خیبر پختونخوا

،وزیر محمود خان کے زیر صدارت پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے پالیسی بورڈ کا ساتواں اجلاس

پشاور(چترال ایکسپریس)پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے پالیسی بورڈ کا ساتواں اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمود خان کی زیر صدارت جمعہ کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس میں منعقد ہوا جس میں متعدد دیگر فیصلوں کے علاوہ پیڈو کیلئے بزنس ماڈل کی منظوری دے دی گئی ۔ اس بزنس ماڈل کا مقصد صوبے میں توانائی کے منصوبوں کی فنڈنگ کیلئے پیڈو کا صوبائی حکومت پر انحصار کو ختم کرنا اور اسے مالی لحا ظ سے ایک خود کفیل اور منافع بخش ادارہ بنانا ہے ۔ بزنس پلان کے تحت توانائی کے میگا منصوبوں کیلئے فنڈنگ کا بندوبست کرنے کے سلسلے میں پیڈو کیلئے ایک قابل عمل حکمت عملی وضع کی گئی ہے ۔اس بزنس پلان کے مطابق پیڈو دیگر اقدامات کے علاوہ توانائی کے مکمل شدہ منصوبوں سے حاصل ہونے والی منافع کی رقم اگلے چند سالوں تک سرکاری خزانے میں جمع کرنے کی بجائے توانائی کے نئے منصوبوں پرخرچ کر سکے گا۔
ایڈ یشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر، سیکرٹری انرجی اینڈ پاور محمد زبیر، چیف ایگزیکٹیو آفیسر پیڈو نعیم خان کے علاوہ پالیسی بورڈ کے دیگر ممبران نے اجلاس میں شرکت کی ۔ پالیسی بورڈ نے 215 میگاواٹ آسریت۔ کیدام ہائیڈرپاور پراجیکٹ اور496 میگاواٹ لوئرسپات گاہ پاور پراجیکٹ کی تعمیر پر پیشرفت کیلئے پیڈوایوالویشن کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ تعمیراتی کمپنیوں کو این او سیز جار ی کرنے کی مشروط منظوری دیتے ہوئے پیڈو کو اس سلسلے میں تمام قانونی لوازمات کو پورا کرنے اور مروجہ پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔ اجلاس میں پیڈو مینجمنٹ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں خیبرپختونخوا ہائیڈرو اینڈ رینویبل انرجی ڈویویلپمنٹ کیلئے پلاننگ کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کیلئے پیشرفت کی بھی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے صوبے میں جاری توانائی کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو اپنی حکومت کی اہم ترجیحات کا حصہ قرار دیتے ہوئے پیڈو حکام کو ان اہم منصوبوں پر ٹائم لائنز کے مطابق عملی پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔ پیڈو کیلئے بزنس پلان کی منظوری کو ایک اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس سے پیڈو کو نہ صرف مالی لحاظ سے اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے بلکہ ایک منافع بخش ادارہ بنانے میں بھی مدد ملے گی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔