مضامین

محنت کبھی رائیگان نہیں جاتی…تحریر: ناصر علی شاہ

اپر چترال کے خوبصورت گاؤں وادی مستوج کے انتہائی غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے ایاز حیسن شاہ نے اپنی انتھک محنت, کچھ پانے کی جستجو لیکر دن رات ایک کرکے اپنے روشن مستقبل کے لئے برسرپیکار رہے ہیں اور آگے بڑھنے کے لئے کتاب کو ساتھی بنا کر آگے بڑھتے رہے ہیں اور بالاخر آپ نے ثابت کی کہ نسب العین بناکر, ایمانداری سے اگر محنت کی جائے تو منزل خود بخود قریب اجاتا ہے.
آیاز حسین شاہ جو انتہائی نامسعد حالات سے گزر کر تعلیم حاصل کر چکے ہیں. آپ انتہائی نیک, ایمانداری میں اپنی مثال آپ, نرم گفتار شخصیت کے مالک ہیں آپ خدمت میں سب سے آگے آگے رہ کر اپنے علاقے کے تمام لوگوں کی بنا کسی مطلب خدمت کرتے رہے ہیں.
آپ تین بھائی اور چار بہنیں ہیں آپ کے والد گرامی بینک میں ملازم تھے دوران ملازمت عارضہ قلب کی وجہ سے انتقال کر گئے اس وقت آپ یونیورسٹی میں داخلہ لے چکے تھے آپ کے اوپر گویا قیامت ٹوٹ پڑی. اللہ پاک نے طاقت عطا کی اور آپ کا جذبہ مزید مضبوط ہوگیا. بڑا بھائی سردار خو ڈریونگ سیکھ چکا تھا گاڑی چلانا شروع کی اور بھائی سمیت گھر کو سنبھالا.ایاز حسین شاہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کچھ وقت نزدیک سکول میں پڑھاتے رہے پھر آغا خان ہائیر سیکنڈری میں بطور لیکچرر کام شروع کی. خاندان میں سب خوش تھے مگر اس کے دل کا راز کون جان سکتا تھا کہ ان کا مقصد پورا نہیں ہوا البتہ والدہ محترمہ کی تسلی کے لئے پڑھاتا رہا اور ساتھ ساتھ لگن و محنت سے خود بھی آگے بڑھتے رہے اور کامیابیاں آپ کا مقدر بنتے رہے اور عظیم کامیابی دروازے پر دستک دی

آیاز حسین شاہ کو آج جی ایچ کیو سے کال کرکے شارٹ سروس کمیشن میں کامیابی کی مبارک باد دی, تو خوشی کے ٹھکانے نہیں رہے اور آپ نے برملا کہہ دیا کہ ماں آپ کی دعا, اللہ کی رضا اور محنت سے مجھے میری منزل مل گئی اور آج میرا نصب العین پورا ہوا..

دل کی اتھاہ گہرائیون سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اوراُن سے امید کرتے ہیں کہ بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کرینگے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔