تازہ ترین

وزیراعلیٰ محمودخان کا بھیس بدل کر ڈپٹی کمشنر آفس پشاورکا اچانک دورہ،رشوت لینے پرلائسنس برانچ کے انچارج سمیت برانچ کے سارے عملے کو معطل کردیا

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے اچانک دوروں اور چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پیر کے روز بھیس بدل کر ڈپٹی کمشنر آفس پشاورکا اچانک دورہ کیا اور ایک عام شہری کی طرح لائسنس برانچ میں جا کر عام شہریوں کے ساتھ قطار میں کھڑے ہو گئے اور معاملات کا بذات خود جائزہ لیا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے لائسنس برانچ کے عملے کو عوام سے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ لائسنس برانچ کا عملہ اسلحہ لائسنس کیلئے مقررہ 350 روپے کی بجائے لوگوں سے 1000 روپے فی لائسنس وصول کر رہا تھا، جس پر وزیراعلیٰ نے لائسنس برانچ کے انچارج سمیت برانچ کے سارے عملے کو معطل کرکے معاملے کی انکوائری کرکے تین دنوں کے اندر اندر رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کئے۔ معطل ہونے والے اہلکاروں میں لائسنس برانچ کے انچارج زرداد خان کے علاوہ شاہد خان، کلیم اللہ ، عادل خان، نورمحمد ، مصطفی اور ہمامقصود شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے فرائض سے غفلت برتنے پر لائسنس برانچ میں سیکیورٹی پرمامور سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی معطل کرنے کے احکامات جاری کئے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ڈی سی آفس کے انتظامی معاملات ،سیکیورٹی اور کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو معاملات بہتر بنانے کی وارننگ جاری کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ کسی بھی سرکاری محکمے اورادارے میں بدعنوانی کسی صورت برداشت نہیںکی جائے گی ، بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور انہیں نشان عبرت بنایا جائیگا۔ محمود خان نے کہا کہ شہریوں کو شفاف انداز میں خدمات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے، اس سلسلے میں کسی بھی ادارے یا فرد کی طرف سے غفلت کی کوئی گنجائش موجود نہیں ۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ اچانک دوروں اور چھاپوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھےں گے اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق معاملات کا خود جائزہ لیں گے اور کسی بھی سطح پر غفلت یا کوتاہی کی صورت میں متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔