خیبر پختونخوا

وزیر اعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کا اجلاس,لاک ڈاؤن کے حوالے سے این سی او سی کے فیصلوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ

آنے والے ہفتہ اور اتوار کے روز پبلک ٹرانسپورٹ کھلی رکھنے کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کا اجلاس جمعرات کے رو ز وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں 8 مئی سے 16 مئی تک لاک ڈاو¿ن کے حوالے سے این سی او سی کے فیصلوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ این سی او سی کی طرف سے دی گئی چند مخصوص استثنیٰ کے علاوہ تمام کاروبار اور سرگرمیاں بند رہیں گی اور جمعتہ الوداع اور عید کی نمازیں مخصوص ایس او پیز کے تحت ادا کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے عید کے دوران احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عید کے دوران ہماری معمولی سی غفلت اور کوتاہی کسی بڑے مسئلے سے دوچار کر سکتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ عید سادگی سے منائیں اور چھٹیاں اپنے گھروں پر گزاریں ، سیاسی قائدین اور منتخب عوامی نمائندے بھی اپنے حجروں میں عوام سے عید ملنے اور دیگر اجتماعات سے گریز کریں۔ کورونا وبا کی حالیہ لہر پر قابو پانے کے لئے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرناہوگا ۔
صوبائی وزراءتیمور سلیم جھگڑا، اکبر ایوب، شہرا م ترکئی ، شوکت یوسفزئی ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش کے علاوہ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں کورونا کیسز کی تازہ ترین صورتحال کے علاوہ 8 مئی سے 16 مئی تک لاک ڈاو¿ن کے حوالے سے این سی او سی کے فیصلے کے نفاذ کیلئے لائحہ عمل پر غور و خوص کیا گیا اور چند اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ این سی او سی کے فیصلے کے مطابق عید کی تعطیلات کے دوران یعنی 8 سے 16 مئی تک صوبے میں لاک ڈاو¿ن ہوگا تاہم ادویات، تندور ، دہی دودھ، فوڈ ٹیک اوے، ہوم ڈیلیوری، یوٹیلیٹی اور ٹیلی کام سروسز کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اسی طرح بیکریاں ، کریانہ اورمٹھائی کی دکانیں شام چھ بجے تک کھلی رہیں گی۔ تیل اور گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کی گاڑیوں کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں عید پر اپنے گھروں کو واپس جانے والے شہریوں کی سہولت کیلئے آنے والے ہفتہ اور اتوار کے روز پبلک ٹرانسپورٹ کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لاک ڈاو¿ن کے دوران صوبہ بھر کے سیاحتی مقامات بند رہیں گے۔ اس دوران سیاحتی مقامات کا رخ کرنے والوں کو نا صرف واپس بھیجا جائے گا بلکہ ان پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ لاک ڈاو¿ن کے دوران روز مرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ بعد ازاں اجلاس کو کورونا کی تازہ صورتحال ، ہسپتالوں کی استعداد ، کورونا ویکسی نیشن اور دیگر امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیاکہ سمارٹ لاک ڈاو¿ن اور دیگر حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پچھلے دو ہفتوں کے دوران کافی بہتری آئی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نئے کیسز کی شرح میں کمی واقع ہورہی ہے۔ اسی طرح مثبت کیسز کی شرح میں بھی بتدریج کمی آرہی ہے تاہم روزانہ کی بنیاد پر شرح اموات میں اضافہ جاری ہے۔ اس وقت صوبے کے بارہ اضلاع میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح دس فیصد سے زائد ہے۔ کورونا ویکسی نیشن کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ ابھی تک صوبے میں تین لاکھ سے زائد افراد ویکسین کی پہلی خوراک لے چکے ہےں، ایک لاکھ سے زائد افراد کو دو خوراکیں دی جاچکی ہے جبکہ سوا لاکھ سے زائد افراد کی ویکسی نیشن مکمل کی جاچکی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر 25 ہزار سے زائد افراد کی ویکسی نیشن کی جارہی ہے جبکہ اگلے مہینے تک روزانہ 60 ہزار افراد کو ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہسپتالوں میں 663 نئے ایچ ڈی یو بیڈز ، 19 آئی سی یو بیڈز اور 455 لو فلو بیڈز کا اضافہ کیا گیاہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔