تازہ ترین

چترال, عید الفطر اور کالاش فیسٹول چلم جوشٹ  منانے کے لئے انتظامیہ نے لوگوں کو چوری چھپے خریداری پر مجبور کردیا ۔ 

چترال ( محکم الدین ) چترال کے لوگ عید الفطر اور کالاش فیسٹول چلم جوشٹ ایسے ماحول میں منانے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔ کہ ان کو کچھ سمجھائی نہیں دے رہا ۔ عید الفطر اور کالاش تہوار چلم جوشٹ سر پر ہیں ۔ لیکن انتظامیہ کی طرف سے لاک ڈاون کی سختی نے جہاں لوگوں کو چوری چھپے خریداری پر مجبور کر دیا ہے ۔ وہاں دکانداروں کو من مانی قیمت وصول کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے ۔ پوشاک سمیت تمام اشیاء کی قیمتوں کو کرونا نے آسمان پر چڑھا دیا ہے ۔ جو کہ نیچے اتر نے کا نام ہی نہیں لیتے ۔ انتظامیہ اور پولیس کی مسلسل گشت اور چھاپوں کی وجہ سے لوگ خوف میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ اور بعض لوگوں کا کہنا ہے۔ کہ کرونا سے اتنا خوف نہیں پھیلا ۔ جتنا انتظامیہ خصوصا پولیس نے دہشت پھیلادی ہے ۔ عید کی نماز کیلئے خطباء کی طرف سے لگے اشتہارات میں ماسک کے استعمال اور نماز کے بعد فوری گھروں کا رخ کرنے اور ایک دوسرے سے ملنے سے احتراز برتنے کی ہدایات دی گئی ہیں ۔ تو دوسری طرف کالاش قبیلے کو بھی اپنی اپنی وادیوں تک محدود رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے ۔ جبکہ بمبوریت اور بریر وادی سے تعلق رکھنے والے کالاش قبیلے کے لوگ رمبور وادی میں چلم جوشٹ فیسٹول کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرتے تھے ۔ اس کے بعد بتدریج یہ فیسٹول دوسرے وادیوں میں منتقل ہوتا تھا ۔ اب انتظامیہ کی طرف سے کسی کو بھی ایک وادی سے دوسری وادی میں جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ کالاش فیسٹول میں شرکت کیلئے آئے ہوئے غیر ملکی اور ملکی مہمان سیاحوں کو بھی وادی سے نکال دیا گیا ہے ۔ جن میں رمبور وادی میں ایک مہینے سے رہائش پذیر کراچی سے تعلق رکھنے والی سیاح خاتون بھی شامل ہے ۔ غیر ملکی سیاح جو چترال پہنچ چکے ہیں ۔ ان کو فیسٹول میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ حا لانکہ حکومت نے غیر ملکی سیاحوں کو مثتثنی قرار دیا ہے ۔ کالاشہ دور میوزیم بمبوریت کے انچارج اکرام حسین نے میڈیا کو بتایا ۔ کہ میوزیم وزٹ کرنے والے سیاحوں کی تعداد صفر تک پہنچ گئی ہے ۔ اور میوزیم بند کردیا گیا ہے ۔ جبکہ اس سے قبل بڑی تعداد میں سیاح وادی میں آتے تھے ۔ اسی طرح وادیوں کے تمام ہوٹلوں کو بند کر دیا گیا ہے ۔ جس سے سیاحت سے وابستہ لوگوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ وادی میں لوگوں کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنے کیلئے بڑی تعداد میں پولیس کی ڈیوٹی لگا دی گئی ہے ۔ اور وادی بمبوریت میں ہوم گیسٹ ہاوسز جنہیں غیرملکی مہمانوں کیلئے بک کئے گئےتھے ۔ ابھی تک مہمانوں کا ا نتظار کیا جا رہا ہے ۔ درین اثنا کالاش فیسٹول چلم جوشٹ کے افتتاحی رسومات کی آدائیگی کا آج آغاز ہو چکا ہے ۔ کالاش پیپلز ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹیو لوک رحمت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا ۔ کہ تہوار میں گھروں کو سجانے کیلئے مخصوص زرد رنگ کے جنگلی پھول (بشا) چننے کا عمل شروع ہو چکاہے ۔ جبکہ کراکاڑ کےمعروف کالاش قاضی آج سوگوار خاندانوں میں جا کر سوگ ختم کرنے کی رسم اداکریں گے ۔ دودھ تقسیم کرنے کی رسم کی ادائیگی کے بعد چودہ مئی کو فیسٹول کے باقاعدہ تقریبات منعقد کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ڈپٹی کمشنر چترال اور ڈی پی او کی طرف سے کرونا احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدر آمد کی ہدایات ہیں ۔ جس پر کمیونٹی کے لوگ عمل کر رہے ہیں ۔ تاہم کرونا کے خوف اور انتظامیہ کی پابندیوں کے سائے میں یہ فیسٹول انتہائی پھیکا اور بے مزہ ہوتا نظر آرہا ہے ۔ درین اثنا کالاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے معاون خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا برائے اقلیتی امور وزیر زادہ بیرونی دورے سے واپسی کے بعد کالاش فیسٹول میں شرکت کیلئے گذشتہ روز آبائی گاوں رمبور پہنچ چکے ہیں ۔ جو آج وادی بمبوریت میں فیسٹول تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے جائیں گے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔