تازہ ترین

وزیر اعلیٰ محمود خان کا ڈی آئی خان موٹروے منصوبے کی ٹیکنیکل اور فنانشل فیزیبلٹی کی منظوری پر زور

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے پشاور ڈی آئی خان موٹروے کے مجوزہ منصوبے کو صوبے اور خصوصاً جنوبی اضلاع کی پائیدار بنیادوں پر ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت کسی بھی قیمت پر اس منصوبے پر عملدرآمد کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اس اہم منصوبے پر اسی دور حکومت میں عملی کام کا آغاز کرنے کے لئے پر عزم ہے اور اس منصوبے کی فنڈنگ کے لئے تمام دستیاب آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ وہ گزشتہ روز بذریعہ ویڈیو لنک پشاور ڈی آئی خان موٹروے منصوبے سے متعلق منعقدہ ایک اجلاس میں شرکت کر رہے تھے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے علاوہ، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
وزیراعلیٰ نے سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے آنے والے اجلاس میں پشاور ڈی آئی خان موٹروے منصوبے کی ٹیکنیکل اور فنانشل فیزیبلٹی کی منظوری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ فورم سے باقاعدہ منظوری کے بعد صوبائی حکومت اس منصوبے کی فنڈنگ کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے گی اور درکار فنڈنگ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے تمام دستیاب ذرائع استعمال میں لائے گی۔ یاد رہے کہ پراونشل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی پہلے ہی سے پشاور ڈی آئی خان موٹروے منصوبے کی منظوری دے چکی ہے جسے حتمی منظوری کے لئے سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کو ارسال کیا گیا ہے۔ اجلاس میں سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی سے مذکورہ منصوبے کی منظوری پر اصولی اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام کو اگلے دس دنوں میں منصوبے کی ٹیکنیکل، فنانشل اور کمرشل فیزیبلٹی کی جزئیات طے کرنے کی ہدایت کی گئی۔وفاقی وزیر اسد عمر نے وزیر اعلی کو یقین دلایا کہ وفاقی حکومت اس منصوبے پر عملدرآمد کے لئے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ اجلاس میں نئے مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل کرنے کے لئے صوبائی حکومت کے مجوزہ منصوبوں سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نئے مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں صوبائی حکومت کے تجویز کردہ ترجیحی منصوبوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔