مضامین

دھڑکنوں کی زبان …”یہ آدمی پنشن پہ جارہا ہے “…محمد جاوید حیات

“یہ آدمی پنشن پہ جارہا ہے “یہ آدمی اگر امریکہ ،برطانیہ ،چائنا ،کوریا یا جرمنی میں پیدا ہوتا تو کبھی پنشن پہ نہ جاتا کیونکہ گلیلیو ،آین سٹاین ،ایزک نیوٹن ،اوپن ہایمر ،مادام کیوری ڈاکٹر عبد السلام ،سٹیفن ہاکنگ وغیرہ کبھی پنشن پہ نہیں گئے۔ دنیا کو ان کی ضرورت تھی وہ دنیا کو اور انسانی زندگی کو کچھ عطا کر گئے۔۔یہ آدمی بھی فزکس پڑھتے کسی یونیورسٹی میں پروفیسر ہوتے ریسرچ سکالر ہوتے پھر تھیوری پیش کرتے ایجادات اس سے منسوب ہوتیں یہ زندگی کا سفر کارآمد گزارتے اور کبھی پنشن پہ نہ جاتے اور کوئ اسکو جانے نہیں دیتا۔لیکن یہ چترال جیسے قید خانے میں پیدا ہوئے اس کی دلچسپی طبیعات اور ریاضی میں تھی اس کی اس دلچسپی کو کسی نے محسوس تک نہیں کیا اس کی تعلیم پر توجہ ہی کوئی نہیں ہوئی اس پر میڈیکل کے مضامین بیالوجی وغیرہ تھوپے گئے اس نے بمشکل ایف ایس سی کر لیا اور پھر غم روزگار نے بے دست و پا کر دیا تو ٹیچر بنا اب چار جون 2021ء کو پنشن پہ جا رہا ہے ۔میری نظر میں یہ ٹیلنٹ اس منحوس جعرافیہ نے کھا لیا ۔۔میرے نزدیک اس کے محکمے نے اس ہیرے کو ضائع کر لیا میں برملا کہتا ہوں کہ اس ہیرے کو سمجھنے کی کبھی کوشش نہ کی گئی۔اس ٹیلنٹ نے ،4 جون 1961ء کو گاوں کوغذی میں اس زمانے کے مشہوراستاد فتح الرحمن کے ہاں آنکھ کھولی ۔استاد فتح الرحمن نے اس کی واجبی سی تعلیم و تربیت کی آگے یہ استاد بن گئے ۔اس کا نام عزیز الرحمن رکھا گیا ۔عزیز الرحمن فزکس کی دنیا کا بڑا نام ہوتا اگر اس کو موقع ملتا ۔اس نے جیومٹریکل ڈًراینگ پڑھی اور ڈی ایم بن گیا ۔انھوں نے اس زمانے میں کوغذی میں مینی ہایڈرالک پاور اسٹیشن بنایا مینی ریڈیو اسٹشن بنایا اردو کیلیگرافی میں مہارت حاصل کی کتابت کے فن میں کمال حاصل کیا اردو انگریزی پڑھی دونوں زبانوں پر عبور حاصل کرلیا لیکن یہ “ٹیلنٹ “محکمہ تعلیم میں ڈی ایم ہی رہا ۔ان کو ان ڈی ایموں کے ساتھ تولا گیا جن کو شاید اپنے سبجکٹ کا بھی پتہ نہ ہو ۔یہ ٹیلنٹ بہ یک وقت ریڈیو میکینک ہر قسم کے جنیریٹر میکینک آٹوموبایل مکینیک اور الیکٹرک میکینک رہا ۔یہ اپنے سارے کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیتا ہے لیکن یہ ڈی ایم ہی رہا ۔ان کو فزیکس کی کسی بڑی کلاس میں لے جاو ان سے کسی بھی موضوع پر لیکچر دلاو سٹوڈنس ہکا بکا رہ جائیں گے ان کو لیٹریچر کی کلاس میں لے جاو ان سے ادب کے کسی موضوع پر لیکچر دلاو بچے تڑپ کے رہ جائیں گے ۔قلم اس کے ہاتھ میں دے دو بورڈ پہ کاغذ پہ کچھ لکھواو اور دیکھتے رہ جاو ۔ان سے کہو انگریزی اور اردو میں کوئی ڈرافٹ لکھو اور تعجب کا شکار ہو جاو ۔ان سے سیاسیات کے بارے میں پوچھو دنیا کا جعرافیہ پوچھو کہ کونسا ملک کہاں ہے ان سے پاکستان کی تاریخ پوچھو اور اس living history کی علمیت کو گیچ کرو لیکن کاش وہ محکمہ تعلیم میں ڈی ایم ہی رہا ۔اس کو شہر کےکسی مشہور تعلیمی ادارے میں ٹرانسفر نہیں کیا گیا اس کو کبھی اپر چترال کے دور افتادہ علاقوں میں بھیجا گیا کبھی لویر چترال کے ان سکولوں میں جہان وہ بے بال و پر رہا اگر یہ ایسے ملک میں ہوتا جہان ٹیلینٹ کی قدر ہوتی ہے تو کم از کم اس کو شہر کے کسی مشہور تعلیمی ادارے میں رکھا جاتا اس سے فایدہ اٹھایا جاتا ۔وہ کبھی ہایر سکنڈری دروش سینیٹیل ماڈل ہائی سکول چترال میں ٹرانسفر نہیں ہوا سروس کے آخری دنوں میں ہر طرح کی کوشش کی کہ گھر کے قریب کسی سکول میں اس کا تبادلہ ہو جائے لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز سنتا کون ہے ۔ چار طویل سال اس کو گھر در سے دور بمبوریت میں رکھا گیا ۔اب یہ بندہ پنشن پہ جا رہا ہے ۔۔افسوس یہ ہے کہ چترال کے محکمہ تعلیم کو پھر عزیز الرحمن جیسا ٹیلنٹ نہیں ملے گا یہ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔ میں عزیز الرحمن کا ہمیشہ مداح رہا اور چار سال تک بمبوریت میں ایک کمرے میں ایک ساتھ رہنے کا شرف بھی حاصل ہوا یہ میری خوش قسمتی تھی ۔ اس کے پاس جو علمیت میرے نزدیک ہے کسی کو اندازہ نہیں لیکن مجھے اس قوم اس محکمے کی بے حسی اور ناقدری کا جو افسوس رہا وہ بھلایا نہیں جا سکے گا ۔۔عزیز الرحمن ایک خوش باش یار باش اور حسن اخلاق کے مالک انسان ہیں وہ مہذب محترم اور ملنسار ہیں وہ ضرورت مند طلباء کےخاموش مددگار تھے ہمارے زریعے ان کی مدد کرتے ان کی عزت نفس کا خیال رکھتے ۔ساتھیوں سے رویہ مشفقانہ ہوتا دریا دل اور سخی تھے ۔اپنی ذات میں سادھا اور مصنوعیت سے پاک تھے کبھی اپنی اہلیت نہ جتاتے کوئی چیز لکھنی ہو تو انکار نہ کرتے ۔ہمارے ساتھ ٹیبل ٹینس والی بال کھیلتے ۔دسترخوان میں کھانا چننے پانی دینے وغیرہ میں پہل کرتے ۔اگر کسی ساتھی کی بائیک خراب ہوتی تو گویا کسی میکینک کا رول ادا کرتے گھنٹوں شاقہ سے اس کو ٹھیک کرتے ۔ہم مختلف موضوعات میں ان سے سوال پوچھتے اور اپنی علمی پیاس بجھاتے ۔پڑھاکو تھے جو کتاب ان کے معیار کی ہوتی پڑھ کر ہی دم لیتے ۔۔شاگردوں سے والہانہ محبت تھی بچوں یعنی شاگردوں کے بھی انکھوں کے تارے تھے شاگرد پروانوں کی طرح دوڑ کر ان تک پہنچتے ۔ان کو اپنے بچوں اور خاندان سے والہانہ محبت ہے۔وہ اپنی علمی تشنگی کو محسوس کرتے ہویے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔آپ کا بیٹا اویس میٹرک کے امتحان میں پورے چترال میں اول رہے اب ایبٹ آباد میڈیکل کالج میں سال اول کے طالب علم ہیں ۔آپ کی بچیاں پشاور یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کر رہی ہیں ۔آپ قلم کی دھنی ہیں اگر کسی موضوع پر تقریر لکھنی ہو تو اس کی مثال نہیں ملتی ۔اردو زبان پر آپ کو مکمل عبور ہے انہوں نے میری ایک کتاب کی پروف ریڈنگ کی اور مجھ پر اپنی مہارت کا سکہ بیٹھایا۔آپ کے پاس بلا کی تنقیدی حس ہے بڑے بڑے شہ پاروں آپ کے معیار کے نہیں ہوتے ۔احمد فراز کو بڑا شاعر مانتے ہیں ۔

عزیز الرحمن ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں اللہ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔۔ایسے نگینے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔۔ان کی صحبت نعمت ہے اس نابعہ روزگار شخصیت سے جدائی میرے لیے محرومی کے سوا کچھ نہیں ۔ لیکن یہ بندہ “پنشن پہ جا رہا ہے “۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔