فیضان دانش اپنی فراست کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ آنے والا وقت انتہائی سخت اور مشکل کا ہوگا۔ میرے منہ میں خاک اگر اس خطے میں قحط کی صورتحال ہوئی اور دن میں ایک روٹی بھی نصیب نہ ہوئی تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے ۔ خدارا میرے لکھے کو مذاق نہ سمجھیں یہ آپ کو وقت آنے پر پتہ چلے گا ۔ نہایت افسوس ہے کہ ہم صرف تسبیح اور نماز تک ہی محدود رہے ۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں میں نے کبھی کسی کتاب میں نہیں پڑھا کے رسول اللہﷺ نے کبھی کسی جنگ میں کسی صحابی کو تسبیح پڑھنے کے لیے دی ہو ۔ البتہ کئی موقعوں پر تلوار اور تیر ضرور دیے ۔
چنانچہ اللہ تعالی نے سورہ انفال آیت نمبر 65 میں واضع الفاظ میں زور دے کر کہا ۔
اے میرے حبیب مسلمانوں کو جنگ کے لیے ابھاریں۔ انہیں طیش دلائیں ۔ اور برانگیختہ کریں تاکہ وہ مشرکین کو کاٹ ڈالیں ۔ لیکن حضور کی تلواروں ، ان کی جنگوں اور سادہ طرز زندگی کو ہم بھلا بیٹھے ہیں ۔ اور ان صحابہ کی زندگی کو فراموش کر بیٹھے ہیں جنہوں نے مٹھی بھر کھجوریں جیب میں ڈال کر قیصروکسریٰ کے دروازے اکھاڑ دیے تھے ۔ اور اس دور کی دونوں سپر پاوروں کے استبداد غرور اور تکبر کو خاک میں ملا دیا تھا ۔ علامہ اقبال نے بانگ درا میں کیا خوب کہا ہے ۔
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے وہ کیا تھا
زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانی ۔
کاش ہم سب یہ تمام خرافات، غیر ضروری آساءشیں اور یورپ کے نقشے قدم پر چلنے کے بجائے ان کے قرضے ان کے منہ پر مار کر سرور کائناتﷺ کو اپنا آئیڈیل بنائیں ۔ اور آپﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کو پڑھیں تو شاید اللہ تعالی ہمیں سیدھا راستہ دکھا دے ۔ اور پھر ہم کسی کامیابی کی طرف لوٹ آئیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالی ہمارے دلوں پر بھی اسی طرح تالے لگا دے جس طرح ابوجہل اور ابو ابئ کے دلوں پر لگا دیے گئے تھے ۔ جن بد نصیبوں نے حضورﷺ کو دیکھ کر بھی کلمہ نہ پڑھا ۔
یاد رکھیں اگر ہم آج بھی قرآن کو پڑھیں اور اسے اپنی زندگی میں بسا لیں تو ایک بار پھر ہم خیرالقرون کے لوگوں کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ آج بھی ہمارے لئے اللہ کی مدد آ سکتی ہے اور آج بھی دنیا میں ہم سرخرو ہو سکتے ہیں ۔

فضاے ے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کواتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اند ر قطار اب بھی۔۔

،.. .  .  ۔ .  .humanity.1st.khan@gmail.com

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔