مضامین

مر کے بھی چین نہ پایا…محمد شریف شکیب

دنیا کی آبادی ساڑھے چھ ارب سے تجاوز کرگئی ہے۔ زندہ لوگ جیسے تیسے زندگی کے دن گذار رہے ہیں۔ مرنے والوں کے لئے کفن دفن کا بندوبست کرنا ہر گذرتے دن کے ساتھ مشکل ہوتا جارہا ہے۔ جب لوگوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا مشکل ہوجائے تو وہ مردوں کے اخراجات کیسے اٹھائیں۔ ہموارزمین سڑکوں، کارخانوں، رہائشی عمارتوں، بازاروں کی تعمیر کے علاوہ سیلاب، سیم و تھور، دریاؤں کے کٹاؤ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کم ہوتی جارہی ہے جبکہ آبادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ برازیل کے شہر سین ٹوس میں مردوں کو دفنانے کے مسئلے کا انوکھا حل نکالاگیا ہے۔وہاں ایک بلند و بالا عمارت کی تعمیر کی گئی ہے جو اب دنیا کی سب سے اونچی قبرستانی عمارت بن چکی ہے اور اس کا اندراج گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی ہو چکا ہے۔ یہ ایک پہاڑ کے دامن میں 108 میٹر بلند 32 منزلہ عمارت ہے۔ اسے کرائے کا قبرستان کہاجاتا ہے۔کثیر منزلہ قبرستان کے احاطے میں لان، پارکنگ، چرچ، باغ،ایک آبشار اور ریسٹورنٹ بھی موجود ہے۔ 32 منزلہ عمارت میں کئی بلاکس ہیں اور ہر بلاک میں 150 مقبرے اور ہر مقبرے میں چھ قبریں بنی ہوئی ہیں۔ یہاں بہ یک وقت میں 25 ہزارمیتوں کورکھنے کی گنجائش ہے۔ یہاں تین سال تک لاشیں کرائے پہ رکھی جاتی ہیں پھران کی باقیات ورثاء کے حوالے کی جاتے ہیں تاکہ حسب منشا کسی اور جگہ دفن یا پھر ضائع کرسکیں۔ کچھ قبریں مستقل بھی خریدی جاتی ہیں جن کی قیمت تقریباً پچاس لاکھ پاکستانی روپے ہے جبکہ تین سال کیلئے کرایہ درجہ بندی کے لحاظ سے پانچ لاکھ سے بیس لاکھ روپے تک ہے۔ قبر جتنی اونچائی پر ہوگی قیمت اسی قدر زیادہ ہوگی۔ امیر لوگ اپنی زندگی میں ہی اپنی قبر بکنگ کروا تے ہیں۔کرائے کا یہ قبرستان ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔ سیاحتی مقام پر واقع اس قبرستان کو دیکھنے کے لئے سالانہ لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔ذوق کا یہ مشہور شعر زبان زدعام ہے کہ ”اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے۔ مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے“ہمارے حکمرانوں کا کہنا ہے کہ ابدی سکون تو صرف قبر میں ملتی ہے۔ قبر کو آخری آرام گاہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہر انسان کی دنیاوی زندگی کی آخری منزل ہے۔ قبر میں سکون کرنے کی سہولت ہر انسان کو نصیب نہیں ہوتی۔ بعض لوگ اپنے مردوں کو جلاکر راکھ کرتے ہیں۔ کچھ لوگ لاشوں کو دریا میں بہادیتے ہیں تاہم دنیا کی اکثرقومیں اپنے مردوں کو زمین میں دفن کرتے ہیں۔ زمین کی تنگی کے باعث بعض ممالک میں پندرہ بیس سال بعد قبرستانوں کو بلڈوزر سے ہموار کیا جاتا ہے۔ ہماری حکومت دستیاب زمین سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے کثیر منزلہ عمارتیں تعمیر کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ بعید نہیں کہ آنے والے سالوں میں یہاں بھی برازیل کی طرزپر کثیر منزلہ قبرستانی عمارتیں تعمیر ہونے لگیں۔تاکہ لوگ اسے ذاتی کاروبار کے طور پر شروع کریں منافع اور ثواب بھی کمائیں اور دوسرے لوگوں کو بھی روزگار فراہم کریں۔ تاہم کثیر منزلہ قبرستانی عمارتیں تعمیر کرنے کا فائدہ بھی دولت مند لوگ ہی اٹھا سکتے ہیں۔ کرائے پر قبر لینے کی غریب لوگ استطاعت نہیں رکھتے۔ اور چونکہ یہ متمول لوگوں کے مفاد کا منصوبہ ہے اس لئے غالب امکان یہی ہے کہ ہمارے ہاں بھی اس نوعیت کے منصوبے شروع ہوجائیں۔ کیونکہ اس ملک کے وسائل پر صرف امراء ہی اپنا حق جتاتے ہیں۔ حکمرانوں کا کہنا ہے کہ تمام تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں نہیں دی جاسکتیں۔اس لئے حکومت لوگوں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کر رہی ہے تا کہ وہ اپنا کاروبار شروع کرسکیں اور دوسروں کے لئے بھی روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ قبرستانی عمارت بنانا منافع بخش کاروبار ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں کسی تجربے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی اور لوگوں کو مرنے سے کوئی نہیں روک سکتا اس لئے اس کاروبار کے پھلنے پھولنے کے وسیع امکانات ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔