مضامین

انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اور اپر چترال کے اسٹوڈنٹس…تحریر: سید حمید علی ہاشمی

علم کی حصول انسان کے لیے اُتنا ضروری ہے جتنا کہ جینے کے لیے ہوا، پانی اور خوراک۔ انسان نے اسی علم کی وجہ سے چاند پر اپنا قدم جمایا اور علم ہی کے زریعے سے روزمرہ زندگی کو اپنے لیے آسان بنایا۔

قرآن حکیم میں ارشاد ہے: (اے نبیؐ) ’’ کہہ دیجیے کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہوسکتے ہیں۔ نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہی ہیں۔

اس وقت دنیا میں علم کا سب سے بڑا منبع انٹرنیٹ ہے۔ کہتے ہیں کہ دُنیا چھوٹی ہوتی جارہی ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کرہِ ارض سکڑ رہی ہے، بلکہ اس سے مراد انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی وجہ سے لوگوں کے ایک دوسرے سے بڑھتے ہوئے رابطے ہیں۔ دُنیا کے ہر کونے میں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ٹیلیفون اور دیگر زرائع ایسے ہیں جو انسانی زندگی میں آلا دین کے چراغ کے مانند ناقابلِ یقین حد تک آسانیاں لے کر آئے ہیں۔

گزشتہ دو سالوں میں کورونا کی وبا کی وجہ سے انسانی زندگی متاثر ہوگئی ہے جس میں کاروبار، ہیلتھ سسٹم اور سب سے زیادہ تعلیمی اداروں کو اچھا خاصا نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں دنیا بھر میں تعلیمی اداروں سمیت سارے شعبوں نے اپنے کام انٹرنیٹ پر نمٹانے شروع کیے مگر میں بحثیت ایک طالب علم جانتا ہو کے مجھ پر اس عرصے میں میرے علاقے میں انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے کیا گزرا ہے۔ میں ابھی بھی انہی مشکل مراحل سے گزر رہا ہوں۔

گزشتہ روز میرے یونیورسٹی کے امتحانات تھے۔ انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے میں ایک پرچہ گھر پر نہیں دے سکا اور مجھے شہر جانا پڑا۔ اُس سفر کے دوران میرا وقت اور پیسہ دونوں کا ضیاع ہوگیا۔ میری طرح کتنے اور سٹوڈنٹس ہیں جو اس مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور خصوصاً اپر چترال کے سٹوڈنٹس ایسے ہیں جو خراب انٹرنیٹ کی وجہ سے عید بھی اپنے پیاروں کے ساتھ گھر پر نہیں گزار سکتے۔

پچھلے سال 3G کا ٹینڈر ہوا تھا۔ انتظامیہ ابھی بھی چپ چاپ تماشا دیکھ رہا ہے اور کچھ کرنے کی بجائے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اپنی تمام اپر چترال کے طالب علموں کی طرف سے ڈی سی، اے سی اپر چترال اور دیگر انتظامی افسروں سے گذارش کرتا ہو کہ آپ اس مسئلے کو حل کرے تاکہ مستقبل میں سٹوڈنٹس کو انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مشکلات درپیش نہ ہو اور وہ اپنی آن لائن کلاسز کسی رکاوٹ کے بغیر چترال میں ہی بیٹھ کر لے سکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔