تازہ ترین

کورونا پابندیوں کے سایے میں کالاش معروف تہوار چلم جوشٹ اتوار کے روز ڈھول کی تھاپ پر پھیکے اور تھیکے رقص کے ساتھ اختتام پذیر

چترال (محکم الدین) کورونا پابندیوں کے سایے میں کالاش معروف تہوار چلم جوشٹ اتوار کے روز ڈھول کی تھاپ پر پھیکے اور تھیکے رقص کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ یہ دوسرا سال ہے کہ مسلم اور کالاش کمیونٹی دونوں اپنے مذہبی تہوار حکومتی پابندیوں کے اندر منانے پر مجبور ہیں۔ کالاش تہوار چلم جوشٹ امسال انتہائی پابندیوں کی زد میں رہا کسی بھی غیر ملکی اور ملکی سیاح کو فیسٹول میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ حالانکہ غیر ملکی سیاحوں کیلئے اثتثنیٰ کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ حالیہ فیسٹول میں پابندیوں کے باوجود کمشنر ملا کنڈ ڈویژن اور ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اور سیکیورٹی کا جائزہ لیا پولیس ریسٹ ہاوس بمبوریت میں ڈی آئی جی کیلئے کلچرل شو کا اہتمام کیا گیا۔ فیسٹول میں ضلعی انتظامیہ کے کئی مہمان بھی شریک ہوئے۔ فیسٹول جہاں انتہائی سکیورٹی میں منایا گیا ایس او پیز پر عملدر آمد جزوی طور پر رہی۔ ماسک تو پہن لئے گئے لیکن سماجی فاصلہ رکھنے کا عمل نہ ہو سکا۔ کیونکہ کالاش تہوار میں اجتماعی رقص کے دوران مردو خواتین کا گلے اورہاتھوں میں ہاتھ ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔ فیسٹول سیاحوں کی عدم شرکت کی وجہ سے انتہائی پھیکا رہا۔ اس لئے اس کا اختتام بھی عام حالات کی نسبت پہلے کردیا گیا۔ کالاش فیسٹول چلم جوشٹ کالاش قبیلے کا معروف تہوار ہے۔ جو سردیوں کے طویل اور تکلیف دہ حالات کے گزر جانے اور مال مویشیوں کے گرمائی چراگاہوں کی طرف لے جانے کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ جس کا آغاز مالوش (قربان گاہ) میں بکروں کی قربانی دے کر کی جاتی ہے۔ اس تہوار میں پھولوں کا دن، دودھ تقسیم کرنیکا دن، سوگ ختم کرنے کی رسم خصوصی طور پر اہمیت کی حامل ہیں۔ اور ہر رسم کی ادائیگی ایک باقاعدہ ترتیب سے انجام دی جاتی ہے۔ کالاش قبیلے کا یہ تہوار دیکھنے کیلئے ہر سال ہزاروں ملکی اور غیر ملکی سیاح چترال آتے ہیں اور کئی دنوں تک وادیوں میں رہ کر فیسٹول کا لطف اٹھاتے ہیں۔ لیکن گذشتہ سال سے کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں چترال میں شندور فیسٹول، کاغلشٹ فیسٹول، چوموس اور دیگر فیسٹول متاثر ہوئے ہیں۔ وہاں جوشی فیسٹول بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اور یہ سیاحتی وادیاں سیاحوں پر پابندی کی وجہ سے روز گار اور آمدنی سے مکمل طور پر محروم ہو چکے ہیں۔ جبکہ حکومت کی طرف سے بھی ان متاثرین کی سپورٹ بھی نہیں کی جارہی۔ مقامی ہوٹل ایسوسی ایشن کو اس بات پر بھی اعتراض ہے۔ کہ کارونا وائرس کے پھیلنے کے خدشے کا اظہار کرکے ہوٹلوں پر پابندی لگا ان کا روزگار تو چھین لیا جاتا ہے۔ لیکن سرکاری حکام خود حکومتی پابندیوں کا احترام نہیں کرتے اور رشتے داروں دوستوں سمیت فیسٹول میں شریک ہوتے ہیں۔ جس کی مثال حالیہ فیسٹول کی صورت میں موجود ہے۔
درین اثناء وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیرزادہ نے کہاکہ کالاش مردوزن نے تہوار کے دوران ایس اوپیز پر عملدرآمد کو یقینی بناکر ذمہ داری کا ثبوت دیااور فیس ماسک کے ساتھ سنیٹائزر استعمال کرنے کے بعد مناسب سماجی فاصلے کو بھی برقرار رکھا۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ اقلیتی امور اور اوقاف نے فیسٹول کے انعقاد میں تینوں وادیوں میں کالاش کمیونٹی کو مدد فراہم کی جبکہ ماتم کے مواقع پر بڑے پیمانے پر کھانا پکانے کے لئے بڑے سائز کے دیگ سمیت دوسرے برتن بھی اس موقع پر تینوں وادیوں میں کمیونٹی کے حوالے کئے گئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔