مضامین

عالم اسلام کو اجتہاد کی ضرورت…محمد شریف شکیب

قدیم دینی درس گاہ جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد ال طیب نے عالم اسلام کو درپیش 25 نئے اہم مسائل سے متعلق اجتہاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔شیخ الازہر کا کہنا تھا کہ انہوں نے علماء کونسل کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ تکفیر سمیت امہ کو درپیش جدید نوعیت کے مسائل پر قرآن وسنت کی روشنی میں اجتہاد کریں۔ان تجاویز میں موجودہ دور میں ہجرت کی دینی حیثیت، دارالسلام کے موجودہ تصور، شدت پسند اور مسلح گروپوں میں شمولیت، تکفیر، سماج سے بغاوت، نفرت پھیلانے، قتل اور دھماکوں کے ذریعے شہریوں کا خون بہانے اور اسے حلال سمجھنے کے تصورات پر اجتہاد شامل ہیں اس کے علاوہ سیاست، جمہوریت، انسانی حقوق، شہری آزادیوں کی حدود، دستوری و قانونی مساوات، پارلیمنٹ اور دستور کی شرعی حیثیت، بنکوں کے ساتھ لین دین، خواتین کے مسائل، خواتین کی بطور جج تعیناتی، ولایت عامہ کی ذمہ داری سونپے، خواتین کے یونیفارم، نقاب، میراث، پسند کی شادی جیسے امور پر بھی اجتہاد کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ان امور پر مسلمانوں میں پائے جانے والے تذبذب کو ختم کیا جاسکے۔ شیخ الازہر کے مطابق انسانی اعضاء کی پیوند کاری، اعضاء عطیہ کرنے، غیر مسلموں کے تہواروں پر انہیں مبارک دینے، فضائی سفر کے دوران حرام باندھنے اور سستی اور کاہلی کو حرام قرار دینے جیسے مسائل پر قرآن وسنت کی روشنی میں امت مسلمہ کو رہنمائی کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ قرآن حکیم میں قیامت تک ہردور کے مسائل کا حل موجود ہے۔ بدلتے وقت کے کچھ مسائل کا حل قرآن اور سنت میں واضح طور پر موجود ہے۔تاہم کچھ ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کے بارے میں واضح ہدایات موجود نہیں۔ ایسی صورت میں علماء کو قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے گوناگوں مسائل کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔شیخ الازہر کی طرف سے امت مسلمہ کو درپیش دور جدید کے جن مسائل کا ذکر کیاگیا ہے۔ اس حوالے سے کافی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ مختلف فرقوں اور مسالک نے اپنے طور پر ان کے حوالے سے فتوے بھی جاری کئے ہیں جس کی وجہ سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید الجھ گئے ہیں۔ دہشت گردی، عسکریت پسندی،کفر کے فتوے جاری کرنا، عوام کو سول نافرمانی اور حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانااورسودی کاروبار دور جدید کے وہ سنگین مسائل ہیں جن کے حوالے سے عالم اسلام میں متفقہ فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے فرقوں کے درمیان منافرت میں اضافہ ہورہا ہے جس سے مجموعی طور پر عالم اسلام کی ساکھ مجروح ہورہی ہے۔ اور دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد، رجعت پسند، ترقی مخالف اور حقوق انسانی کا منکر قرار دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان نفاق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کے مختلف حصوں میں ان کا استحصال ہورہا ہے۔برما کے روہنگیامسلمانوں، کشمیر، فلسطین، قبرص، چیچنیا، عراق، شام اور افغانستان میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اس کی تازہ مثالیں ہیں۔دہشت گردی موجودہ دور میں عالم انسانیت کو درپیش سب سے سنگین مسئلہ ہے لیکن بدقسمتی سے اسے اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑا جارہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں حصہ دار بننے کی پاداش میں پاکستان دو عشروں تک دہشت گردی کا شکار رہا۔ ہماری 50ہزار سے زائد قیمتی جانیں اس آگ کا ایندھن بن گئیں، ہزاروں افراد بم دھماکوں، خود کش حملوں اور دیگر تخریبی کاروائیوں کی وجہ سے زندگی بھر کے لئے معذور ہوگئے اور ملک کو 80ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ستم ظریفی یہ ہے کہ دہشت گردی کرنے والے اور اس کا نشانہ بننے والے دونوں مسلمان تھے۔دین اسلام نے ہی دنیا کو احترام انسانیت کا درس دیا ہے۔ اور آج مسلمانوں کو ہی انسانی حقوق کی پامالی کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ علمائے کرام کو اس مرحلے پر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش جدید چیلنجوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔