تازہ ترین

حکومت پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 300میگا واٹ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر میں پیش رفت کے لئے فنانسنگ ایگر یمنٹ پر دستخط 

اسلام آباد(چترال ایکسپریس)300 میگا واٹ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر میں اہم پیشرفت کے طور پر حکومت پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان فنانسنگ ایگر یمنٹ پر دستخط کئے گئے جس کے تحت ایشیائی ترقیاتی بینک اس منصوبے کی تعمیر کیلئے آسان شرائط پر 300 ملین امریکی ڈالر کا قرضہ فراہم کرے گا۔ اس قرضے کی واپسی کی مدت 27 سال ہو گی ۔ معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب جمعہ کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور وفاقی وزیر برائے اقتصادی اُمور ڈویژن عمر ایوب تقریب کے مہمان خصوصی تھے جن کی موجودگی میں سیکرٹری اقتصادی اُمور ڈویژن نور احمد اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے قائم مقام کنٹری ڈائریکٹرCleo Kawawaki نے معاہدے پر دستخط کئے۔
بالاکوٹ ہائیڈروپاور پراجیکٹ ضلع مانسہرہ میں دریائے کنہار پر تعمیر کیا جائے گااور یہ منصوبہ 85 ارب روپے کی لاگت سے چھ سالوں کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے فنانسنگ ایگریمنٹ پر دستخط کو اس اہم منصوبے کی تعمیر کے سلسلے میں ایک اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہاکہ عنقریب قومی اہمیت کے حامل اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا اور توقع ہے کہ وزیراعظم عمران خان خود اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس منصوبے کی تعمیر کے دوران روزگار کے 1200 سے زائد مواقع پیدا ہوں گے ۔ اُنہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت صوبے میں موجود پن بجلی پیدا کرنے کے مواقع سے بھر پور استفادہ کرکے توانائی کی کمی کو پورا کرنے ، صوبے کی معیشت کو مضبوط کرنے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے مربوط حکمت عملی کے تحت ٹھوس اقدامات اُٹھارہی ہے ۔ اپنی گفتگو میں وفاقی وزیر عمرا یوب نے کہاکہ اس منصوبے کی تکمیل سے ملک میں انرجی سکیورٹی کو یقینی بنانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی اور صارفین کو سستی اور ماحول دوست بجلی فراہم ہو سکے گی۔ اُنہوںنے کہاکہ یہ منصوبہ سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا کرکے موسمیاتی تبدیلیوں سے سامنے آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے موجود ہ حکومت کے وژن کا اہم حصہ ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔