تازہ ترین

چترال دارالامان کے لئے قابل خواتین کی موجودگی کے باوجودنیچے سے خاتون کی تعیناتی ناقابل قبول ہے۔قاری جمال عبدلناصر

چترال(چترال ایکسپریس)جمعیت علماء اسلام ضلع لوئر چترال کےسینئر نائب امیر مشہور ومعروف عالم دین قاری جمال عبدالناصر نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ دنوں چترال دار الامان کے لئے چترالی خواتین سے انٹرویو لینے اور قابل خواتین کی موجودگی کے باوجود نیچے سے ایک خاتون کی تعیناتی ایک لمحہ فکریہ ہے اب مزید عہدوں کے لئے بھی نیچے سے ہی تعیناتی کا قوی امکان ہے اہالیان چترال سے زیادتی بالکل نا قابل قبول ہے۔ وزیر اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان اس سلسلے میں فوری ہدایات جاری کریں۔اُنہوں نے ایم پی اے چترال مولانا ہدایت الرحمان اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی وزیر زادہ سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر اس زیادتی کے خاتمہ کے لئے آواز بلند کرکے اس کی روک تھام کرائیں تاکہ ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان اور خواتین کی حق تلفی نہ ہو چونکہ صوبائی حکومت کی طرف سے دارالامان کا چترال میں قیام ایک اہم اقدام ہے لیکن اس ادارے کی آسامیوں کو نیچے سے لاکر پُر کرنا انتہائی زیادتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سنیٹر مخترمہ فلک ناز صاحبہ پر بھی بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی اس زیادتی کی روک تھام کے لئے اپنا مثبت کردار اداکرے ورنہ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ چترال کے تعلیم یافتہ بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ برملا نا انصافی ہورہی ہے۔قاری جمال عبدالناصر نے کہا کہ کیا لکی مروت سے ایک ڈرائیور کا چترال کے ایک محکمہ میں مستقل پوسٹ پر بھرتی کرنا چترال کے بے روزگار نوجوانوں کی حق تلفی نہیں ہے؟؟ جو ہر لحاظ سے قابل مزمت ہے اب معلوم ہورہا ہے کہ نیچے سے دوسرے کلاس فور بھی نیچے سے لانے کوشش جاری ہے اگر کسی عہدے کے لئے چترال میں اہل افراد نہ ہوں تو کسی بھی علاقے سے کسی کو لانے پر ہمارا کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں لیکن قابل اور اہل افراد کے ہوتے ہوئے نیچے سے لانا بالکل اس پسماندہ علاقے کے لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی اور نا قابل قبول ہے۔اُنہوں نے ڈپٹی کمشنر چترال سے بھی گزارش کی اورکہا کہ ا نتظامی طور پر بھی اس بابت چترالی قوم کے اس اہم مسئلے سے صوبائی حکومت کو آگاہ کرئے بصورت دیگر زبردست احتجاج کرنا ہمارا بنیادی حق ہے پھر کوئی نہ کہے کہ ہمیں خبر نہ ہوئی۔اُنہوں نے کہا کہ پشاور میں تحفظ حقوق چترال کے ساتھی بھی اس ظلم کے خلاف بھر پور احتجاج کی تیاری کریں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔