مضامین

عوامی نمائندوں کی ذمہ داریاں…محمد شریف شکیب

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے عیدالفطر کے موقع پر کورونا وباء کے مزید پھیلاو کے خدشے کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں اور منتخب عوامی نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عید کے موقع پر اپنے حلقوں اور حجروں میں لوگوں سے عید ملنے اور دیگر میل جول سے گریز کریں تاکہ لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔وزیر اعلی نے کہا کہ کورونا کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے اور عید کے موقع پر صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، اس عید کے موقع پر ہماری معمولی سی کوتاہی یا غفلت ہمیں کسی بڑی مصیبت سے دوچار کر سکتی ہے انہوں نے عوامی نمائندوں کوکہا کہ وہ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے عوام کو آگہی دینے کے سلسلے میں اپنا اہم کردار ادا کریں۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ کورونا وبا صرف حکومت یا کسی ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی اور اجتماعی مسئلہ ہے جس سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے سیاسی رہنماؤں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ہمارے منتخب عوامی کی قومی،اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وبائی صورتحال میں عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہوں اور ان کے مسائل حل کریں۔ لیکن ہمارے منتخب نمائندوں کی اکثریت پانچ سالوں میں صرف الیکشن سیزن میں ہی عوام کو نظر آتی ہے۔پشاور کے تیرہ منتخب عوامی نمائندوں میں سے صرف کامران بنگش اور جہانداد خان جیسے دو تین ایم پی ایز ایسے ہیں جو اپنے علاقوں کا مہینے میں ایک بار ضروردورہ کرتے ہیں کھلی کچہریاں لگاتے ہیں۔ ان کے دروازے عوام کے لئے کھلے رہتے ہیں لوگوں کی غمی خوشی میں شرکت کرتے ہیں۔ خود کو عوامی مسائل سے باخبر رکھتے ہیں۔ جبکہ 90فیصد نمائندوں کو عوام سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ بعض ایم پی ایزگذشتہ تین سالوں میں ایک بار بھی اپنے حلقہ نیابت میں نظر نہیں آئے۔البتہ ان کے بیانات روز اخبارات میں شائع ہوتے ہیں جن میں وہ عوام کے لئے آسمان سے تارے توڑ کر لانے اور ان کی جھولیاں بھرنے کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں۔ان کے بیانات پڑھ کر انہیں ووٹ دینے والوں کا خون کھول اٹھتا ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان ایسے ممبران اسمبلی کے لئے رول ماڈل ہیں وہ اعلیٰ انتظامی عہدے پر فائز رہنے کے باوجود نہ صرف مہینے میں ایک بار اپنے حلقہ نیابت کا دورہ کرتے ہیں بلکہ پشاور اور صوبے کے دیگر علاقوں کا بھی اچانک دورے کرتے رہتے ہیں عوامی مسائل سے خود کو باخبر رکھتے ہیں۔کبھی تھانوں میں جاکر عوام کے ساتھ پولیس کے برتاؤ کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ کبھی پٹوارخانے میں جاکر سہولیات کا جائزہ لیتے ہیں کبھی ہسپتالوں اور سکولوں کا دورہ کرتے ہیں اور کبھی اراکین اسمبلی سے ملاقات کرکے ان کے حلقوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ بار بار اپنے اراکین اسمبلی کو تلقین کرتے رہتے ہیں کہ وہ عوام سے قریبی رابطہ اور تعلق رکھیں مگر کسی کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔ یہ صورتحال آئندہ انتخابات میں حکمران جماعت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ کیونکہ جس ایم پی اے کو عوام نے اپنے حلقے میں تین سالوں میں ایک بار بھی نہیں دیکھا اسے اگلے پانچ سال کے لئے کیوں ووٹ دیں گے۔کورونا کی موجودہ بحرانی صورتحال میں منتخب عوامی نمائندوں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ اپنے علاقوں میں وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اقدامات کریں۔عوام کے ساتھ بیٹھ کر ان کے دکھوں کا مداوا کریں اگر شہری مسائل حل نہیں کرسکتے تو انہیں تسلی تو دے سکتے ہیں۔اور ایس او پیز پر عمل کرنے کی تقلین تو کرسکتے ہیں۔ اگر اتنا کام بھی نہیں کرسکتے تو انہیں عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے اور اسمبلی میں بیٹھ کر قوم کا وقت اور وسائل ضائع کرنے کا بھی کوئی حق نہیں پہنچتا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔