تازہ ترین

صوبے کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو حکومت کے گڈ گورننس اسٹریٹیجی پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا

تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا حل اور انہیں معیاری شہری خدمات کی فراہمی ان کی دہلیز پر یقینی ہو سکے۔وزیراعلیٰ محمود خان

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے گڈ گورننس اسٹریٹیجی کو موجودہ حکومت اور وزیراعظم عمران خان کی ترجیحات کاسب سے اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو حکومت کے گڈ گورننس اسٹریٹیجی پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا حل اور انہیں معیاری شہری خدمات کی فراہمی ان کی دہلیز پر یقینی ہو سکے۔ کورونا کی صورتحال اور رمضان کے مہینے میں عوام کو سستی اشیا کی فراہمی کے لئے سستے بازاروں کے قیام کے سلسلے میں انتظامیہ کے کردار کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ حکومت کی گڈ گورننس اسٹریٹیجی پر عملدرآمد، عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے بھی اسی طرح کی کارکردگی کا مظاہر کرے۔ ناجائز تجاوزات کے خلاف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر بنوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہوں نے دوسرے اضلاع کی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ بھی غیر قانونی تجاوزات کے خلاف اس طرح کی کاروائیاں عمل میں لائیں۔
وہ بدھ کے روز صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز اور سینئرممبر بورڈ آف ریونیو سید ظفر علی شاہ کے علاوہ متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی حکومت کی گڈ گورننس اسٹریٹیجی پر عملدرآمد کے سلسلے میں اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سٹیٹیزن پورٹل پر عوامی شکایات کے حل کے سلسلے میں خیبرپختونخوا حکومت دیگر صوبوں میں سب سے آگے ہے اور صوبے میں سٹیزن پورٹل پر درج ہونے والی عوامی شکایات کے حل اور عوام کے اطمینان کی شرح دیگر صوبوں کی نسبت سب سے زیاد ہ ہے۔ مزید بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت خواتین، معذوروں اور اقلیتوں کے لئے کھلی کچہریاں منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کرنے والا پہلا صوبہ ہے۔ گزشتہ تین مہینوں کے دوران صوبے میں مجموعی طور پر 270 آن لائن کھلی کچہریاں منعقد کی گئیں، خصوصی صفائی مہم کے تحت 3290مختلف عوامی مقامات کی صفائی کی گئی جبکہ صوبے میں 1972 غیر ضروری اسپیڈ بریکرزختم کئے گئے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے دفاتر کے دروازے عوام کے لئے ہروقت کھلے رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر آنے والا ہر عام آدمی مطمئن ہو کر واپس جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنر ز اپنے دفاتر سے باہر نکلیں ، عوام میں جائیں، ان کے مسائل معلوم کریں اور انہیں موقع پر حل کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹوار نظام اور نچلی سطح پر ورکس ڈیپارٹمنٹس کے بارے میں عوامی تاثر کچھ ٹھیک نہیں جسے ٹھیک کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی پٹوار کے آفس میں کوئی بھی غلط کام ہوگا تو اس کا ذمہ دار متعلقہ ڈپٹی کمشنر ہوگا اور اگر کسی تحصیلدار کے آفس میں کوئی غلط کام ہوگا تو اس کا ذمہ دار متعلقہ کمشنر ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پٹواریوں اور تحصیلداروں کے تبادلوں میں منتخب عوامی نمائندوں کا کوئی کردار نہیں ہوگا اور نہ ہی ان کی سفارش پر کوئی پٹواری یا تحصیلدار تعینات ہوگا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر ز کو اپنے دفاتر میں کئی سالوں سے ایک ہی عہدے پر تعینات عملے کا تبادلہ کرکے رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کورونا وبا کی وجہ سے متاثر ہونے والی کھلی کچہریوں اور تحصیل درباروں کا سلسلہ پھر سے شروع کرنے ان میں مقامی منتخب عوامی نمائندوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈپٹی کمشنرز کے اپنے عہدوں پر رہنے کا دارومدار صرف اور صرف ان کی کارکردگی پر منحصر ہوگا۔ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کوایک اہم مسئلہ قراردیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اشیائے خوردنوش خصوصاً دودھ میں ملاوٹ کرنے والوں پر کڑی نظر رکھی جائے، ملاوٹ کرنے والوں کی دوکانیں فوری طور پر سیل کی جائیں اور تب تک نہ کھولی جائیں جب تک وہ ملاوٹ نہ کرنے کی ضمانت نہ دیں۔ سیاحتی علاقوں میں پولی تھین بیگز کے استعمال کونا قابل قبول قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سیاحتی علاقوں اور بڑے بڑے شہروں میں پولی تھین بیگز کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم چلائے جائیں۔وزیراعلیٰ نے صوبے میں غیر قانونی کان کنی کے مو¿ثر روک تھام کے لئے مستقل بنیادوں پر کاروائیاں کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ضم اضلاع میں بعض ترقیاتی کاموں کے معیار کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انہوں نے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی کاموں کے معیار پر خصوصی نظر رکھیں اور ضم اضلاع میں مقامی سطح کے مسائل حل کرنے کے لئے Dispute Resolution Alternate کا نظام جلد فعال کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائیں۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت کی گڈ گورننس اسٹریٹیجی کے تحت اٹھائے گئے عوامی مفاد کے اقدامات کے بارے میں عوام کی آگہی دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ حکام کو اس سلسلے ضروری اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔